(بے ضمیر کا قبرستان کہاں ہے؟)
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اس عارضی دنیا میں بسنے والے لوگ زندگی گزارتے ہوئے کیا کیا سہہ جاتے ہیں۔ اس چاپلوس دور میں ایک شریف انسان کی زندگی اجیرن ہو کر نہیں، بلکہ ایک المناک سانحہ بن کر گزر جاتی ہے۔
عزت کی پناہ مانگتے ہوئے، جان کی بقا کے لیے فریاد کرتے ہوئے، اور انسانی ہمدردی کی التجا کرتے ہوئے انسان ایسے واقعات سے گزرتا ہے کہ انسانیت خود شرما جائے۔
گزشتہ کالم میں ایک بے بس ماں اور اس کے بچوں کی حالتِ زار پر لکھ کر میں نے صرف اتنا پوچھا تھا: انسان دوسرے انسان کی زندگی کو وحشی درندے کی طرح تباہ کر کے، ایک لمحے کو دلخراش بنا کر، اپنی خوشی اور تسکین کیوں محسوس کرتا ہے؟ اور پھر خود کو طاقتور سمجھ کر مطمئن ہو بیٹھتا ہے؟
میں اکثر سوچتا ہوں کہ رب العالمین نے اپنے کلام میں چیلنج کے طور پر انسانیت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: “مجھ سے بڑھ کر طاقتور کون ہے؟ میں ہی مردوں کو زندہ کرتا ہوں۔” جبکہ دنیا کے یہ نام نہاد طاقتور تو صرف ایک یا دو گولی سے کسی کی جان لے سکتے ہیں۔ حالانکہ مارنا تو دنیا کا کمزور سے کمزور اور طاقتور سے طاقتور انسان بھی کر سکتا ہے، مگر زندگی دینا کسی کے بس میں نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اصل طاقت صرف اور صرف رب العزت کے پاس ہے۔ باقی چھوٹے بڑے تمام طاقتور صرف موت ہی دے سکتے ہیں۔
دنیا نے دیکھ لیا کہ نام نہاد سپر پاور امریکہ اور اسرائیل نے پاکستان کے ذریعے ایران کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ مگر شام سے لے کر پوری مسلم امہ کا خون جس طرح ارزاں کیا گیا، آج تک ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اصل موضوع سے ہٹنے پر معذرت۔
آج ہم نے چالاکی کو ہوشیاری، دھوکے بازی کو بیداری، اور چند ٹکوں کے عوض جی حضوری کو بہتر تعلقات کا نام دے دیا ہے۔ ہم اپنے گریبان میں جھانک کر نہیں دیکھتے۔ ہمارے معاشرے میں باعزت لوگ کیوں خاموش ہیں؟ میدان اس طرح سج چکا ہے کہ حق اور باطل کی تمیز ہی ختم ہو گئی ہے۔ چاپلوس اور خود غرض لوگ اچھی زندگی گزارنے کے لیے حیوانیت اپنانے پر بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔
اس معاشرے کی اصلاح کون کرے گا؟ ظالم کی بربریت سے پردہ کون اٹھائے گا؟ ہمارے اردگرد کتنے ہی انسان مشکلات اور مصائب سے بھری زندگی گزار رہے ہیں، اور ہم خاموش ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ہم مصلحت اور مفادات کے شکار ہو چکے ہیں۔
میں تو کہتا ہوں: کاش بے ضمیروں کا کوئی الگ قبرستان بھی ہوتا۔
آج کا کالم تلخ ضرور ہے، لیکن اصلاح کی نیت سے ہمیں سوچنا ہوگا۔ اس پر مزید گفتگو اگلے کالم میں۔
تمام قارئین ہمارے اردو اور انگریزی کالمز ہر ہفتے چار مرتبہ ہمارے ایکس اکاؤنٹ پر پڑھ سکتے ہیں۔