0

پاک سعودی اور لیبیا دفاعی معاہدے: ایران کے ردِعمل اور عالمی اثرات کا تجزیاتی جائزہ

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ 2025 میں ایک نیا سنگِ میل ہے جس نے روایتی دفاعی تعلقات کو ایک باقاعدہ معاہدے کی شکل دی ہے اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سلامتی اور دفاع کو باہمی وابستہ کیا ہے اور یہ عہد کیا ہے کہ اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوا تو اسے دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اس معاہدے کا مقصد صرف فوجی تعاون یا ہتھیاروں کی فروخت نہیں بلکہ ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک قائم کرنا ہے جس میں فوجی تربیت، سیکیورٹی تعاون، مشترکہ دفاعی پلاننگ، مشترکہ فوجی مشقیں اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں شامل ہیں اس معاہدے سے پاکستان اور سعودی عرب کے طویل دفاعی تعلقات کو ایک باقاعدہ قانونی اور اسٹریٹیجک اساس مل گئی ہے جس سے خطے میں طاقت کے توازن اور دفاعی شراکت داریوں کے نقشے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اس دفاعی معاہدے پر ایران نے اقوام متحدہ میں جہاں اسے علاقائی تعاون اور مسلم ریاستوں کے درمیان اتحاد کے تناظر میں کچھ مثبت قرار دیا وہاں اپنے خدشات بھی ظاہر کیے کہ خطے میں طاقت کی نئی بلاک بندی پیدا ہو سکتی ہے اور ایسے اتحاد امن کے بجائے نئی کشیدگیوں کا باعث بن سکتے ہیں ایران نے یو این میں کہا کہ خطے میں باہمی تعاون اور اعتماد سازی پر مبنی رہنمائی ضروری ہے اور طاقت کے توازن کو بڑھانے والے اقدامات کو احتیاط کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے اس بیان میں ایران نے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ علاقائی ممالک باہمی سولیوشنز کی طرف بڑھیں اور مشترکہ سلامتی کے نظامات بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی حالات کے باوجود خطے میں امن اور استحکام کو ترجیح دیں ایران کے ردِعمل کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ وہ کسی بھی نئی دفاعی بلاک بندی کو اپنے مفادات کے خلاف تبدیلی کے طور پر دیکھتا ہے خاص طور پر اس پس منظر میں کہ ایران اور سعودی عرب طویل عرصے سے مختلف جنگی محاذوں اور اثر و رسوخ کے تنازعات میں پھنسے ہوئے رہے ہیں اس لیے ایران کے مؤقف میں ایک طرح کی محتاط مثبتیت بھی شامل ہے تاکہ وہ اپنی اسٹریٹیجک پوزیشن کو برقرار رکھتے ہوئے خطے میں تحمل اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کر سکے پاک سعودی معاہدے کے اثرات یورپ پر ایک نئے چیلنج کے طور پر سامنے آتے ہیں یورپی ممالک مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کی فراہمی، جوہری معاہدوں، ایران کے ساتھ مذاکرات اور خطے میں استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہے ہیں اس لیے وہ اس نئے دفاعی اتحاد کو محض دو ممالک کے درمیان معاہدہ نہیں بلکہ ایک نئے متغیر کے طور پر دیکھ رہے ہیں یورپی اتحادی خاص طور پر توانائی کے شعبے میں سعودی تیل کی اہمیت اور ایران کے ساتھ توانائی اور تجارتی تعلقات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں ایسے میں دفاعی شراکت داریوں کا مضبوط ہونا یورپ کو نئی سفارتی حکمت عملی بنانے پر مجبوری میں ڈال سکتا ہے کیونکہ یورپ چاہتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تقسیم اور بلاک بندیوں سے بچا جائے تاکہ جوہری مذاکرات، تجارتی تعلقات اور توانائی کی سلامتی پر منفی اثرات نہ ہوں یورپی ممالک عام طور پر اس نئی حکمت عملی کو اس طرح دیکھتے ہیں کہ طاقت کے متوازن نظام کے ذریعے مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرنا بہتر ہے بجائے اس کے کہ صرف عسکری اتحادوں پر انحصار کیا جائے اس نظریے کے تحت انہیں امید ہے کہ یہ معاہدہ علاقائی استحکام کو فروغ دے سکتا ہے بشرطیکہ اس کا استعمال جارحیت یا بلاک بندی کے لیے نہ ہو امریکہ کے نقطہ نظر سے پاک سعودی دفاعی معاہدہ ایک پیچیدہ تصویر پیش کرتا ہے امریکہ نے طویل عرصے سے سعودی عرب کو ایک دفاعی پارٹنر کے طور پر دیکھا ہے اور خطے میں اپنے مفادات کو محفوظ رکھنے کے لیے مختلف اتحادوں اور معاہدوں کا سہارا لیا ہے امریکہ کی خواہش ہے کہ خلیج میں استحکام ہو، ایران کے حوالے سے تناؤ کم ہو اور توانائی کی فراہمی بلا رکاوٹ جاری رہے اس دفاعی معاہدے کے تحت امریکہ کو یہ موقع مل سکتا ہے کہ وہ اپنی فوجی موجودگی کو کچھ حد تک کم کرے کیونکہ سعودی عرب اور پاکستان جیسی طاقتیں اب دفاعی شراکت داری میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکتی ہیں تاہم امریکہ ایران کے ردِعمل کو نہ نظر انداز کر سکتا ہے کیونکہ ایران نے یو این میں اپنے مؤقف میں امریکہ کی حمایت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اس کے مطابق خطے میں کسی بھی نئے دفاعی اتحاد کے فیصلے پر امریکہ کا کردار بھی تشویش کا باعث ہو سکتا ہے اس لیے امریکہ اس معاہدے کو مکمل طور پر رد بھی نہیں کر رہا اور نہ ہی کھل کر اس میں حصہ لے رہا ہے بلکہ ایک توازن کی پالیسی اختیار کر رہا ہے جس میں وہ اس اتحاد کو اپنے خطے میں استحکام کے ایک عنصر کے طور پر دیکھتا ہے جبکہ ایران کے ساتھ سفارتی راستوں کو بھی برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے اسرائیل کے لیے پاک سعودی دفاعی معاہدہ ایک اہم جیوپولیٹیکل حقیقت ہے اسرائیل ایران کو اپنا سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے سعودی عرب کا مضبوط دفاعی اتحاد اسرائیل کے مفادات کے مطابق ہو سکتا ہے اسرائیل کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی اتحاد ایران کے خلاف ایک توازن قائم کر سکتا ہے جس سے ایران پر دباؤ بڑھے گا تاہم اس کے مثبت اثرات کی حد و حدود اسرائیل کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ ایک طرف یہ اسٹریٹیجک توازن کو مضبوط کرتا ہے تو دوسری طرف اسرائیل چاہے گا کہ یہ اتحاد کسی بھی طرح سے براہِ راست جنگ یا تصادم کا سبب نہ بنے اور خطے میں امن و استحکام برقرار رہے اس معاہدے کا اثر بھارت اور دیگر خطوں پر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ ایک مضبوط دفاعی اتحاد خطے میں طاقت کے نئے توازن کے ڈھانچے کو جنم دیتا ہے جس میں ایران، اسرائیل، سعودی عرب اور پاکستان سمیت دیگر عالمی اور علاقائی کھلاڑی شامل ہیں یہ نئی حقیقت عالمی طاقتوں کو بھی اپنے اپنے مفادات کے مطابق نئی پالیسیوں اور سفارتی حکمت عملیوں پر غور کرنے پر مجبور کیا ہے تاکہ خطے میں استحکام، تعاون اور دفاعی توازن کو یقینی بنایا جا سکے اسی دوران پاکستان اور لیبیا کے درمیان دفاعی تعلقات میں بھی ایک نمایاں پیش رفت ہوئی ہے پاکستان اور لیبیا نے دفاعی تعاون اور عسکری تعلقات کو بڑھانے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت دونوں ملکوں نے فوجی تربیت، صلاحیت سازی، انسداد دہشت گردی اور دیگر سیکیورٹی تعاون جیسے شعبوں میں مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے پاکستان کے اعلیٰ فوجی حکام نے لیبیا کے فوجی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں اس تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے اس معاہدے کا مقصد بھی خطے میں استحکام اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے لیکن اس کی نوعیت پاکستان اور سعودی عرب کے معاہدے سے مختلف ہے جہاں سعودی معاہدہ ایک مشترکہ دفاعی اتحاد کی شکل رکھتا ہے وہیں لیبیا کے ساتھ معاہدہ زیادہ تعاون، تربیت اور دفاعی ساز و سامان کی فراہمی پر مبنی ہے مشرقِ وسطیٰ کے بر عکس لیبیا شمالی افریقہ میں ایک اہم ملک ہے جو مختلف ادوار میں سیاسی عدم استحکام اور عسکری چیلنجز سے دوچارہوا ہے اس لیے پاکستان نے اس معاہدے میں لیبیا کی فوجی صلاحیت سازی اور تربیت کے مواقع پر زیادہ زور دیا ہے اور ممکنہ طور پر یہ دفاعی تعاون لیبیا کو اپنے دفاع کو مضبوط کرنے، سیکیورٹی اداروں کو منظم کرنے اور دہشت گردی جیسے چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرے گا لیبیا اور پاکستان کے معاہدے کی مالیت بھی قابلِ ذکر ہے یہ معاہدہ تقریبا 4.6 بلین امریکی ڈالر کے حجم میں طے پایا ہے جس کے تحت ممکنہ طور پر دفاعی ساز و سامان، تربیتی پروگرامز، جنگی طیارے، ٹینکس اور دیگر عسکری ضروریات شامل ہو سکتی ہیں اس معاہدے کی مالیت پاکستان کے دفاعی برآمدات کے میدان میں ایک اہم قدم ہے جس سے دفاعی صنعت کو فروغ اور نئی منڈیاں حاصل کرنے کے مواقع میسر آتے ہیں اس کے برعکس پاک سعودی معاہدے میں براہِ راست مالی رقم ظاہر نہیں کی گئی کیونکہ اس کا بنیادی مقصد دفاعی تعلقات اور طاقت کے توازن کو مضبوط کرنا ہے نہ کہ سامان کی خرید و فروخت یا کسی مخصوص مالی پیکج کا اعلان دونوں معاہدوں کے درمیان بنیادی فرق ان کے مقاصد اور نوعیت میں ہے پاک سعودی معاہدہ ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک ہے جو دفاعی اتحاد اور سلامتی کے عہد پر مبنی ہے جبکہ پاکستان اور لیبیا کا معاہدہ تعاون، تربیت اور دفاعی ساز و سامان کی فراہمی پر زیادہ زور دیتا ہے دونوں معاہدوں کی مالیت کے فرق سے واضح ہوتا ہے کہ لیبیا کے ساتھ معاہدہ جس میں 4.6 بلین ڈالر کا امکان ہے وہ ایک اقتصادی و دفاعی برآمداتی موقع بنتا ہے جبکہ پاک سعودی معاہدہ ایک اسٹریٹیجک دفاعی اتحاد ہے جس کی مالیت کو سرکاری طور پر بیان نہیں کیا گیا کیونکہ اس کا فائدہ زیادہ تر طاقت کے توازن، سیکیورٹی اشتراک اور مشترکہ دفاعی اہداف کے حصول میں ہے عالمی منظرنامے پر پاکسعودی دفاعی معاہدہ ایران کے ردِعمل، یورپ، امریکہ اور اسرائیل جیسے طاقتوں کے مفادات اور خدشات کے امتزاج کا باعث بن رہا ہے اور لیبیا کے ساتھ معاہدہ پاکستان کو شمالی افریقہ میں بھی دفاعی تعاون کا مضبوط کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے دفاع کو مضبوط کر رہا ہے بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر اپنے اسٹریٹیجک تعلقات کو ایک وسیع اور متوازن ڈھانچے میں تبدیل کر رہا ہے اس نئی حقیقت نے عالمی طاقتوں کو بھی اپنے اپنے مفادات کے مطابق نئی پالیسیوں اور سفارتی حکمت عملیوں پر غور کرنے پر مجبور کیا ہے تاکہ خطے میں استحکام، تعاون اور دفاعی توازن کو یقینی بنایا جا سکے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں