تیل، جنگیں اور عوامی معیشت کا امتحان

دنیا کی معیشت میں توانائی ہمیشہ سے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ خام تیل صرف ایک کموڈٹی نہیں بلکہ عالمی سیاست، جنگ، امن اور معاشی طاقت کا سب سے بڑا ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جب بھی کوئی جنگ یا کشیدگی جنم لیتی ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ حالیہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور محدود جنگ نے بھی یہی ثابت کیا کہ عالمی معاشی نظام اب بھی تیل کی قیمتوں کے رحم و کرم پر ہے۔

اس کشیدگی سے قبل عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 68 سے 70 ڈالر فی بیرل کے درمیان مستحکم تھی۔ سرمایہ کار نسبتاً پُرسکون تھے اور سپلائی چین بھی معمول کے مطابق چل رہی تھی۔ لیکن جیسے ہی خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہوئے، آبنائے ہرمز کے ممکنہ بند ہونے، ایرانی تیل کی برآمدات میں رکاوٹ اور امریکی فوجی مداخلت کے خدشات نے مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا۔ چند ہی دنوں میں خام تیل 78 سے 82 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ یہ اضافہ بظاہر چند ڈالر کا تھا لیکن عالمی معیشت میں اس کا اثر کئی ارب ڈالر کے بوجھ کی صورت میں ظاہر ہوا۔

جنگ کے دوران دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر کا خدشہ پیدا ہوا۔ خاص طور پر ان ممالک میں جو درآمدی تیل پر انحصار کرتے ہیں، وہاں معاشی بے چینی بڑھ گئی۔ پاکستان بھی انہی ممالک میں شامل ہے جہاں توانائی کا بڑا حصہ بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ چنانچہ جیسے ہی عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوا، پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی بحث شروع ہو گئی۔

جنگ سے قبل پاکستان میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 252 سے 256 روپے فی لیٹر کے درمیان تھی۔ یہ وہ دور تھا جب عالمی خام تیل نسبتاً سستا تھا اور روپے کی قدر بھی کسی حد تک مستحکم تھی۔ لیکن جیسے ہی عالمی قیمتیں بڑھیں اور درآمدی دباؤ میں اضافہ ہوا، پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 258 روپے سے تجاوز کرتے ہوئے 265 روپے فی لیٹر کے قریب جا پہنچی۔ بعض اوقات ڈیزل کی قیمت اس سے بھی زیادہ رفتار سے بڑھی اور 260 سے 270 روپے کے درمیان پہنچ گئی۔

یہ وہ مرحلہ تھا جب عوامی سطح پر مہنگائی کا دباؤ نمایاں ہونے لگا۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوا، اشیائے خورونوش مہنگی ہوئیں اور صنعتی لاگت میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ لیکن اصل سوال اس وقت پیدا ہوا جب جنگ ختم ہوئی یا کم از کم اس کی شدت میں واضح کمی آئی اور عالمی منڈی میں خام تیل دوبارہ نیچے آنا شروع ہوا۔

جنگ بندی کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ دوبارہ 72 سے 75 ڈالر فی بیرل کے درمیان آ گیا، یعنی تقریباً وہی سطح جس پر یہ تنازع سے پہلے موجود تھا۔ بعض دنوں میں یہ اس سے بھی نیچے گیا۔ امریکی اور ایشیائی مارکیٹوں میں تیل کی قیمتیں مستحکم ہونے لگیں اور سپلائی چین میں بھی بہتری آنا شروع ہو گئی۔ دنیا کے کئی ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، اگرچہ یہ کمی فوری اور مکمل نہیں تھی۔

یہاں پاکستان کے لیے سب سے اہم سوال پیدا ہوا کہ اگر عالمی قیمتیں دوبارہ پرانی سطح پر آ گئی ہیں تو کیا پاکستان میں بھی پیٹرول کی قیمتیں اسی تناسب سے واپس آنی چاہئیں؟ اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے ہمیں صرف عالمی قیمت نہیں بلکہ مقامی معاشی ڈھانچے کو بھی دیکھنا ہوگا۔

پاکستان میں پیٹرول کی قیمت صرف خام تیل کی عالمی قیمت پر منحصر نہیں ہوتی۔ اس میں کئی اضافی عوامل شامل ہوتے ہیں جن میں درآمدی لاگت، شپنگ چارجز، انشورنس، ریفائننگ مارجن، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع اور سب سے بڑھ کر حکومتی ٹیکس اور پٹرولیم لیوی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں کمی کے باوجود مقامی قیمتیں اسی رفتار سے نیچے نہیں آتیں جس رفتار سے وہ بڑھتی ہیں۔

اگر ہم تناسبی تجزیہ کریں تو ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے۔ جب خام تیل تقریباً 68 ڈالر فی بیرل تھا تو پاکستان میں پیٹرول تقریباً 252 روپے فی لیٹر تھا۔ جب خام تیل جنگ کے دوران 80 ڈالر تک گیا تو پاکستان میں پیٹرول تقریباً 265 روپے تک پہنچا۔ یعنی عالمی سطح پر تقریباً 15 سے 18 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پاکستان میں تقریباً 5 سے 7 فیصد اضافہ منتقل ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اضافہ مکمل طور پر فوراً منتقل نہیں کیا گیا بلکہ جزوی طور پر ایڈجسٹ کیا گیا۔

لیکن جب جنگ ختم ہوئی اور عالمی قیمتیں دوبارہ 70 ڈالر کے قریب آ گئیں، تو پاکستان میں قیمتیں مکمل طور پر اسی تناسب سے کم نہیں ہوئیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو عوامی سطح پر سب سے زیادہ زیر بحث رہتا ہے۔ اگر اضافہ جزوی منتقل ہوتا ہے تو کمی مکمل کیوں نہیں ہوتی؟
اگر اسی تناسب کو بنیاد بنایا جائے تو ایک سادہ معاشی حساب کچھ یوں بنتا ہے:

اگر 68 ڈالر پر 252 روپے فی لیٹر قیمت تھی تو 70 ڈالر پر قیمت تقریباً 258 سے 260 روپے ہونی چاہیے تھی۔ اور اگر جنگ کے دوران 80 ڈالر پر قیمت 265 روپے تک گئی تو عالمی کمی کے بعد اسے دوبارہ 252 سے 255 روپے کے درمیان آنا چاہیے تھا۔ یعنی آج کے حالات میں پاکستان میں پیٹرول کی “منصفانہ قیمت” تقریباً 250 سے 255 روپے فی لیٹر کے درمیان ہونی چاہیے تھی۔

لیکن زمینی حقیقت اس سے مختلف ہے۔ آج بھی پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں اس سطح سے کچھ اوپر یا اس کے قریب ہی برقرار ہیں۔ اس فرق کی بنیادی وجہ وہی معاشی ڈھانچہ ہے جس میں پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز کو ایک مستقل ریونیو سورس کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جب عالمی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو حکومتیں اس ریلیف کو مکمل طور پر صارف تک منتقل کرنے کے بجائے اپنے مالی خسارے کو کم کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
یہی وہ نکتہ ہے جو معاشی پالیسی اور عوامی توقعات کے درمیان خلیج پیدا کرتا ہے۔ عوام کا خیال یہ ہوتا ہے کہ جب عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوں تو فوری ریلیف ملنا چاہیے، جبکہ حکومتی نقطہ نظر مالی توازن اور بجٹ خسارے کو مدنظر رکھتا ہے۔

اس صورتحال کا ایک اور پہلو بھی انتہائی اہم ہے۔ پاکستان کی معیشت میں ٹرانسپورٹ اور توانائی کی لاگت براہ راست مہنگائی کی شرح کو متاثر کرتی ہے۔ جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے، اور جب پیٹرول سستا ہوتا ہے تو مہنگائی میں کمی کا اثر دیر سے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تیل کی قیمت صرف ایک عدد نہیں بلکہ پوری معیشت کی نبض ہے۔
عالمی سطح پر بھی یہی رجحان دیکھا گیا ہے کہ حالیہ جنگ کے بعد اگرچہ خام تیل کی قیمتیں نیچے آئی ہیں لیکن صارفین کو فوری اور مکمل ریلیف نہیں ملا۔ کئی ممالک میں قیمتوں میں جزوی کمی کی گئی جبکہ کچھ نے بالکل بھی فوری ایڈجسٹمنٹ نہیں کی۔ اس کی وجہ وہی عالمی سپلائی چین اور اسٹاک مینجمنٹ کا نظام ہے جس میں تیل پہلے سے خرید کر ذخیرہ کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے لیے اصل سبق یہ ہے کہ توانائی کی قیمتوں کے تعین میں شفافیت اور مستقل مزاجی پیدا کی جائے۔ اگر عوام کو یہ واضح طور پر بتایا جائے کہ عالمی قیمت، ڈالر ریٹ، ٹیکسز اور دیگر اخراجات کا کیا تناسب ہے تو اعتماد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر ہر بار یہی سوال اٹھے گا کہ جب عالمی قیمت بڑھتی ہے تو فوری اضافہ کیوں اور جب کم ہوتی ہے تو ریلیف دیر سے کیوں؟

ایران، اسرائیل اور امریکہ کی حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ دنیا میں امن ہو یا جنگ، اس کا سب سے بڑا بوجھ عام آدمی اٹھاتا ہے۔ لیکن ایک ذمہ دار ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی منڈی کے فوائد کو بھی عوام تک اسی توازن کے ساتھ منتقل کرے جس توازن کے ساتھ وہ نقصانات کو منتقل کرتی ہے۔

آخر میں یہ بات واضح ہے کہ اگر صرف معاشی اصولوں کو دیکھا جائے تو آج پاکستان میں پیٹرول کی منصفانہ قیمت تقریباً 250 سے 255 روپے فی لیٹر ہونی چاہیے تھی۔ اس سے اوپر جو فرق ہے وہ عالمی قیمت کا نہیں بلکہ مقامی مالیاتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو عوامی بحث، معاشی پالیسی اور سیاسی فیصلوں کے درمیان ہمیشہ موجود رہے گی۔