وہ زہر جو ہماری رگوں میں اترتا جا رہا ہے – ایک جاگتی ہوئی تباہی کی داستان

آج کی دنیا ترقی کی جس دوڑ میں مبتلا ہے، اس دوڑ کے راستے ہم نے ایسے ہتھیار بنائے ہیں جو دشمن سے زیادہ خود ہمارے وجود کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ مصنوعی بارشیں، کھادوں کی زہریلی خوراک، اور کیڑے مار زہروں کا اندھا دھند استعمال – یہ وہ چھپے ہوئے جنگی جرائم ہیں جو کسی اعلان کے بغیر انسانیت کے خلاف برپا ہیں۔ ہم اس خوبصورت زمین کو بتدریج قبرستان میں تبدیل کر رہے ہیں، اور سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم خود کو محافظ سمجھتے ہیں۔

مصنوعی بارشوں کا معاملہ اپنی جگہ ایک المیہ ہے۔ جہاں کہیں بھی بادل چھانٹنے یا کلاؤڈ سیڈنگ کے ذریعے بارش برسائی جاتی ہے، وہاں اس کے فوری فوائد تو نظر آتے ہیں، لیکن طویل مدتی نقصانات انتہائی خوفناک ہیں۔ مصنوعی بارشوں میں استعمال ہونے والے سلور آئیوڈائیڈ، لیڈ، اور دیگر کیمیکلز جب فضاء میں چھوڑے جاتے ہیں، تو یہ زمین پر گرنے کے بعد مٹی، پانی، اور ہوا کو آلودہ کر دیتے ہیں۔ یہ زہریلے ذرات انسانی پھیپھڑوں میں جمع ہوتے ہیں، دمہ، کینسر، اور اعصابی امراض کو جنم دیتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں پہلے ہی اس کے اثرات دیکھے جا چکے ہیں – جہاں مصنوعی بارشوں کے بعد پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار میں زہریلی دھاتوں کی مقدار بڑھ گئی، وہاں بچوں میں ذہنی امراض اور پیدائشی نقائص کی شرح میں اضافہ ہوا۔

اسی طرح مصنوعی کھادیں، جنہیں ہم سبز انقلاب کا معجزہ کہہ کر بھولے، وہ دراصل مٹی کو بانجھ کرنے کا زہر ہیں۔ نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم کے اس کیمیائی امتزاج نے فوری طور پر پیداوار تو بڑھا دی، لیکن اس کی قیمت چکائی زمین کی جان لے کر۔ مٹی کے اندر موجود فائدہ مند جرثومے مر گئے، زمین کی قدرتی زرخیزی ختم ہو گئی، اور کھاد کا انحصار ایک لت بن گیا۔ جب یہ کھادیں بارش یا آبپاشی کے ساتھ زیرزمین پانی میں شامل ہوتی ہیں، تو پینے کے پانی میں نائٹریٹ کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے، جس سے بچوں میں بلیو بیبی سنڈروم جیسی بیماریاں پھیلتی ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ طویل عرصے تک مصنوعی کھادوں کے استعمال والے علاقوں میں لوگوں میں تھائرائیڈ کے امراض، معدے کے کینسر، اور گردوں کی خرابی کی شرح عام علاقوں سے دگنی ہے۔ زمین کی روح نکال دی گئی ہے، اور وہ روح ہمارے جسم میں قید ہو کر ہمیں اندر ہی اندر کھا رہی ہے۔

پھر آتے ہیں کیڑے مار زہروں کی طرف – وہ کیمیکل جو فصلوں پر حملہ آور کیڑوں کے خلاف استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ خود انسانوں کے خلاف سب سے بڑے ہتھیار ہیں۔ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً تین ملین افراد کیڑے مار زہروں کے براہ راست یا بالواسطہ اثرات سے شدید بیمار ہوتے ہیں، اور دو لاکھ سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف رپورٹ ہونے والے کیسز ہیں۔ اصلی تباہی تو اس وقت ہوتی ہے جب یہ زہر خوراک کی زنجیر میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ایک کسان اپنے کھیتوں پر ڈی ڈی ٹی یا گلائفوسٹیٹ جیسی زہریلی دوائیں چھڑکتا ہے، وہی زہر اس کی سبزیوں کے ذریعے اس کے گھر کی خوراک میں داخل ہو جاتا ہے، اور پھر اس کے بچے کی ماں کے دودھ میں شامل ہو کر نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور افریقہ کے دیہی علاقوں میں تو یہ معمول بن چکا ہے – کسان زہر خریدتا ہے، اسے بغیر کسی حفاظتی لباس کے چھڑکتا ہے، اور خود بھی اس کے دھوئیں میں سانس لیتا ہے۔ چند سال بعد اسے کینسر ہو جاتا ہے، لیکن وہ کبھی اس زہر اور اپنی بیماری کے تعلق کو نہیں سمجھ پاتا۔

اب سوال یہ ہے کہ دنیا کو کیسے بیدار کیا جائے؟ ہم کیسے لوگوں تک یہ پیغام پہنچائیں کہ ان کی روزمرہ کی روٹی، ان کا پانی، ان کی ہوا، سب زہر میں تبدیل ہو چکی ہے؟ سب سے پہلے تو ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں، بلکہ انسان کی اپنی بنائی ہوئی تباہی ہے۔ اور اس تباہی کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ وہ بڑے زرعی کارپوریشنز، وہ کیمیائی کمپنیاں، وہ حکومتیں جو ان مصنوعی کھادوں اور زہروں پر سبسڈی دیتی ہیں، وہ سائنسدان جو مصنوعی بارشوں کو معجزہ قرار دیتے ہیں – یہ سب مل کر ایک ایسا نظام چلا رہے ہیں جہاں فوری منافع سب کچھ ہے، اور آنے والی نسلوں کی زندگی کوئی قیمت نہیں رکھتی۔ دنیا کو جگانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم تعلیم کو ہتھیار بنائیں۔ اسکولوں، کالجوں، مساجد، گرجا گھروں، دیہات کے چوپالوں، شہروں کے چوکوں – ہر جگہ اس بات کا شعور اجاگر کیا جائے کہ قدرتی کھیتی ہی واحد راستہ ہے۔ کمپوسٹ، گوبر کی کھاد، فصلوں کی گردش، حیاتیاتی کیڑے مار دوا – یہ پرانے طریقے دراصل مستقبل کی ضمانت ہیں۔ حکومتوں پر دباؤ ڈالنا ہو گا کہ وہ کیمیائی کھادوں پر سبسڈی ختم کریں اور نامیادی کھیتی کو فروغ دیں۔ مصنوعی بارشوں پر پابندی لگائی جائے، اور اس کے بدلے بارش کے پانی کے ذخیرہ کرنے کے قدرتی نظام کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔

لیکن ہم صرف زرعی نقصانات کی بات نہیں کر رہے۔ یہ زہر جہاں فصلوں کو کھا رہا ہے، وہیں انسانی معاشرے کے تانے بانے کو بھی تحلیل کر رہا ہے۔ ایک آدمی جگر توڑ محنت کرتا ہے، ساری عمر کی کمائی جمع کرتا ہے، پھر ایک مکان بناتا ہے – اس کی اپنی جنت۔ کچھ ہی برسوں میں اس کے آس پاس کے کھیت زہر سے بھر جاتے ہیں، زیر زمین پانی آلودہ ہو جاتا ہے، ہوا میں زہر گھل جاتا ہے۔ اس کا مکان چاہے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اس کے بچے بیمار پڑنے لگتے ہیں، اس کی بیوی کینسر کا شکار ہو جاتی ہے، اس کی پوری زندگی کی محنت ایک قبرستان بن کر رہ جاتی ہے۔ پھر وہ اپنا گھر چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو جاتا ہے، اور جو مکان اس نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا، وہ ویران پڑا بوسیدہ ہوتا ہے۔ کیا یہ تباہی نہیں؟ کیا یہ ظلم نہیں؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا اس تباہی کا کوئی نام نہیں؟

دنیا کا امن بھی اسی طرح تباہ ہو رہا ہے۔ جب لوگوں کو خوراک نہیں ملتی، پانی آلودہ ہو جاتا ہے، زمین بانجھ ہو جاتی ہے، تو پھر بقا کی جدوجہد شروع ہوتی ہے۔ کسان قرضوں کے بوجھ تلے دب کر خودکشی کر لیتے ہیں – ہندوستان اور پاکستان کے کسانوں کی خودکشیوں کے اعداد و شمار خوفناک ہیں۔ باقی بچنے والے لوگ شہروں کی طرف ہجرت کرتے ہیں، وہاں بے روزگاری، غربت، اور جرائم بڑھتے ہیں۔ پھر وہ لوگ جب انتہا کو پہنچتے ہیں تو وہ مذہب، نسل، یا علاقے کی بنیاد پر ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے تنازعات بڑی جنگوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ماحولیاتی تباہی اور انسانی امن کا براہ راست تعلق ہے – جہاں زمین زہریلی ہو جاتی ہے، وہاں انسان بھی زہریلا ہو جاتا ہے۔ جب کسی علاقے میں پانی ہی زہر آلود ہو، تو وہاں کے لوگ امن کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں؟ وہ کسی بھی بہانے سے ایک دوسرے پر حملہ کر دیں گے، کیونکہ ان کی بقا کو خطرہ ہے۔

ہم ارباب اختیار کو کیسے آگاہ کریں؟ وہ لوگ جو ایئر کنڈیشنڈ دفاتر میں بیٹھے فیصلے کرتے ہیں، وہ کبھی اس کسان کی آنکھوں میں نہیں دیکھتے جس کے کھیت میں زہر ڈالا جا رہا ہے۔ انہیں بتانا ہو گا کہ یہ معاشی ترقی کے اعداد و شمار جھوٹے ہیں – اگر مٹی مر رہی ہے، پانی مر رہا ہے، ہوا مر رہی ہے، لوگ مر رہے ہیں، تو یہ ترقی نہیں، خودکشی ہے۔ انہیں احتجاج کی ضرورت ہے، نہ کہ چاپلوسی کی۔ سائنسدانوں کو چاہیے کہ وہ مصنوعی بارشوں اور کیمیائی کھادوں کے نقصانات پر کھل کر بات کریں، چاہے ان کی فنڈنگ ختم ہی کیوں نہ ہو جائے۔ صحافیوں کو چاہیے کہ وہ ان کارپوریشنز کے نام نکالیں جو زہر بیچ کر منافع کما رہی ہیں، اور انہیں انسانی المیے کا ذمہ دار ٹھہرائیں۔ عدالتوں کو چاہیے کہ وہ کیمیکل کمپنیوں کے خلاف کلاس ایکشن مقدمات قابل سماعت بنائیں۔ عوام کو چاہیے کہ وہ ہر جمعرات کو اپنی سبزیوں پر کیمیکل ٹیسٹ کریں، اور ہر بدھ کو اپنے نلکے کے پانی کی لیبارٹری جانچ کریں۔ جب ہر گھر میں یہ آگاہی ہو گی، تب جا کر کارپوریشنز کو شرم آئے گی۔

دنیا کو جگانے کا سب سے مؤثر طریقہ کہانیاں ہیں، اعداد و شمار نہیں۔ جب آپ بتائیں گے کہ ایک ماں کا بچہ اس لیے مر گیا کیونکہ اس نے اپنے باغ میں کیڑے مار زہر استعمال کیا تھا، تو وہ کہانی دل میں اتر جائے گی۔ جب آپ بتائیں گے کہ ایک کسان نے اپنی بیوی کے علاج کے لیے قرض لیا، پھر جب بیوی مر گئی تو اس نے خود بھی وہی زہر پی لیا جو اس نے اپنی فصلوں پر چھڑکا تھا، تو وہ کہانی آنکھوں میں پانی لے آئے گی۔ یہ کہانیاں اجتماعی طور پر ایک تحریک بن سکتی ہیں۔ ایک تحریک جو چاہے گی کہ واپس فطرت کی طرف لوٹیں – جہاں بارش مصنوعی نہیں، قدرتی ہو، جہاں کھاد گوبر کی ہو، زہر کی نہیں، جہاں کیڑے پرندے کھائیں، انسان نہیں۔

ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ سائنس بری ہے یا ترقی کو روک دیا جائے۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ سائنس کو انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے، نہ کہ اس کے قتل کی۔ مصنوعی بارش جہاں خشک سالی کے خلاف ہتھیار ہے، وہیں اسے استعمال کرنے سے پہلے صحت کے مضمرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ کیمیائی کھاد جہاں فاقہ کشی روک سکتی ہے، وہیں اسے اس انداز میں استعمال کرنا ہو گا کہ مٹی کی صحت برقرار رہے۔ کیڑے مار زہر کو صرف آخری حربے کے طور پر استعمال کیا جائے، نہ کہ معمول کے طریقے کے طور پر۔

آج اگر ہم نہیں جاگیں گے تو کل ہماری نسلیں ہم سے پوچھیں گی: تمہیں پتا تھا کہ تم زہر پی رہے ہو، پھر بھی تم چپ بیٹھے رہے؟ تم نے دیکھا کہ تمہاری زمین مر رہی ہے، پھر بھی تم کھاد ڈالتے رہے؟ تم نے جان لیا کہ تمہاری ہوا زہریلی ہے، پھر بھی تم نے سانس لینا جاری رکھا؟ یہ سوال ہمیں آج اذیت دینے چاہئیں، تاکہ ہم کل کا جواب تیار کر سکیں۔ اور وہ جواب صرف عمل ہو گا – آج سے، ابھی سے، گھر کے پچھواڑے میں ایک چھوٹی سی سبزی اگانے سے، بازار سے کیمیائی کھادوں سے پکی سبزیاں خریدنے سے انکار کرنے سے، اپنے علاقے کے پانی کی جانچ کرانے سے، اور جہاں کہیں بھی مصنوعی بارش کی منصوبہ بندی ہو، اس کے خلاف آواز اٹھانے سے۔

ہم اس خوبصورت دنیا کے قرض دار ہیں۔ اس کی ہر شاخ، ہر پتّا، ہر قطرہ، ہر ذرّہ ہمارے وجود کا حصہ ہے۔ جب ہم اسے زہر دیتے ہیں، تو ہم خود کو زہر دیتے ہیں۔ جب ہم اسے تباہ کرتے ہیں، تو ہم اپنے آنے والے کل کے خوابوں کو تباہ کرتے ہیں۔ وہ مکان جو ایک آدمی نے ساری عمر کی کمائی سے بنایا، اگر اس کے گرد کی زمین مر جائے، تو وہ مکان ایک قبر ہے۔ اور ہم قبرستان میں رہ کر بھی امن کی باتیں کرتے ہیں۔ یہ جاگنے کا وقت ہے، یہ بدلنے کا وقت ہے، یہ واپس جانے کا وقت ہے – فطرت کی طرف، جڑوں کی طرف، اور اس معصوم زمین کی طرف جس نے ہمیں کبھی دھوکہ نہیں دیا، ہم ہیں جو اسے روز دھوکہ دیتے ہیں۔ آج وعدہ کریں کہ ہم اس زہر کے خلاف کھڑے ہوں گے، خواہ کوئی بھی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔ کیونکہ تباہی نے ہمارے دروازے پر دستک دے دی ہے، اور اب ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں – یا تو ہم اسے اندر آنے دیں، یا ہم مل کر دروازہ بند کریں۔ انتخاب ہمارا ہے۔