ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی گزشتہ بارہ گھنٹوں میں مزید سنگین مرحلے میں داخل ہو گئی 0

مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کی کشیدگی میں شدت

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی سے خلیجی خطے میں خطرناک فضائی اور میزائل کارروائیاں، امریکی اڈے ہائی الرٹ

فیصل آباد: ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی گزشتہ بارہ گھنٹوں میں مزید سنگین مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں محدود مگر ہدفی فضائی اور میزائل کارروائیوں نے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، دفاعی ذرائع کے مطابق اسرائیل نے ایران کے اندر مخصوص عسکری اہداف کو نشانہ بنایا جن میں میزائل انفراسٹرکچر اور مبینہ ڈرون تنصیبات شامل بتائی جا رہی ہیں جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا نے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی تصدیق کی ہے تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، ایران نے ان کارروائیوں کے جواب میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں اور اگر حملے جاری رہے تو ردعمل مزید وسیع ہو سکتا ہے، اسرائیلی دفاعی نظام نے متعدد میزائل فضا میں ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے، ابتدائی رپورٹس کے مطابق عراق اور شام میں امریکی تنصیبات کے قریب راکٹ یا ڈرون سرگرمی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں تاہم خلیجی خطے میں موجود امریکی اڈوں کو بڑے پیمانے کے نقصان کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی، امریکی افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور اضافی نگرانی شروع کر دی گئی ہے، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد عرب ریاستوں نے اپنی فضائی نگرانی سخت کر دی ہے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے جبکہ اپنی خودمختاری کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا ہے، امریکی محکمہ دفاع کے مطابق خطے میں موجود افواج اور تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور اگر امریکی مفادات کو نشانہ بنایا گیا تو فیصلہ کن ردعمل دیا جائے گا جبکہ واشنگٹن نے اسرائیل کے دفاع کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے، اقوام متحدہ میں ہنگامی مشاورت جاری ہے اور عالمی طاقتوں نے فریقین سے تحمل اور سفارتی حل کی اپیل کی ہے جبکہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے جو ممکنہ وسیع علاقائی تصادم کے خدشات کی عکاسی کرتا ہے، اہم سوال یہ ہے کہ کیا مکمل جنگ شروع ہو چکی ہے تو موجودہ صورتحال محدود مگر خطرناک عسکری کارروائیوں پر مشتمل ہے تاہم وسیع جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے، سوال یہ ہے کہ کس نے کس پر حملہ کیا تو اسرائیل نے ایران کے اندر اہداف کو نشانہ بنایا اور ایران نے میزائل و ڈرون حملوں سے جواب دیا، سوال یہ ہے کہ کیا عرب ممالک جنگ میں شامل ہو رہے ہیں تو براہ راست نہیں مگر دفاعی تیاریوں میں اضافہ کیا گیا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا امریکی اڈوں کو نقصان پہنچا تو بڑے پیمانے کے نقصان کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی تاہم خطرے کی سطح بلند ہے۔
ان سوالات کے جواب میں
انٹرنیشنل افیئرز کے ماہر افتخار احمد کے مطابق موجودہ صورتحال روایتی ایران اسرائیل کشیدگی سے آگے بڑھ کر ایک وسیع جغرافیائی طاقت آزمائی میں تبدیل ہو رہی ہے اور اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست حملوں کا دائرہ وسیع ہوا یا امریکی مفادات کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا تو امریکہ کی عملی عسکری شمولیت میں اضافہ ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں خلیج، عراق اور شام تک محاذ پھیلنے کا امکان ہے، اس مرحلے پر سفارتی کوششیں ہی خطے کو مکمل جنگ سے بچا سکتی ہیں بصورت دیگر توانائی کی ترسیل، عالمی تجارت اور علاقائی استحکام شدید متاثر ہو سکتا ہے۔

مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری بین الاقوامی خبریں دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں