عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 85 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی ہے۔ توانائی کی فراہمی سے متعلق خدشات اور ممکنہ سپلائی میں رکاوٹ کے خوف نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔
برینٹ کروڈ، جو عالمی سطح پر تیل کی قیمت کا اہم معیار سمجھا جاتا ہے، 85 ڈالر فی بیرل سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے مارکیٹ متاثر
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی، ممکنہ فوجی کارروائیوں اور تیل کی ترسیل کے اہم راستوں پر خطرات نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
اگر صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
توانائی اور مہنگائی پر ممکنہ اثرات
خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دنیا بھر میں ایندھن، ٹرانسپورٹ، بجلی اور صنعتی پیداوار کی لاگت بڑھا سکتا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل مہنگا رہتا ہے تو کئی ممالک میں مہنگائی دوبارہ بڑھ سکتی ہے، جبکہ مرکزی بینکوں کے لیے شرح سود سے متعلق فیصلے مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔
سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی طرف مائل
جغرافیائی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار سونے، امریکی ڈالر اور دیگر محفوظ اثاثوں کی جانب بھی رخ کر رہے ہیں، جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
آئندہ صورتحال پر گہری نظر
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دن عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کا اثر عالمی معیشت، مہنگائی اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔






