دنیا کی عالمی طاقتوں کے منصوبے انتہائی خطرناک ہیں، امت مسلمہ کی بقا کا واحد راستہ اتحاد ہے: مولانا فضل الرحمان

پشین : جمعیت علماء اسلام (ف) کے زیر اہتمام پشین میں “تحفظ دینی مدارس اور حقوق بلوچستان” کے عنوان سے ایک عظیم الشان اور تاریخی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہزاروں کارکنان، علماء کرام اور عوام نے شرکت کی۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان تھے۔

پشین سپورٹس کمپلیکس میں منعقدہ اس بڑے اجتماع میں صوبے بھر سے کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جبکہ اسٹیڈیم کے اندر جگہ کم پڑنے پر ہزاروں افراد نے باہر کھڑے ہو کر کانفرنس میں شرکت کی۔

کانفرنس سے قبل مولانا فضل الرحمان کو پشین ریسٹ ہاؤس میں ایم پی اے اصغر خان ترین، ایم پی اے سردارزادہ سید ظفر علی آغا اور مختلف محکموں کے افسران نے ضلع پشین میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر جے یو آئی بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔

کانفرنس سے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع، صوبائی جنرل سیکرٹری سید آغا، مولانا محمود شاہ، مولانا حافظ حمداللہ، شیخ الحدیث مولانا فیض محمد، صوبائی ناظم دینی مدارس، مرکزی فنانس سیکرٹری مولانا صلاح الدین ایوبی، مولانا حافظ محمد یوسف، حافظ حسین احمد شرودی، ملک سکندر خان ایڈووکیٹ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر آج پاکستان ایک متحد ملک اور ریاست کی صورت میں قائم ہے تو اس میں جمعیت علماء اسلام کی جدوجہد کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین نے ہمیشہ جے یو آئی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جمعیت علماء اسلام اس وقت ملک کی سب سے بڑی اسٹریٹ پاور ہے اور پشین کا یہ عظیم الشان اجتماع اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں بدامنی، خونریزی، لاقانونیت اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے جبکہ قومیت اور انتہاپسندی کے نام پر برادر اقوام میں نفرتیں پھیلانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ تاہم جمعیت علماء اسلام ان حالات کے سامنے کبھی نہیں جھکے گی۔

انہوں نے عالمی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ خطے میں ایک خطرناک کھیل کے آغاز کا اشارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی بڑی طاقتوں کے منصوبے انتہائی خطرناک ہیں اور امت مسلمہ کی نجات اور بقا کا واحد راستہ باہمی اتحاد اور ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہونا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کی داخلی اور خارجی پالیسیوں کی کامیابی کا راستہ منتخب ایوانوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ قومی فیصلوں کو عوامی نمائندوں کے فورم پر لایا جانا چاہیے تاکہ جمہوری عمل مضبوط ہو اور ریاستی معاملات شفاف انداز میں چلائے جا سکیں۔

انہوں نے 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بعض سیاسی جماعتیں اس اہم معاملے پر خاموش کیوں ہیں، جبکہ ماضی میں آئین کو مختلف طریقوں سے متاثر کیا جاتا رہا ہے۔

جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ ملک کے مقتدر حلقوں کو وفاداری اور غداری کی سیاست سے نکل کر زمینی حقائق کا جائزہ لینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرحدیں مختلف ہمسایہ ممالک کے ساتھ بند ہیں، لاکھوں نوجوان بے روزگار ہیں اور حکمران دینی مدارس کے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ دینی مدارس کے خلاف اقدامات کوئی نئی بات نہیں، گزشتہ دو صدیوں سے ایسے چیلنجز کا سامنا کیا جا رہا ہے اور علماء نے ہمیشہ جرات اور استقامت کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کا راستہ بند کمروں میں فیصلے کرنے یا عوامی نمائندوں کی خرید و فروخت میں نہیں بلکہ آزاد، شفاف اور منصفانہ انتخابات میں ہے، جس کے لیے جمعیت علماء اسلام اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

انہوں نے بلوچستان کے وسائل اور حقوق کے حوالے سے کہا کہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے وسائل پر کسی قسم کا ڈاکہ ڈالنے یا مقامی عوام کے حقوق سلب کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی کو اپنی زمینوں اور وسائل پر مکمل حق حاصل ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے جہاں قومی مفاد میں مثبت اقدامات کی حمایت کی وہاں ان کی تعریف بھی کی، اور ایران و امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان کے مثبت کردار کو بھی سراہا، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ کسی غیر آئینی یا غیر جمہوری اقدام کی حمایت کریں گے۔

انہوں نے مغربی دنیا اور عالمی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا میں جمہوریت کی حقیقت کو عالمی طاقتوں کے طرز عمل سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے، جبکہ مغربی دنیا سرمایہ دارانہ نظام کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

کانفرنس کے اختتام پر ملکی سلامتی، استحکام، بلوچستان کے حقوق، دینی مدارس کے تحفظ اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔