برطانیہ کا ایران جنگ سے انکار، کیئر اسٹارمر کا اہم بیان

برطانیہ کا ایران جنگ سے فاصلہ: کیئر اسٹارمر کا واضح مؤقف

امریکی دباؤ کے باوجود جنگ میں شمولیت سے انکار

میاں افتخار احمد

برطانوی وزیرِاعظم Keir Starmer نے ایران کے معاملے پر ایک دو ٹوک اور واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کسی بھی صورت ایران کے خلاف ممکنہ جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ امریکہ کی جانب سے اس معاملے پر شدید سفارتی اور سیاسی دباؤ موجود ہے تاہم برطانیہ اپنی خارجہ پالیسی آزادانہ بنیادوں پر تشکیل دے گا اور کسی بھی ایسے اقدام کا حصہ نہیں بنے گا جو خطے میں مزید کشیدگی اور عدم استحکام کا باعث بنے، برطانوی قیادت کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور عالمی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے تحت صف بندی میں مصروف ہیں
کیئر اسٹارمر نے مزید واضح کیا کہ برطانیہ نہ صرف ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہوگا بلکہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی کی بھی حمایت نہیں کرے گا، انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور اس کی بندش عالمی معیشت کے لیے شدید بحران کا باعث بن سکتی ہے، برطانوی حکومت کا مؤقف ہے کہ ایسے اقدامات عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ اور عالمی سپلائی چین کو متاثر کر سکتے ہیں، برطانیہ نے اس موقع پر سفارتی حل، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کو ہی واحد راستہ قرار دیتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور خطے کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیلنے سے گریز کریں