پاکستان نے خطے میں امن، مذاکرات اور باہمی اعتماد کے فروغ کے لیے مؤثر کوششیں کیں،
سینیٹر خلیل طاہر سندھو
امریکہ۔ایران کشیدگی کے دوران پاکستان کے تعمیری کردار، بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی آزادی پرایکٹن یونیورسٹی میں اظہارِ خیال
میاں افتخار احمد
مشی گن امریکہ : ایکٹن یونیورسٹی 2026 سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے واحد مسیحی سینیٹر خلیل طاہر سندھو نے حالیہ امریکہ۔ایران کشیدگی کے دوران پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ سفارتی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن، مذاکرات اور باہمی اعتماد کے فروغ کے لیے مؤثر کوششیں کیں، جو اس کے پرامن خارجہ وژن کی عکاسی کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار امن صرف طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ سفارت کاری، باہمی احترام، مکالمے اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ علاقائی استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے اور مستقبل میں بھی امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
سینیٹر خلیل طاہر سندھو نے اپنے خطاب میں پاکستان میں مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہونے والی پیش رفت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، مذہبی ادارے اور سول سوسائٹی مشترکہ طور پر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کے لیے کوشاں ہیں جہاں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مساوی حقوق اور احترام حاصل ہو۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی رہنما اور عقیدے سے وابستہ برادریاں معاشرتی ہم آہنگی، برداشت اور اتحاد کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں، جبکہ نفرت، تقسیم اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے بین المذاہب مکالمہ ناگزیر ہے۔
اس موقع پر سینیٹر خلیل طاہر سندھو کے ہمراہ یوتھ ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن پاکستان کے بانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر شاہد رحمت، فادر آکاش اور کلائیو جوزف بھی موجود تھے۔ وفد نے عالمی برادری کے سامنے پاکستان کے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک امن، بین المذاہب مکالمے، نوجوانوں کی قیادت اور کمیونٹی شمولیت کے ذریعے ایک جامع، پرامن اور ہم آہنگ معاشرے کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
کانفرنس میں کیتھولک پادریوں، بشپ صاحبان، آرچ بشپ، ویٹی کن کے نمائندوں، امریکی بشپ کانفرنس کے ارکان، ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں اور دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے مذہبی و سماجی رہنماؤں نے شرکت کی، جہاں عالمی امن، مذہبی آزادی اور بین المذاہب تعاون جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔