(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
دنیا اس وقت جس غیر یقینی دور سے گزر رہی ہے اس میں بعض واقعات ایسے ہیں جو محض حادثہ نہیں لگتے بلکہ خطے کی بڑی تبدیلیوں کی بنیاد محسوس ہوتے ہیں، خصوصاً وہ واقعات جو امریکہ، افغانستان، تاجکستان اور پاکستان کے درمیان ایک نئی کشیدگی کو جنم دے رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے قریب ہونے والا حملہ جس میں مبینہ طور پر افغانستان سے تعلق رکھنے والے شخص کا نام سامنے آیا، تاجکستان کی سرحد پر افغانستان کے اندر سے ہونے والی فائرنگ اور دراندازی، اور پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی نے سوالات کو جنم دیا ہے کہ آیا واقعی حالات خود بخود اس نہج تک پہنچے ہیں یا کہیں کچھ طاقتیں بڑی اسٹریٹجی کے تحت ان واقعات کو ترتیب دے رہی ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد امریکہ نے بظاہر اپنی دلچسپی کم کر لی تھی، لیکن افغانستان کبھی بھی عالمی سیاست کے لئے غیر اہم نہیں رہا۔ جس ملک میں عالمی طاقتیں مسلسل بیس سال تک رہی ہوں وہاں سے اچانک واپسی نہ صرف ایک خلا چھوڑتی ہے بلکہ مختلف ریاستی و غیر ریاستی عناصر کو متحرک کرتی ہے۔ اس خلا کا فائدہ اٹھانے والے کئی گروہ سامنے آ چکے ہیں جو افغانستان کے اندر مختلف نظریاتی، لسانی اور سیاسی تقسیم کو بڑھا رہے ہیں۔ ایسے میں اگر امریکہ کے قریب حساس ترین مقام کے پاس کوئی حملہ ایسا فرد کرے جس کا تعلق افغانستان سے جڑا ہو تو امریکی پالیسی ساز فوراً اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ افغانستان سے نکلنے کے بعد پیدا ہونے والا سکیورٹی خلا اب امریکہ کے اندر اثر انداز ہو رہا ہے۔ اسی لئے امریکہ میں یہ بحث دوبارہ زور پکڑ رہی ہے کہ آیا افغانستان پر نظر رکھے بغیر امریکہ کی اندرونی سلامتی ممکن ہے؟ امریکہ میں موجود دفاعی، انٹیلیجنس اور سیاسی حلقوں کا ایک حصہ طویل عرصے سے یہ مؤقف رکھتا آیا ہے کہ افغانستان عالمی شدت پسندوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ بن سکتا ہے اور عالمی طاقت کے طور پر امریکہ ایسے خطرے کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ دوسری طرف تاجکستان پر افغانستان سے ہونے والے حملوں نے اس خدشے کو مزید حقیقت کے قریب کر دیا ہے۔ تاجکستان صرف ایک چھوٹا وسط ایشیائی ملک نہیں بلکہ روس کا مضبوط اتحادی اور چین کے معاشی منصوبوں کا کلیدی دروازہ ہے۔ تاجکستان کی سرحد پر کسی بھی عسکری سرگرمی کا مطلب ہے کہ خطے کی دو بڑی طاقتیں، یعنی چین اور روس، بھی براہ راست متاثر ہوں گی۔ تاجکستان ایک ایسا ملک ہے جو افغانستان سے جغرافیائی طور پر جڑا ہوا ہے، اور افغانستان میں عدم استحکام وسط ایشیا کے پورے خطے کو متاثر کر سکتا ہے۔ امریکہ ان حالات کو ہمیشہ اپنی اسٹریٹجی کے لئے موقع سمجھتا ہے کیونکہ جہاں کہیں بھی عدم استحکام ہو وہاں عالمی طاقتیں اپنی مداخلت کو آسانی سے جواز بنا سکتی ہیں۔ تاجکستان پر حملے نے ثابت کیا کہ افغانستان کی سرحدیں طالبان حکومت کے قابو میں نہیں ہیں۔ جب کسی ریاست کی حدود اس کے اپنے کنٹرول میں نہ رہیں تو عالمی طاقتیں اسے عالمی خطرہ قرار دے کر براہ راست یا بالواسطہ مداخلت کا راستہ اختیار کر سکتی ہیں۔ یہی صورتحال پاکستان کے ساتھ سرحد پر بھی سامنے آ رہی ہے۔ افغانستان سے پاکستان کی سرحد پر مسلسل فائرنگ، پاکستانی اہلکاروں پر حملے، شدت پسند گروہوں کی دراندازی، اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے الزامات نے پاکستان کو بھی مجبور کر دیا ہے کہ وہ خطے کی نئی حقیقتوں کا سامنا کرے۔ پاکستان کی سیکورٹی پالیسی طویل عرصے سے افغانستان سے جڑی ہوئی ہے، اور خطے کے بدلتے حالات میں پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ اگر تین مختلف ممالک یعنی پاکستان، تاجکستان اور امریکہ کو افغانستان کے اندر سے ایک جیسے خطرات محسوس ہوں تو یہ خطے میں بڑی عسکری تبدیلیوں کے لئے ماحول تیار کر سکتا ہے۔ ان حالات میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ واقعی افغانستان میں دوبارہ مداخلت کا سوچ رہا ہے؟ اگر مکمل زمینی چڑھائی کی بات کی جائے تو مستقبل قریب میں ایسا ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے کیونکہ امریکی عوام اور معیشت طویل جنگوں کا بوجھ مزید برداشت نہیں کر سکتے۔ لیکن امریکہ کے پاس ہمیشہ ایک درمیانہ راستہ موجود رہتا ہے، جو کہ محدود آپریشنز، ڈرون حملے، فضائی کارروائیاں اور ٹارگٹڈ اسٹرائکس ہیں۔ امریکہ اسی طریقے سے شام، عراق، صومالیہ اور یمن میں کارروائیاں کرتا رہا ہے۔ افغانستان میں بھی امریکہ اس طرز کی واپسی کا منصوبہ بنا سکتا ہے، جس میں زمینی قبضے یا طویل قیام کی ضرورت نہیں ہوتی۔ امریکہ کی ایک اور بڑی ضرورت اسٹریٹیجک ایئربیس ہے۔ بیس بیس سال تک قائم رہنے کے بعد بیگرام ایئربیس امریکہ کی خطے میں سب سے قیمتی عسکری جگہ تھی۔ اس ایئربیس سے امریکہ چین، ایران، روس اور وسط ایشیا کے کسی بھی مقام پر چند منٹوں میں کارروائی کر سکتا تھا۔ بیگرام سے محرومی امریکی اسٹریٹجی کے لئے ایک بڑا نقصان تھی۔ اس لئے امریکہ میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ افغانستان کے اندر نہیں تو کم از کم افغانستان کے آس پاس کسی ملک میں دوبارہ بیس قائم کیا جائے تاکہ خطے سے اٹھنے والے خطرات پر امریکہ براہ راست کارروائی کر سکے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ آیا یہ حالات محض اتفاقی طور پر پیدا ہوئے ہیں یا انہیں بڑی طاقتوں نے اپنے مقاصد کے لئے ترتیب دیا ہے؟ اس کا جواب ایک درمیانہ حقیقت ہے۔ افغانستان کی اندرونی صورتحال واقعی اس قدر غیر مستحکم ہے کہ مختلف گروہ اپنی کارروائیاں خود بھی کر سکتے ہیں۔ طالبان کی حکومت مکمل طور پر متحد نہیں، مختلف دھڑے مختلف علاقوں میں اپنے فیصلے کرتے ہیں، سرحدوں کا کنٹرول کمزور ہے اور اقتصادی بحران نے شدت پسند تنظیموں کو بھرتی کے لئے سازگار ماحول دے رکھا ہے۔ ایسے حالات خود بخود بھی خطے میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف عالمی طاقتیں ایسے حالات کو ہمیشہ اپنے مفادات کے مطابق استعمال کرتی ہیں۔ کسی ایک واقعے سے جنگ نہیں بنتی، مگر مسلسل ایسے واقعات کا ہونا ہمیشہ کسی بڑی اسٹریٹجی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر امریکہ یہ محسوس کرے کہ افغانستان سے عالمی شدت پسندی دوبارہ اٹھ رہی ہے، وسط ایشیا میں اس کی غیر موجودگی روس اور چین کے حق میں جا رہی ہے، اور پاکستان اور تاجکستان کی سرحدی صورتحال خطے کو غیر مستحکم کر رہی ہے، تو امریکہ محدود مگر جارحانہ انداز میں دوبارہ افغان سرزمین پر کارروائیاں شروع کر سکتا ہے۔ امریکہ نہ تو مکمل قبضہ چاہتا ہے اور نہ طویل جنگ، لیکن وہ کبھی بھی ایسی ریاست کو نظر انداز نہیں کرے گا جو اس کی سلامتی کے لئے دوبارہ خطرہ بننے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان پر محدود فضائی آپریشنز، ڈرون حملوں کی بحالی، خفیہ کارروائیوں میں اضافہ، اور چند مقامات پر خصوصی فورسز کی واپسی مستقبل قریب میں ممکنات کی فہرست میں شامل ہیں۔ خطے کے لئے اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر امریکہ نے افغانستان میں دوبارہ مداخلت شروع کی تو اس کے اثرات پاکستان پر براہ راست پڑیں گے۔ افغان سرحدی علاقوں میں سرگرم گروہ پاکستان میں بھی کارروائیاں تیز کر سکتے ہیں۔ طالبان حکومت مزید دباؤ کا شکار ہو گی، جس سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔ تاجکستان اور وسط ایشیا میں بھی غیر یقینی بڑھے گی، جس سے چین کے معاشی منصوبوں کو نقصان پہنچے گا۔ بھارت اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ نتیجتاً خطہ دوبارہ اسی عدم استحکام کی طرف جا سکتا ہے جس سے بچنے کے لئے گزشتہ بیس سالوں میں بے شمار قربانیاں دی گئیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو حالات ایسی سمت بڑھ رہے ہیں کہ امریکہ افغانستان پر دوبارہ بڑے پیمانے پر حملہ تو نہیں کرے گا لیکن محدود عسکری واپسی، فضائی ضربوں اور خفیہ کارروائیوں کا امکان بہت مضبوط ہے۔ حالات خود بھی بگڑ رہے ہیں اور کسی حد تک بنائے بھی جا رہے ہیں، اور دونوں صورتحالیں مل کر خطے کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل رہی ہیں جس کا مرکز ایک بار پھر افغانستان ہی بن سکتا ہے۔
