گیسٹ ہاؤسز کے خلاف کارروائیاں: سیاحت، معیشت اور روزگار پر سوالیہ نشان
تحریر: محمد امین
اسلام آباد: پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد ہر سال ہزاروں ملکی و غیر ملکی سیاحوں، کاروباری شخصیات، سفارت کاروں، طلبہ، محققین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی میزبانی کرتا ہے۔ ایسے مہمانوں کے لیے مناسب، محفوظ اور کم خرچ رہائشی سہولیات کی فراہمی کسی بھی جدید شہر کی بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہے، جس میں گیسٹ ہاؤسز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں گیسٹ ہاؤسز کے خلاف جاری کارروائیوں نے نہ صرف اس شعبے سے وابستہ کاروباری افراد بلکہ سیاحت، سرمایہ کاری اور روزگار سے منسلک حلقوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ سلسلہ اسی انداز میں جاری رہا تو ہزاروں افراد کے روزگار اور متعدد خاندانوں کے معاشی مستقبل کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
گیسٹ ہاؤسز صرف رہائشی سہولت فراہم کرنے والے ادارے نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی زنجیر کا حصہ ہیں۔ ان سے وابستہ سیکیورٹی گارڈز، ڈرائیورز، صفائی کا عملہ، ٹریول ایجنٹس، کیٹرنگ سروسز اور دیگر متعدد شعبے براہ راست یا بالواسطہ روزگار حاصل کرتے ہیں۔ ایک گیسٹ ہاؤس کی بندش کئی خاندانوں کی آمدن متاثر ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔
پاکستان اس وقت سیاحت کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے اور شمالی علاقوں سمیت اسلام آباد میں بھی سیاحوں کی آمد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں رہائشی سہولیات کو محدود کرنا سیاحتی صنعت کی ترقی پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں گیسٹ ہاؤسز کو ختم کرنے کے بجائے انہیں رجسٹریشن، ٹیکس نظام، لائسنسنگ اور مؤثر نگرانی کے ذریعے منظم کیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی گیسٹ ہاؤس کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہو تو قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے، تاہم پورے شعبے کو متاثر کرنے والی پالیسیاں نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں بلکہ روزگار کے مواقع بھی محدود کر سکتی ہیں۔
متعدد گیسٹ ہاؤس مالکان کا مؤقف ہے کہ ان کے معاملات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور بعض کیسز میں عدالتی احکامات بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام فریقین کو قانون اور عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے ہوئے مسئلے کا مستقل اور متوازن حل تلاش کرنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق اسلام آباد جیسے بین الاقوامی اہمیت کے حامل شہر میں مختلف نوعیت کی رہائشی سہولیات کا موجود ہونا ناگزیر ہے۔ گیسٹ ہاؤسز نہ صرف سیاحوں اور کاروباری افراد کو سہولت فراہم کرتے ہیں بلکہ ملکی معیشت میں بھی اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ سی ڈی اے اور متعلقہ ادارے یکطرفہ کارروائیوں کے بجائے مشاورت، ضابطہ بندی اور مؤثر نگرانی پر مبنی ایسی جامع پالیسی مرتب کریں جو شہری منصوبہ بندی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار، سیاحت، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنا سکے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگر پاکستان خود کو ایک عالمی سیاحتی مرکز کے طور پر منوانا چاہتا ہے تو گیسٹ ہاؤسز جیسے اہم شعبے کو محدود کرنے کے بجائے اسے منظم، قانونی اور محفوظ انداز میں قومی ترقی کے عمل کا حصہ بنانا ہوگا۔ یہی حکمت عملی سیاحت کے فروغ، معاشی استحکام اور ہزاروں خاندانوں کے روزگار کے تحفظ کی ضمانت بن سکتی ہے