Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

بیجنگ: چین کی چینی اکیڈمی آف سائنسز (CAS) کے انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری کے سائنسدانوں نے شمسی توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 28.04 فیصد مستند فوٹو الیکٹرک کنورژن ایفیشنسی رکھنے والا پرواسکائٹ-آرگینک ٹینڈم سولر سیل تیار کر لیا ہے، جو اس ٹیکنالوجی کا نیا عالمی ریکارڈ تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ اہم تحقیق عالمی شہرت یافتہ سائنسی جریدے نیچر (Nature) میں شائع ہوئی، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس جدید سولر سیل نے تجربہ گاہ میں 28.80 فیصد کی بلند ترین پاور کنورژن ایفیشنسی بھی حاصل کی۔

جدید سولر سیل کی نمایاں خصوصیات

محققین کے مطابق اس جدید ٹینڈم سولر سیل میں ایک وائیڈ بینڈ گیپ پرواسکائٹ ٹاپ سب سیل استعمال کیا گیا ہے، جس نے اپنی نوعیت کی بلند ترین اوپن سرکٹ وولٹیج حاصل کی۔

اسے جدید آرگینک باٹم سب سیل کے ساتھ جوڑنے سے یہ سورج کی روشنی کے زیادہ وسیع حصے کو جذب کرنے کے قابل ہو گیا، جس سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت نمایاں طور پر بڑھ گئی۔

تحقیق کے مطابق مسلسل 625 گھنٹے روشنی میں رکھنے کے بعد بھی سولر سیل نے اپنی ابتدائی کارکردگی کا 90 فیصد برقرار رکھا، جو اس کی غیرمعمولی پائیداری کو ظاہر کرتا ہے۔

خلائی مشنز کے لیے بھی موزوں

تحقیقی ٹیم کے سربراہ اور چینی اکیڈمی آف سائنسز کے رکن لی یونگ فانگ نے کہا کہ یہ جدید سولر سیل اپنی ہلکی ساخت، لچکدار ڈیزائن اور اعلیٰ کارکردگی کی بدولت مستقبل کی خلائی ٹیکنالوجی کے لیے انتہائی موزوں ہے۔

ان کے مطابق اس کا بہترین پاور ٹو ویٹ ریشو اسے سیٹلائٹس، خلائی اسٹیشنز اور دیگر خلائی مشنز میں توانائی کے مؤثر ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ٹینڈم سولر سیل کیوں زیادہ مؤثر ہیں؟

روایتی سولر سیلز کے برعکس، ٹینڈم سولر سیل مختلف فوٹو وولٹک مواد کو ایک ساتھ استعمال کرتے ہیں تاکہ سورج کی زیادہ سے زیادہ روشنی جذب کی جا سکے۔

  • پرواسکائٹ پرت مرئی روشنی (Visible Light) جذب کرتی ہے۔
  • آرگینک پرت قریبِ سرخ (Near-Infrared) شعاعوں کو جذب کرتی ہے۔

اس امتزاج کے باعث یہ سولر سیلز عام شمسی پینلز کے مقابلے میں کہیں زیادہ بجلی پیدا کرتے ہیں۔

اہم مسئلہ بھی حل کر لیا گیا

پرواسکائٹ سولر سیلز میں ایک بڑا مسئلہ فیز سیپریشن (Phase Separation) تھا، جس کی وجہ سے آئوڈین اور برومین وقت گزرنے کے ساتھ الگ ہونے لگتے تھے، جس سے کارکردگی اور وولٹیج متاثر ہوتی تھی۔

انسٹی ٹیوٹ کے محقق مینگ لی کے مطابق یہی مسئلہ اس ٹیکنالوجی کی تجارتی کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔

نئی دریافت نے استحکام بڑھا دیا

اس مسئلے کے حل کے لیے سائنسدانوں نے TDB نامی ایک خصوصی سالمہ (Molecule) استعمال کیا۔

یہ سالمہ پرواسکائٹ فلم کی تیاری کے دوران آئوڈین اور برومین کو یکساں طور پر برقرار رکھتا ہے۔ بعد ازاں روشنی پڑنے پر یہ TAB میں تبدیل ہو جاتا ہے، جو پرواسکائٹ کے ذرات کے کناروں پر جمع ہو کر عناصر کو الگ ہونے سے روکتا ہے۔

اس نئی تکنیک کے نتیجے میں سولر سیل کی کارکردگی، پائیداری اور طویل مدتی استحکام میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

قابلِ تجدید توانائی کے مستقبل کی جانب اہم پیش رفت

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی شمسی توانائی کی نئی نسل کی ٹیکنالوجی کو تجارتی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

جدید، ہلکے وزن اور زیادہ مؤثر سولر سیلز نہ صرف گھروں، صنعتوں اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مفید ثابت ہوں گے بلکہ مستقبل کے خلائی منصوبوں میں بھی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

چینی سائنسدانوں کی یہ پیش رفت قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے اور توقع ہے کہ اس سے دنیا بھر میں جدید سولر ٹیکنالوجی کی ترقی کو مزید رفتار ملے گی۔