(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
آبنائے ہرمز میں الیکٹرانک جنگ نے بحری ریڈار سسٹمز کو الجھا دیا، جعلی جہازوں کے سگنلز نے عالمی سلامتی کے خدشات بڑھا دیے
تیل کی عالمی تجارت کی شہ رگ تصور کی جانے والی آبنائے ہرمز میں ایک نئی اور پراسرار قسم کی جنگ شروع ہو گئی ہے جو روایتی میزائلوں اور جنگی جہازوں سے نہیں بلکہ برقی لہروں اور سیٹلائٹ سگنلز کے ذریعے لڑی جا رہی ہے اور اس جدید ترین الیکٹرانک جنگ نے عالمی ماہرین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ بلومبرگ کی رپورٹس اور میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق اس علاقے میں الیکٹرانک مداخلت کی ایک ایسی طاقتور لہر دوڑ گئی ہے جس نے جدید ترین بحری ریڈاروں اور ٹریکنگ سسٹمز کو بھی بے وقوف بنا دیا ہے جس کے نتیجے میں ریڈار اسکرینوں پر اچانک بحری جہازوں کے درجنوں نئے کلسٹرز نمودار ہو گئے ہیں جو حقیقت میں موجود نہیں ہیں اور ماہرین نے اس واقعے کو بحری الیکٹرانک جنگ کی ایک نئی اور انتہائی خطرناک جہت قرار دیا ہے جس سے نہ صرف خطے کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیاں بھی اس کی زد میں آ گئی ہیں۔
بحری ماہرین اور انٹیلی جنس تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مداخلت دو مختلف طریقوں سے کی جا رہی ہے جن میں پہلا طریقہ جی پی ایس جامنگ ہے جس میں جہازوں تک پہنچنے والے سیٹلائٹ سگنلز کو مکمل طور پر بلاک کر دیا جاتا ہے جبکہ دوسرا اور زیادہ جدید طریقہ جی پی ایس سپوفنگ ہے جس میں جہازوں کو غلط پوزیشن کا ڈیٹا بھیجا جاتا ہے جس کی وجہ سے جہاز اپنی اصلی جگہ کے علاوہ کہیں اور دکھائی دیتے ہیں اور اسی سپوفنگ کی وجہ سے ریڈار اسکرینوں پر وہ جہاز دکھائی دینے لگتے ہیں جو وہاں موجود ہی نہیں ہیں جبکہ حقیقی جہاز اپنی اصلی پوزیشن چھپا کر کسی اور مقام پر نظر آتے ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت آبنائے ہرمز میں سپوفنگ کا طریقہ کار زیادہ وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ٹریکنگ سسٹمز پر انتہائی عجیب و غریب مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
اس الجھن کی ایک نمایاں مثال آئل ٹینکر ایسپروڈا ہے جو ٹریکنگ سسٹم پر ایک سو دو ناٹ کی رفتار سے سفر کرتا دکھائی دیا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے ٹینکر کی زیادہ سے زیادہ رفتار صرف سولہ ناٹ ہوتی ہے اور یہ ٹینکر کبھی اتنی تیز رفتار سے نہیں چل سکتا جس سے یہ واضح ہو گیا کہ اس کے سگنلز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جا رہی ہے اسی طرح کچھ جہاز اندرون ملک ابوظہبی کے علاقے میں ایک ہوائی اڈے اور ایک ایٹمی بجلی گھر کے قریب بھی دکھائی دیے جو کہ حقیقت میں وہاں پہنچنا کسی بھی بحری جہاز کے لیے ممکن نہیں ہے اور ان واقعات نے ماہرین کو اس بات پر قائل کر دیا ہے کہ یہ کوئی عام سگنل خرابی نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند الیکٹرانک حملہ ہے۔
ریڈار اسکرینوں پر جہازوں کے یہ جھرمت عجیب و غریب شکلیں بنا رہے ہیں اور ایک جگہ یہ جہاز ایک حلقہ نما شکل میں ترتیب دیے گئے تھے تو دوسری جگہ انہوں نے الٹی زیڈ کی شکل اختیار کر لی تھی جو کہ واضح طور پر کسی ذہین نظام کے ذریعے ڈیٹا میں تبدیلی کا ثبوت ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شکلیں کوئی حادثاتی نہیں ہیں بلکہ ان کا مقصد شاید کسی خاص فوجی مشق یا حکمت عملی کا حصہ ہے جو عام شہری جہازوں کی نقل و حرکت میں مداخلت کر رہا ہے۔
اس الیکٹرانک مداخلت کے باعث عالمی تجارت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ستائیس فروری کو ایک سو بیس جہازوں نے آبنائے ہرمز کو عبور کیا تھا لیکن صرف پانچ دن بعد چار مارچ کو یہ تعداد صرف پانچ رہ گئی جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جہاز رانی کی کمپنیاں اس راستے کے استعمال سے کس قدر خوفزدہ ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ جی پی ایس کی غلط معلومات کی وجہ سے جہازوں کے آپس میں ٹکرانے یا کم گہرے پانی میں چلے جانے کا خطرہ بہت بڑھ گیا ہے جو کسی بھی وقت ایک بڑے بحری حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔
اس صورت حال کے باعث خلیجی ممالک میں تیل کے ذخیرے بھرتے جا رہے ہیں اور سعودی عرب عراق کویت اور متحدہ عرب امارات کو اپنی تیل کی پیداوار کم کرنا پڑی ہے کیونکہ ان کے پاس ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہو رہی ہے اور جہاز نہ آنے کی وجہ سے وہ اپنا تیل برآمد نہیں کر پا رہے ہیں جس کے نتیجے میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت ایک سو بیس ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی تھی اور ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو تیل کی قیمتیں مزید آسمان کو چھو سکتی ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مداخلت کسی ایک بڑے بحری آپریشن کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے اور تجزیہ کاروں کی اکثریت کا ماننا ہے کہ ایران اس الیکٹرانک جنگ کا ممکنہ ذریعہ ہے کیونکہ ایران کے پاس اس قسم کی جدید الیکٹرانک وارفیئر ٹیکنالوجی موجود ہے اور وہ ماضی میں بھی امریکی ڈرون طیاروں کو اس طرح کے طریقوں سے ہائی جیک کر چکا ہے اور ماہرین کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ڈیجیٹل طور پر ناقابل گزر بنا کر عالمی تجارت کو مفلوج کیا جا سکے اور یہ انکار علاقہ کی ایک نفسیاتی حکمت عملی ہے جس سے جہاز خود بخود اس راستے کے استعمال سے گریز کریں۔
دوسری جانب امریکہ اسرائیل اور خلیجی ممالک بھی اپنے دفاعی مقاصد کے لیے الیکٹرانک وارفیئر کا استعمال کر رہے ہیں لیکن ان ممالک کی کوشش ہوتی ہے کہ شہری جہازوں پر کم سے کم اثر پڑے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں الیکٹرانک جنگ کی یہ خاموش لہر ثابت کرتی ہے کہ اب یہ تنازع صرف روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ دونوں فریق جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک دوسرے کو اندھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورت حال نے عالمی برادری کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ آیا یہ الیکٹرانک مداخلت کسی بڑے بحری حملے کا پیش خیمہ تو نہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو سمندروں کی یہ خاموش جنگ عالمی تجارت کو ہمیشہ کے لیے مفلوج کر سکتی ہے اور آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں مزید کمی واقع ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں تیل کی قلت اور عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری بین الاقوامی خبریں دیکھیں۔