Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

اسلام آباد نے تہران کو اعلیٰ سطح پر آگاہ کر دیا، سعودی عرب پر کسی بھی حملے کو پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا، علاقائی کشیدگی  تشویش برقرار۔

اسلام آباد: پاکستان نے ایران کو واضح اور دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملے کیے گئے تو انہیں پاکستان پر حملے کے مترادف سمجھا جائے گا۔ یہ بات ایک پاکستانی عہدیدار نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتائی۔

عہدیدار کے مطابق پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت نے تہران کو آگاہ کیا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کی ریڈ لائن ہے اور مملکت پر کسی بھی قسم کی جارحیت کو اسلام آباد اپنے خلاف کارروائی تصور کرے گا۔

پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ

رپورٹ کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ برس ایک باہمی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

پاکستان، جس نے حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں سفارتی کردار ادا کیا، خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔

حوثیوں کے حملوں سے خطے میں تشویش

رپورٹ کے مطابق حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر میزائل حملے اس وقت کیے جب انہوں نے سعودی عرب پر یمن میں اپنے زیرِ کنٹرول ہوائی اڈے پر حملے کا الزام عائد کیا۔ اگرچہ چار سالہ جنگ بندی کے بعد یہ پہلا بڑا واقعہ تھا، تاہم فی الحال کشیدگی محدود دائرے میں ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے اسلام آباد میں تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ پاکستان کے فوجی دستے سعودی عرب اور یمن کی سرحد کے قریب بھی تعینات ہیں۔

بحیرہ احمر کی تجارت پر بھی خدشات

پاکستانی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر حوثیوں کی کارروائیاں بڑھتی ہیں تو بحیرہ احمر میں بحری تجارت متاثر ہو سکتی ہے، جو پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے انتہائی اہم تجارتی راستہ ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان اس وقت تمام فریقوں کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار رکھتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اگر حملوں کا دائرہ وسیع ہوا تو اسلام آباد اپنی پالیسی پر نظرثانی کر سکتا ہے۔

پاکستان کا مؤقف

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کا حامی ہے، لیکن سعودی عرب کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اسلام آباد کی جانب سے ایران کو دیا گیا حالیہ پیغام اسی پالیسی کا عکاس ہے۔