(میاں افتخار احمد)
زیادہ تر حملے آئرن ڈوم نے نہیں بلکہ ایرو تھری نظام نے روکے جو اسرائیل کے تہہ دار دفاعی نیٹ ورک کا حصہ ہے: یاکوف امیڈرور
اسلام آباد مانٹرنگ ڈیسک: العربیہ انگلش کے پروگرام کاؤنٹرپوائنٹس میں پاکستانی سینیٹر مشاہد حسین سید اور اسرائیل کے سابق قومی سلامتی کے مشیر یاکوف امیڈرور کے درمیان ایران جنگ پر شدید زبانی کشمکش ہوئی۔میزبان میلنڈا نیوسفورا نے امریکی تجزیہ کار برینڈن ویچرٹ کے ہمراہ یہ مباحثہ کرایا جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد علاقائی کشیدگی کے عروج کے تناظر میں منعقد ہوا۔پروگرام کے دوران تینوں مباحثین کے درمیان ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے، فوجی کارروائیوں کی نوعیت، خطے میں طاقت کے توازن اور مستقبل کی صورت حال جیسے موضوعات پر گرما گرم بحث دیکھنے کو ملی۔
آئرن ڈوم کی ناکامی کا اعتراف: سینیٹر مشاہد حسین نے یاکوف امیڈرور سے براہ راست استفسار کیا کہ آئرن ڈوم کو ناقابل شکست قرار دیا جاتا تھا مگر اب اس کا کیا ہوا اور یہ نظام کیوں اپنے دعووں پر پورا نہ اتر سکا۔امیڈرور نے جواب میں پہلے دعویٰ کیا کہ آئرن ڈوم بہت اچھا کام کر رہا ہے اور اس نے 90 فیصد حملوں کو کامیابی سے ناکام بنایا ہے۔تاہم انہوں نے اسی گفتگو کے دوران خود ہی تسلیم کر لیا کہ زیادہ تر حملے آئرن ڈوم نے نہیں بلکہ ایرو تھری نظام نے روکے جو اسرائیل کے تہہ دار دفاعی نیٹ ورک کا حصہ ہے۔امیڈرور نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں اور ایران کی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کو نمایاں طور پر کمزور کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل ہفتوں تک یہ کارروائیاں جاری رکھ سکتا ہے اور اس کے دفاعی وسائل ختم نہیں ہوئے۔سینیٹر مشاہد حسین نے جواب میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کا پلان اے بری طرح ناکام ہو چکا ہے اور واشنگٹن نے صورتحال کا غلط اندازہ لگایا۔انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب امن کی بھیک مانگنے پر مجبور ہیں جبکہ ان کے بیانات میں تضاد اس حکمت عملی کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔سینیٹر کا کہنا تھا کہ ایران نے غیر معمولی لچک اور مضبوطی کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ آبنائے ہرمز پر اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے اسٹریٹجک برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ تنازع گریٹر اسرائیل منصوبے کا حصہ ہے اور نہ تو ڈونلڈ ٹرمپ اور نہ ہی بنجمن نیتن یاہو یہ سوچ سکتے تھے کہ ایران چوتھے ہفتے میں بھی پوری طاقت کے ساتھ قائم رہے گا۔سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کو اب تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایران کو فوجی طور پر شکست دینے کا کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔
امریکی تجزیہ کار برینڈن ویچرٹ نے خبردار کیا کہ یہ جنگ طویل اور مہنگی ہو سکتی ہے جبکہ دونوں فریق پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں جس سے مزید علاقائی کشیدگی کے خدشات ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کوئی بھی فوری فوجی فیصلہ نظر نہیں آتا اور دونوں اطراف میں سفارتی کھائی مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ویچرٹ کا کہنا تھا کہ امریکہ کے لیے اس تنازع سے باہر نکلنے کا کوئی آسان راستہ نہیں ہے اور ایران بھی اپنے مفادات پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔پروگرام کے اختتام پر تینوں مباحثین اس بات پر متفق نظر آئے کہ موجودہ کشیدگی کا کوئی فوری حل نظر نہیں آتا اور خطہ مزید غیر مستحکم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔
مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری بین الاقوامی خبریں دیکھیں۔