افغانستان کا داخلی توازن 0

افغانستان کا داخلی توازن اور شمالی علاقےتقدیر کی لپیٹ: داخلی دراڑیں اور خطے کی امیدیں

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)

افغانستان میں قندھار، کابل اور حقانی نیٹ ورک کے درمیان پالیسی اختلافات اور طاقت کی کشمکش نمایاں

افغانستان ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ اقتدار پر مکمل کنٹرول کے باوجود استحکام اب بھی ایک چیلنج ہے۔ افغان طالبان نے 2021 میں ملک کا نظم سنبھالا۔ اقتدار سنبھالنا اور ریاست کو مستحکم کرنا دو مختلف مراحل ہیں۔ آج افغانستان میں بظاہر ایک مرکزی حکومت موجود ہے۔ مگر پالیسی سازی کے اندرونی اختلافات واضح ہوتے جا رہے ہیں۔ فیصلہ سازی کا اصل مرکز جنوبی شہر قندھار سمجھا جاتا ہے۔ یہاں سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کا اثر و رسوخ غالب ہے۔ ان کے احکامات کو حتمی حیثیت حاصل ہے۔ کابل انتظامی اور سفارتی مرکز کے طور پر کام کر رہا ہے۔ کابل میں موجود حکومتی عناصر عالمی روابط کو مکمل طور پر منقطع نہیں کرنا چاہتے۔ یہی فرق اندرونی پالیسی اختلاف کی بنیاد بنتا ہے۔ قندھار کا مؤقف نظریاتی سختی پر مبنی ہے۔ کابل میں موجود کچھ حلقے عملی ضرورتوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ خواتین کی تعلیم کا مسئلہ اس اختلاف کی نمایاں مثال ہے۔ ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی نے عالمی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا۔ کابل کے بعض حکام نے نرمی کی خواہش ظاہر کی۔ مگر حتمی فیصلہ قندھار سے آیا۔ یہ صورتحال داخلی طاقت کے توازن کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی تناظر میں سراج الدین حقانی کے زیر اثر حقانی نیٹ ورک کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ گروپ مشرقی افغانستان خصوصاً خوست صوبہ اور سرحدی علاقوں میں طاقتور رہا ہے۔ حقانی نیٹ ورک ماضی میں پاکستان سے روابط کے الزامات کے سبب متنازع رہا۔ 2021 کے بعد یہ افغان ریاستی مشینری کا حصہ بن گیا ہے۔ حقانی دھڑا عملی مسائل میں نسبتاً لچک دکھانے کا خواہاں ہے۔ اس میں سیکیورٹی انتظام، صحت کے معاملات اور داخلی نظم شامل ہیں۔ خواتین تعلیم کے حق میں نرم رویہ اسی وجہ سے دکھائی دیتا ہے۔ مگر نظریاتی اور حتمی اختیار اب بھی قندھار میں مرتکز ہے۔ شمالی افغانستان تاریخی طور پر تعلیم اور ترقی کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں ماضی میں شمالی اتحاد کا اثر موجود رہا اور سوویت دور میں محمد نجیب اللہ کی حکومت نے شہری ڈھانچے اور تعلیم پر انحصار کیا۔ آج بھی مزار شریف، بدخشاں، پنج شیر اور دیگر شمالی اضلاع میں تعلیم یافتہ طبقات موجود ہیں اور خواتین تعلیم کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں۔ یہ علاقے پشاور کے نزدیک ہونے کی وجہ سے برصغیر کی تہذیبی اور علمی روایات سے زیادہ متاثر رہے ہیں۔ شمالی علاقوں میں پڑھے لکھے وکلاء، سائنسدان اور دانشور پیدا ہوئے، یہی افغانستان کا روشن چہرہ سمجھا جاتا ہے۔ ان علاقوں میں ہزارہ اور دیگر اقلیتی قبائل بھی آباد ہیں جو خواتین کی تعلیم اور سماجی حقوق کے حق میں ہیں۔ اس طرح شمالی افغانستان کا رویہ قندھار اور جنوب سے مختلف ہے جہاں قدامت پسندی اور سخت گیر مذہبی تعبیر غالب ہے۔ حقانی نیٹ ورک نے بھی نسبتا جدید ہونے کی وجہ سے خواتین تعلیم کے معاملے میں جزوی لچک دکھائی ہے، مثلاً گائنی اور حاملہ خواتین کی صحت کے شعبے میں خواتین کی خدمات کو قبول کیا گیا۔ مگر قندھار اور جنوبی افغانستان کے سخت گیر مولوی اور جنگجو نظریاتی اور عملی طور پر قدامت پسند ہیں۔ ان کا معاشرتی رویہ اور سوچ اب بھی قرون وسطی کی تعلیم اور روایات پر مبنی ہے۔ خواتین کی عزت اور آزادی کے حوالے سے ان کا نقطہ نظر انتہائی محدود ہے اور وہ اسے بطور پراڈکٹ یا معیشتی سودے کی طرح دیکھتے ہیں۔ ماضی میں امریکی فوج کے ساتھ تعلقات اور تاوان کے معاملات کی تاریخی کہانیاں بھی اسی قدامت پسندانہ سوچ کا مظہر رہی ہیں۔ اس گروپ کے کمانڈرز اپنی مقامی طاقت، مسلح افراد اور منشیات کے ذرائع سے اپنا کنٹرول قائم رکھتے ہیں۔ افغانستان کی غیر رسمی معیشت میں شمالی اور جنوبی دھڑے مختلف سطح پر شامل ہیں۔ شمال میں تعلیم یافتہ طبقات اور کچھ مقامی لیبارٹریز افیڈرین سے میتھ تیار کرتے ہیں اور مقامی سطح پر استعمال یا محدود اسمگلنگ کرتے ہیں، جبکہ قندھار گروپ بڑی مقدار میں پیداوار، اسمگلنگ اور بیرونی منافع پر مرکوز ہے۔ قندھار کے رہنما دبئی، جاپان اور دیگر عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے راستے استعمال کرتے ہیں اور معاشی طاقت کے لیے بیرونی مالیاتی روابط قائم کرتے ہیں۔ یہ داخلی معیشتی بُعد دونوں گروہوں کے درمیان کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کابل گروپ، حقانی نیٹ ورک اور قندھار گروپ کے درمیان تعلقات میں اعتماد کی کمی ہے۔ ہر گروہ اپنے وسائل، اسلحہ اور علاقوں پر کنٹرول چاہتا ہے۔ معاشی دباؤ نے یہ اختلافات بڑھا دیے ہیں۔

معاشی دباؤ، سرحدی کشیدگی اور داخلی دھڑوں کی کشمکش

افغانستان میں داخلی دراڑیں صرف نظریاتی نہیں بلکہ معاشی اور عسکری بُعد بھی رکھتی ہیں۔ شمالی اور جنوبی دھڑے اپنے وسائل، اسلحہ اور مقامی کنٹرول کے لیے مسلسل مقابلے میں ہیں۔ شمالی افغانستان میں تعلیم یافتہ طبقات، وکلاء، سائنسدان اور شہری عناصر محدود عسکری طاقت کے باوجود داخلی پالیسی اور معاشی سرگرمیوں میں اثر رکھتے ہیں۔ مزار شریف، بدخشاں، پنج شیر اور دیگر شمالی اضلاع میں موجود قبائل خواتین کی تعلیم اور سماجی اصلاحات کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔ اس کے برعکس قندھار اور جنوبی افغانستان کے سخت گیر مولوی اور جنگجو معاشرتی روایات اور قدیم مذہبی تعبیر پر سختی سے قائم ہیں۔ ان کا معاشی ماخذ بڑی حد تک غیر قانونی سرگرمیوں، اسمگلنگ اور منشیات کی پیداوار پر منحصر ہے۔ حقانی نیٹ ورک مشرقی افغانستان خصوصاً خوست اور سرحدی علاقوں میں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ یہ گروپ پاکستان سے تعلقات کے الزامات کے باوجود افغانستان کے داخلی سیاسی ڈھانچے کا حصہ بن گیا ہے۔ حقانی نیٹ ورک عملی مسائل میں جزوی لچک دکھانے کا خواہاں ہے، خصوصاً صحت اور خواتین کے شعبوں میں، مگر نظریاتی اور عسکری اختیار قندھار میں مرکوز ہے۔ داخلی معیشت میں اختلافات شمالی اور جنوبی گروہوں کے درمیان کشیدگی پیدا کر رہے ہیں۔ شمالی گروپ محدود پیداوار اور مقامی استعمال پر مرکوز ہے، جبکہ قندھار گروپ عالمی منڈیوں تک رسائی رکھتا ہے اور دبئی، جاپان اور دیگر ممالک میں اسمگلنگ سے منافع حاصل کرتا ہے۔ معاشی دباؤ نے داخلی دراڑوں کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ کابل حکومت کی کوششیں شمالی اتحاد کے باقیات اور مقامی قبائل کی حمایت حاصل کرنے کے لیے جاری ہیں، مگر قندھار گروپ اپنے اثر و رسوخ اور عسکری طاقت کے ذریعے شمالی علاقوں میں مداخلت کر رہا ہے۔
پاکستان کے ساتھ سرحدی تعلقات بھی داخلی استحکام پر اثر ڈال رہے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے حملے اور سرحدی جھڑپیں داخلی دھڑوں کی کشمکش کو پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ ٹورخم اور چمن جیسے سرحدی مقامات کشیدگی کے لیے مشہور ہیں، یہاں مقامی اور بین الاقوامی تعلقات کی پیچیدگیاں واضح ہیں۔ افغانستان میں داخلی دھڑوں اور سرحدی کشیدگی کا ملاپ ملکی مستقبل کو غیر یقینی بنا رہا ہے۔ شمالی دھڑے شمالی اتحاد کے باقیات، ہزارہ قبائل اور دیگر مزاحمتی عناصر کے ذریعے اثر ڈال سکتے ہیں، جبکہ جنوبی اور قندھار گروپ اپنی عسکری طاقت اور اسمگلنگ کے ذرائع کے ذریعے معاشی کنٹرول قائم رکھتا ہے۔ افغانستان کی غیر رسمی معیشت میں افیون، ایفیڈرین اور دیگر منشیات شامل ہیں اور ہر گروہ کسی نہ کسی سطح پر اس کا حصہ دار ہے۔ معاشی دباؤ اور عسکری طاقت کے ملاپ نے داخلی دراڑیں مزید بڑھا دی ہیں۔ شمال اور جنوب کے گروہ ایک دوسرے کے لیے خطرہ ہیں اور داخلی بیانیہ میں اعتماد کی کمی ہے۔ معاشی اور عسکری اختلافات نے سیاسی عمل کو محدود کر دیا ہے اور طالبان حکومت کی بقا معاشی اور سیاسی اصلاحات پر منحصر ہے۔
افغانستان کے مستقبل کے لیے تین ممکنہ منظرنامے سامنے ہیں۔ پہلا، طالبان حکومت داخلی اختلافات کے باوجود متحد اور مرکزیت برقرار رکھے۔ دوسرا، معاشی دباؤ کے تحت تدریجی نرمی اور سیاسی شمولیت بڑھے۔ تیسرا، کسی بڑے واقعے کے نتیجے میں مسلح تصادم شروع ہو جائے اور شمالی مزاحمتی عناصر بھی سرگرم ہوں۔ پہلا منظرنامہ سب سے حقیقت پسندانہ اور خطے کے امن کے لیے کم خطرناک ہے۔ دوسرا امکان مشکل مگر ممکن ہے۔ تیسرا منظرنامہ انتہائی خطرناک اور تباہ کن ہے۔ داخلی اختلافات، شمالی اور جنوبی دھڑوں کی کشمکش اور بین الاقوامی دباؤ افغانستان کے مستقبل کی سمت متعین کریں گے۔ داخلی استحکام کے لیے سیاسی اصلاحات، معاشی بحالی اور علاقائی تعاون ناگزیر ہیں۔ اگر یہ امتزاج پیدا ہو جائے تو افغانستان ایک بار پھر خطے میں پل کا کردار ادا کر سکتا ہے، اگر نہ ہو تو داخلی دراڑیں سرحدوں سے باہر اثر ڈال سکتی ہیں اور خطے میں نئی کشیدگی جنم لے سکتی ہیں۔
افغانستان میں شمالی اور جنوبی دھڑوں کی عسکری سرگرمیوں کے تجزیے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شمالی گروپ محدود وسائل اور مقامی حمایت کے ساتھ داخلی پالیسی میں اثرانداز ہوتا ہے، جبکہ قندھار اور حقانی گروپ عالمی منڈیوں تک رسائی رکھتے ہیں اور بڑے پیمانے پر منافع کمانے میں کامیاب ہیں۔ معاشی دباؤ داخلی دراڑوں کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ شمال میں پڑھے لکھے افراد اور خواتین کی تعلیم پر زور دینے والے گروپ معاشرتی اصلاحات کی کوشش کرتے ہیں، جنوبی گروہ قدامت پسندانہ رویے کے حامل ہیں۔ یہ کشمکش طالبان حکومت کے اندر پالیسی سازی اور اثر و رسوخ کے توازن کو متاثر کرتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات داخلی کشیدگی میں مزید پیچیدگی پیدا کر رہے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے حملے اور سرحدی جھڑپیں داخلی دھڑوں کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔ داخلی اور سرحدی مسائل کا ملاپ افغانستان کے مستقبل کے لیے بنیادی چیلنج ہے۔ تین منظرنامے موجود ہیں۔ پہلا، طالبان حکومت داخلی اختلافات کے باوجود متحد اور مرکزیت برقرار رکھے۔ دوسرا، معاشی دباؤ کے تحت تدریجی نرمی اور سیاسی شمولیت بڑھے۔ تیسرا، کسی بڑے واقعے کے نتیجے میں مسلح تصادم شروع ہو جائے اور شمالی مزاحمتی عناصر بھی سرگرم ہوں۔ پہلا منظرنامہ حقیقت پسندانہ اور کم خطرناک ہے۔ دوسرا امکان مشکل مگر ممکن ہے۔ تیسرا منظرنامہ انتہائی خطرناک اور تباہ کن ہے۔ داخلی اختلافات، شمالی اور جنوبی دھڑوں کی کشمکش اور بین الاقوامی دباؤ افغانستان کے مستقبل کی سمت متعین کریں گے۔ افغانستان کے استحکام کے لیے سیاسی اصلاحات، معاشی بحالی اور علاقائی تعاون ناگزیر ہیں۔ اگر یہ امتزاج پیدا ہو جائے تو افغانستان ایک بار پھر خطے میں پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر نہ ہو تو داخلی دراڑیں سرحدوں سے باہر تک اثر ڈال سکتی ہیں اور خطے میں نئی کشیدگی جنم لے سکتی ہیں۔ افغانستان کا مستقبل نظریاتی نہیں بلکہ ریاستی بقا، معاشی استحکام اور داخلی توازن پر منحصر ہے۔

افغانستان کے استحکام کے لیے حل، علاقائی تعاون اور مستقبل کی حکمت عملی

افغانستان کی داخلی دراڑیں صرف سیاسی یا نظریاتی اختلافات سے پیدا نہیں ہوئی ہیں بلکہ معاشی، عسکری اور جغرافیائی عوامل بھی اس میں شامل ہیں۔ داخلی اختلافات شمالی اور جنوبی دھڑوں کے درمیان مسلسل کشمکش کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ شمالی افغانستان میں موجود پڑھے لکھے شہری اور قبائلی عناصر محدود عسکری طاقت کے باوجود داخلی پالیسی، سماجی اصلاحات اور معاشی سرگرمیوں میں اثر ڈال سکتے ہیں۔ مزار شریف، بدخشاں، پنج شیر اور دیگر شمالی اضلاع میں موجود قبائل خواتین کی تعلیم اور سماجی اصلاحات کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں۔ جنوبی افغانستان میں مولوی اور سخت گیر جنگجو اپنی قدامت پسندانہ سوچ اور عسکری طاقت کے ذریعے معاشرتی نظام اور داخلی نظم پر مکمل کنٹرول چاہتے ہیں۔ قندھار گروپ اور حقانی نیٹ ورک بڑے پیمانے پر معاشی سرگرمیوں، غیر قانونی اسمگلنگ اور منشیات کی پیداوار کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ کو مضبوط کرتے ہیں۔ افغانستان کی غیر رسمی معیشت میں افیون، ایفیڈرین اور دیگر منشیات شامل ہیں۔ شمالی گروپ محدود پیداوار اور مقامی فروخت پر مرکوز ہے جبکہ قندھار گروپ عالمی منڈیوں تک رسائی رکھتا ہے اور دبئی، جاپان اور دیگر ممالک میں اسمگلنگ سے منافع حاصل کرتا ہے۔ معاشی دباؤ داخلی دراڑوں کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ کابل حکومت کی کوششیں شمالی اتحاد کے باقیات اور مقامی قبائل کی حمایت حاصل کرنے کے لیے جاری ہیں۔ داخلی بیانیہ اور سیاسی عمل میں اعتماد کی کمی داخلی کشیدگی بڑھاتی ہے۔ طالبان حکومت کی بقا معاشی اور سیاسی اصلاحات پر منحصر ہے۔ افغانستان کے مستقبل کے لیے تین ممکنہ منظرنامے موجود ہیں۔ پہلا، طالبان حکومت داخلی اختلافات کے باوجود متحد اور مرکزیت برقرار رکھے۔ دوسرا، معاشی دباؤ کے تحت تدریجی نرمی اور سیاسی شمولیت بڑھے۔ تیسرا، کسی بڑے واقعے کے نتیجے میں مسلح تصادم شروع ہو جائے اور شمالی مزاحمتی عناصر بھی سرگرم ہوں۔ پہلا منظرنامہ حقیقت پسندانہ اور کم خطرناک ہے۔ دوسرا امکان مشکل مگر ممکن ہے۔ تیسرا منظرنامہ انتہائی خطرناک اور تباہ کن ہے۔ داخلی اختلافات، شمالی اور جنوبی دھڑوں کی کشمکش اور بین الاقوامی دباؤ افغانستان کے مستقبل کی سمت متعین کریں گے۔
افغانستان میں استحکام کے لیے تین بڑے اقدامات ضروری ہیں۔ پہلا، داخلی سیاسی اصلاحات اور طاقت کے مراکز کے درمیان اعتماد کی بحالی۔ یہ شمالی اور جنوبی دھڑوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور حکومت کے مرکزیت کے لیے ناگزیر ہے۔ دوسرا، معاشی اصلاحات اور بنیادی سہولیات کی بحالی تاکہ بھوک، بیروزگاری اور غربت کے دباؤ سے داخلی دراڑیں مزید گہری نہ ہوں۔ تیسرا، علاقائی تعاون، خاص طور پر پاکستان، ایران، ترکمانستان اور چین کے ساتھ معاشی اور سیاسی رابطے، تاکہ افغانستان مکمل تنہائی کی طرف نہ دھکیل جائے اور بیرونی منڈیوں تک رسائی اور انسانی امداد جاری رہے۔ شمالی اور جنوبی دھڑوں کے درمیان موجود اختلافات اگر حل نہ ہوئے تو سرحدی کشیدگی اور بین الاقوامی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ داخلی اور خارجی سطح پر افغانستان کے استحکام کے لیے معاشی وسائل کا منصفانہ تقسیم، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی ناگزیر ہے۔ معاشی اصلاحات اور بین الاقوامی تعاون کے بغیر طالبان حکومت محدود مدت میں داخلی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔افغانستان میں داخلی دراڑیں معاشی اور عسکری بُعد کے ساتھ جغرافیائی اور قبائلی پہلو سے بھی گہری ہیں۔ شمالی علاقے تعلیم، ترقی اور شہری خدمات میں زیادہ آگے ہیں، جبکہ جنوبی علاقے قدامت پسندانہ معاشرت اور عسکری طاقت میں مضبوط ہیں۔ داخلی کشیدگی اور سرحدی جھڑپیں افغانستان کے مستقبل کی سمت متعین کرتی ہیں۔ طالبان حکومت کا داخلی توازن برقرار رکھنے کا مقصد نہ صرف حکومت کی بقا بلکہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے بھی اہم ہے۔ معاشی اور سیاسی اصلاحات کے بغیر داخلی دراڑیں مزید بڑھ سکتی ہیں اور داخلی کشیدگی بیرونی سرحدوں تک اثر ڈال سکتی ہے۔ افغانستان کا مستقبل نظریاتی غلبے سے نہیں بلکہ ریاستی بقا، معاشی استحکام اور داخلی توازن پر منحصر ہے۔ داخلی دراڑیں، شمال اور جنوب کی کشمکش، معاشی دباؤ، سرحدی کشیدگی اور بین الاقوامی دباؤ افغانستان کے مستقبل کے بنیادی عوامل ہیں۔
افغانستان میں استحکام کے لیے حکمت عملی میں تین بنیادی عناصر شامل ہونے چاہئیں۔ پہلا، داخلی طاقتوں کے درمیان اعتماد اور اصلاحات کی بحالی تاکہ حکومت مرکزیت برقرار رکھ سکے۔ دوسرا، معاشی استحکام اور بنیادی سہولیات کی بحالی تاکہ بیروزگاری اور غربت سے داخلی دراڑیں مزید گہری نہ ہوں۔ تیسرا، علاقائی تعاون اور بین الاقوامی امداد تاکہ افغانستان مکمل تنہائی اور اقتصادی بحران کا شکار نہ ہو۔ شمالی اور جنوبی دھڑوں کے درمیان کشیدگی اور سرحدی جھڑپیں افغانستان کے مستقبل کے لیے چیلنج ہیں۔ طالبان حکومت کے اندرونی اختلافات اور معاشی دباؤ ملک کو داخلی عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ داخلی استحکام، معاشی بحالی اور علاقائی تعاون کے امتزاج سے افغانستان ایک بار پھر خطے میں پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
افغانستان کا داخلی توازن اور مستقبل کی حکمت عملی ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ شمالی دھڑوں کے تعلیم یافتہ اور اصلاح پسند عناصر داخلی پالیسی، معاشی اصلاحات اور سماجی ترقی کے لیے اہم ہیں۔ جنوبی اور قندھار گروپ عسکری طاقت اور غیر قانونی معاشی سرگرمیوں کے ذریعے اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ داخلی دراڑیں، معاشی دباؤ اور سرحدی کشیدگی افغانستان کے مستقبل کی سمت متعین کرتی ہیں۔ تین ممکنہ منظرنامے موجود ہیں، پہلا حقیقت پسندانہ اور کم خطرناک، دوسرا مشکل مگر ممکن، تیسرا انتہائی خطرناک اور تباہ کن۔ داخلی اور خارجی سطح پر افغانستان کے استحکام کے لیے اصلاحات، معاشی بحالی، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی ضروری ہیں۔ اگر یہ امتزاج پیدا ہو جائے تو افغانستان ایک بار پھر خطے میں پل کا کردار ادا کر سکتا ہے، اگر نہ ہوا تو داخلی دراڑیں سرحدوں سے باہر اثر ڈال سکتی ہیں اور خطے میں نئی کشیدگی پیدا کر سکتی ہیں۔افغانستان کی داخلی کشیدگی، معاشی اور عسکری عوامل، شمالی اور جنوبی دھڑوں کی کشمکش، سرحدی جھڑپیں اور بین الاقوامی دباؤ ملا کر ملک کے مستقبل کا نقشہ مرتب کرتے ہیں۔ طالبان حکومت کا مقصد داخلی استحکام، معاشی بحالی اور علاقائی تعاون کے امتزاج سے ملک کو ایک مستحکم ریاست بنانا ہے۔ شمالی دھڑوں کی تعلیم یافتہ اور ترقی پسند آبادی اصلاحات کے لیے آواز بلند کرتی ہے، جبکہ جنوبی دھڑے عسکری طاقت اور غیر قانونی سرگرمیوں کے ذریعے اثر و رسوخ قائم رکھتے ہیں۔ داخلی دراڑیں، معاشی دباؤ اور سرحدی کشیدگی افغانستان کے مستقبل کی سمت متعین کریں گے۔ طالبان حکومت کے اندرونی اختلافات اور معاشی دباؤ ملک کو داخلی عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ داخلی استحکام، معاشی بحالی اور علاقائی تعاون کے امتزاج سے افغانستان ایک بار پھر خطے میں پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں