امریکہ اور ایران کے مذاکرات کا سلسلہ جاری، پاکستان ثالثی میں مصروف
پہلا دور بغیر معاہدے ختم ہوا، دوسرے دور کی تیاریاں جاری
میاں افتخار احمد
امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات باضابطہ معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے، تاہم مذاکرات کا عمل ختم نہیں ہوا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کی کہ ایران نے جوہری ہتھیاروں سے متعلق امریکی شرائط قبول نہیں کیں، لیکن انہوں نے دونوں طرف سے بہتر پیشرفت ہونے کا بھی کہا۔ اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے اور دوسرے دور کے مذاکرات کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔
پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان دوسرے دور کے مذاکرات 22 اپریل سے پہلے شروع کرنے کی تجویز دی ہے اور اس کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور دفاعی وزیر خواجہ آصف نے مثبت پیشرفت کے اشارے دئیے ہیں۔ دوسرا دور ممکنہ طور پر 16 اپریل کو ہو سکتا ہے، جس کے لیے پاکستان فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستانی وزیراعظم کا ترکی اور سعودی عرب کا نیا دورہ اس وقت نہیں ہوا، تاہم وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 12 اور 13 اپریل کو سعودی عرب، مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔ ان رابطوں میں جنگ بندی پر عملدرآمد اور مذاکرات کو جاری رکھنے کی اہمیت پر بات ہوئی۔
گزشتہ ماہ مارچ میں پاکستان نے سعودی عرب، ترکی اور مصر کو امریکہ ایران مذاکرات میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی اور ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسلام آباد کا دورہ بھی کیا تھا۔ اس حوالے سے اعلیٰ سطحی مشاورت ہو چکی ہے اور حالیہ ٹیلیفونک رابطوں کے دوران بھی ان ممالک سے تعاون طلب کیا گیا ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ دوسرے دور کے مذاکرات 22 اپریل سے پہلے مکمل ہو جائیں