Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

220 میٹر طویل RoRo جہاز کراچی پورٹ پر لنگر انداز، حکومت نے اسے صاف توانائی، جدید لاجسٹکس اور بحری تجارت کے لیے اہم سنگ میل قرار دے دیا۔

کراچی: پاکستان نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ رول آن/رول آف (RoRo) شپمنٹ کے ذریعے 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کی درآمد کا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اس پیش رفت کو ملک کے بحری اور لاجسٹکس شعبے کے لیے ایک تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق 220 میٹر طویل ایم وی گرانڈے شنگھائی (M.V. Grande Shanghai) کامیابی کے ساتھ کراچی گیٹ وے ٹرمینل ملٹی پرپز لمیٹڈ (KGTML) پر لنگر انداز ہوا، جو کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) کے زیر انتظام جدید ٹرمینل ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ ماہ بحری امور سے متعلق کمیٹی اجلاس میں RoRo شپمنٹ کی منظوری دی گئی تھی، جس کے بعد یہ پہلی کھیپ پاکستان پہنچی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کامیاب آپریشن سے ثابت ہوتا ہے کہ کراچی پورٹ کی جدید انفراسٹرکچر صلاحیت اب عالمی معیار کے خصوصی کارگو آپریشنز کو سنبھالنے کے قابل ہو چکی ہے۔

وزیر بحری امور کے مطابق پہلی RoRo شپمنٹ پاکستان کے عالمی کلین موبیلٹی اور پائیدار ٹرانسپورٹ سپلائی چین کا حصہ بننے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو مستقبل میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ روایتی کارگو جہازوں کے برعکس RoRo (Roll-on/Roll-off) جہاز خاص طور پر پہیوں والی گاڑیوں کی نقل و حمل کے لیے تیار کیے جاتے ہیں، جن میں گاڑیوں کو براہ راست جہاز پر چڑھایا اور اتارا جاتا ہے۔

اس جدید نظام سے کارگو ہینڈلنگ کا وقت کم ہوتا ہے، بندرگاہی آپریشنز زیادہ محفوظ بنتے ہیں اور مجموعی لاجسٹکس کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آتی ہے۔

محمد جنید انور چوہدری نے کہا کہ حکومت پاکستان بحری شعبے کی ترقی، جدید بندرگاہی سہولیات اور عالمی شپنگ نیٹ ورک سے بہتر رابطوں کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ ملکی تجارت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔