آئرن ڈوم دفاعی نظام کا حساس ڈیٹا 1000 ڈالر میں لیک، ایرانی جاسوسی کا بڑا اسکینڈل سامنے آگیا۔ 0

آئرن ڈوم کا راز 1,000 ڈالر میں بیچ دیا گیا

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)

ایرانی جاسوسی نے آئرن ڈوم کے دفاعی نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا

فیصل آباد (مانیٹرنگ ڈیسک): روشلم کی ضلعی عدالت میں 20 مارچ کو 26 سالہ اسرائیلی ریزروسٹ راز کوہن کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ الزام ہے کہ ایرانی انٹیلیجنس نے محض 1,000 ڈالر میں اسے خرید کر آئرن ڈوم کے انتہائی حساس ڈیٹا تک رسائی حاصل کر لی۔
یہ کوئی ہائی ٹیک ہیکنگ نہیں تھی۔ 6 دسمبر 2025 کو ایک ایرانی ایجنٹ نے ٹیلی گرام پر کوہن سے رابطہ کیا۔ کوہن آئرن ڈوم کی بیٹری کے کنٹرول سینٹر میں کام کرتا تھا اور لانچرز کو لوڈ کرنے کا انچارج تھا۔ صرف تین دنوں میں اس نے ایرانی ایجنٹ کو 27 انتہائی خفیہ تصاویر اور ویڈیوز بھیج دیں۔
ان تصاویر میں آئرن ڈوم کے فائرنگ کے عمل، ریٹ آف فائر اور بیک اپ کنفیگریشن کی تفصیلات شامل تھیں۔ کوہن نے اسرائیل کے سات ایئر فورس بیسز کے درست GPS کوآرڈینیٹس بھی فراہم کر دیے۔ اس کے علاوہ اس نے آئرن ڈوم کی دو مخصوص بیٹریوں Hatzerim اور Palmachim کی خفیہ لوکیشنز بھی ایرانی ایجنٹ کو بتا دیں۔ صدر کی رہائش گاہ کے ایک سیکیورٹی گارڈ اور ایئر فورس کے ایک پائلٹ کی ذاتی معلومات بھی اس نے فراہم کیں۔

ادائیگی کرپٹو کرنسی میں صرف 1,000 ڈالر تھی۔

اس واقعے کی ٹائمنگ انتہائی خطرناک تھی۔ 18 جنوری 2026 کو کوہن کو دوبارہ ڈیوٹی پر بلایا گیا اور وہ اسی آئرن ڈوم یونٹ میں ڈیوٹی دیتا رہا جس کے کوآرڈینیٹس وہ پہلے ہی ایران کو دے چکا تھا۔ یکم مارچ 2026 کو جب امریکہ اسرائیل کی ایران پر مشترکہ کارروائی شروع ہوئی تو اسے گرفتار کر لیا گیا۔

یہ کوئی اکیلا واقعہ نہیں ہے۔ یروشلم پوسٹ کے مطابق سات اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیل میں ایرانی جاسوسی کے الزام میں 35 سے زائد کیسز بن چکے ہیں جن میں 60 سے زیادہ اسرائیلی ملوث ہیں۔ جنوری 2025 میں ایک اور 22 سالہ آئرن ڈوم اہلکار یوری الیاسپوف کو بھی اسی طرح گرفتار کیا گیا تھا۔
دوسری جانب ایران کی انٹیلیجنس منسٹری نے بھی حال ہی میں 97 ایسے افراد کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے جو مبینہ طور پر اسرائیل کے لیے کام کر رہے تھے۔ دونوں فریق ایک جیسے پلیٹ فارمز سوشل میڈیا اور ٹیلی گرام اور معمولی مالی مراعات کا استعمال کر رہے ہیں۔
کوہن پر جنگ کے دوران دشمن کی مدد کرنے، ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی نیت سے دشمن کو معلومات فراہم کرنے اور دشمن کے لیے مفید معلومات فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اسرائیلی قانون کے تحت جنگ کے دوران دشمن کی مدد کرنے پر سزائے موت یا عمر قید کا انتظام ہے۔
آئرن ڈوم کی ایک بیٹری کی قیمت 50 ملین ڈالر ہے۔ اسرائیل نے اس نظام پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ لیکن ایرانی انٹیلیجنس نے ثابت کر دیا کہ دشمن کا مہنگا ترین دفاعی نظام تباہ کرنے کے لیے اربوں ڈالر کے ہتھیار نہیں چاہیے بلکہ صرف ٹیلی گرام کا ایک میسج اور ایک بکاؤ فوجی چاہیے جو چند ڈالرز کے عوض اپنے ہی ملک کا دفاع بیچنے کو تیار ہو۔

مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری بین الاقوامی خبریں دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں