Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

اسلام آباد: ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی پیر کے روز اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے، جہاں وہ دوطرفہ تعلقات، سرحدی سلامتی، انسداد دہشت گردی اور علاقائی تعاون سے متعلق اہم مذاکرات کریں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نور خان ایئربیس پر ایرانی وزیر داخلہ اور ان کے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی موجود تھے۔

استقبالیہ تقریب کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسکندر مومنی کو گلدستہ پیش کیا، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے معزز مہمان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ “پاکستان آپ کا خیرمقدم کرتا ہے، ہمیں آپ کی آمد پر خوشی ہے۔”

سرکاری ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے، جن میں پاک ایران سرحدی تعاون، انسداد دہشت گردی، منشیات اور اسمگلنگ کی روک تھام، غیر قانونی نقل و حرکت کے خاتمے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

دورے کے دوران دونوں ممالک علاقائی امن و استحکام، سرحدی انتظام، تجارت کے فروغ اور باہمی مفادات کے دیگر اہم امور پر بھی گفتگو کریں گے۔ پاکستان اور ایران گزشتہ برسوں کے دوران سفارتی اور سکیورٹی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں، جبکہ دونوں ممالک مشترکہ سرحد پر امن اور استحکام کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسکندر مومنی کا یہ دورہ پاکستان اور ایران کے درمیان سکیورٹی تعاون کو مزید وسعت دینے، باہمی اعتماد کو مضبوط بنانے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی کو آگے بڑھانے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔