سفید کوٹ لہولہان کیوں؟
تحریر: ڈاکٹر حرا یوسف خان
لندن سے وِک جانے والی ٹرین پوری رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی۔ ایک طویل اور تھکا دینے والا سفر اپنے اختتام کے قریب تھا۔ جسمانی، ذہنی اور جذباتی تھکن اپنے عروج پر تھی۔
کھڑکی کے باہر انگلینڈ کے سرسبز کھیت، خاموش بستیاں، ایک جیسے گھر، برستے بادل اور بدلتے مناظر تھے، لیکن میرے اندر ایک اور سفر جاری تھا۔ ایسا سفر جو ہزاروں میل دور بلوچستان کی سنگلاخ وادیوں اور کراچی کی مصروف شاہراہوں تک پھیلا ہوا تھا۔
میرا ذہن بار بار دو ناموں کے گرد گھوم رہا تھا: ڈاکٹر ماہ نور ناصر اور شہید ڈاکٹر مہر اللہ ترین۔
کل میری تیرہ سالہ بیٹی نے مجھ سے کہا:
“مما، آپ میری رول ماڈل ہیں۔”
یہ سن کر یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے دل میں چھرا گھونپ دیا ہو۔ میں دیر تک سوچتی رہی کہ آخر رول ماڈل ہوتا کون ہے؟ کیا صرف وہ جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرے؟ جو اپنے پیشے میں کامیاب ہو؟ جو بڑے عہدوں تک پہنچ جائے؟
نہیں۔
رول ماڈل وہ ہوتا ہے جو سچ کے ساتھ کھڑا ہو، جو ظلم کو ظلم کہنے کی ہمت رکھتا ہو، اور جو خوف کے ماحول میں بھی حق کی شمع بجھنے نہ دے۔
ہم مسلمان ہیں، الحمدللہ۔ ہمارا دین ہمیں ناانصافی دیکھ کر خاموش تماشائی بننے کی تعلیم نہیں دیتا۔ حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اگر تم برائی کو ہاتھ سے نہ روک سکو تو زبان سے روکو، اور اگر زبان سے بھی نہ روک سکو تو دل میں برا جانو، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم صرف اسی کمزور ترین درجے پر اکتفا کر چکے ہیں؟
بعض نام صرف نام نہیں ہوتے، وہ ایک داستان ہوتے ہیں۔ ایک عہد، ایک خواب اور ایک جدوجہد کی علامت ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر مہر اللہ ترین بھی ایسا ہی ایک نام تھے۔ ایک ایسا نام جو اب خبر نہیں، تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ ایک ایسا نام جسے موت خاموش نہ کر سکی، کیونکہ کچھ لوگ اپنے جسم سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے زندہ رہتے ہیں۔
ایک ڈاکٹر صرف ایک ڈگری کا نام نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے ایک پوری زندگی کی داستان ہوتی ہے۔ ایک ماں کی دعائیں ہوتی ہیں جو تہجد کی تاریکیوں میں آنسوؤں کے ساتھ مانگی جاتی ہیں۔ ایک باپ کی خاموش قربانیاں ہوتی ہیں جو اپنی خواہشات قربان کرکے اولاد کے مستقبل کے لیے راستے ہموار کرتا ہے۔
ڈاکٹر بننے کے لیے صرف کتابیں نہیں پڑھنی پڑتیں بلکہ اپنی جوانی کے بہترین سال قربان کرنے پڑتے ہیں۔ جب دنیا عیدیں منا رہی ہوتی ہے، ہم امتحانات کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں۔ جب دوست محفلوں اور تفریحی سرگرمیوں میں مصروف ہوتے ہیں، ہم وارڈز میں مریضوں کے درمیان کھڑے ہوتے ہیں۔ جب لوگ

سکون کی نیند سو رہے ہوتے ہیں، ہم ایمرجنسی کال پر کسی کی زندگی بچانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔
ہمارے ہاتھ میں آنے والی ڈگری محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتی، بلکہ برسوں کی نیندیں، ادھورے خواب، ذہنی دباؤ، جسمانی تھکن اور جذباتی آزمائشوں کا حاصل ہوتی ہے۔
پھر ایک دن کوئی ظالم آتا ہے اور چند لمحوں میں وہ زندگی چھین لیتا ہے جسے بنانے میں دہائیاں لگ گئی تھیں۔ وہ صرف ایک انسان کو قتل نہیں کرتا بلکہ ایک ماں کے خواب، ایک باپ کی امیدیں، ایک خاندان کی خوشیاں اور معاشرے کی ایک قیمتی روشنی بھی بجھا دیتا ہے۔
اسی لیے بعض شہادتیں صرف ایک فرد کا نقصان نہیں ہوتیں بلکہ پوری قوم کا نوحہ بن جاتی ہیں۔
ڈاکٹر مہر اللہ ترین کی یاد آتی ہے تو دل یہی سوال کرتا ہے کہ آخر اتنی آسانی سے ایک زندگی کیسے چھین لی جاتی ہے؟ وہ زندگی جس کے پیچھے خدمت کا جذبہ، انسانیت کا درد اور برسوں کی جدوجہد موجود تھی۔
ابھی دل اس دکھ سے سنبھلا بھی نہ تھا کہ ایک اور خبر نے روح کو زخمی کر دیا: ڈاکٹر ماہ نور ناصر۔
یہ صرف ایک خبر نہیں، ایک سوال ہے جو ہر باشعور انسان کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ اُس پورے نظام پر کاری ضرب ہے جو خدمت، انسانیت اور خواتین کے تحفظ کے دعوے کرتا ہے۔
کب تک ہم ایسے سانحات کو صرف خبروں کی طرح پڑھتے رہیں گے؟ کب تک قلم صرف لکھے گا اور ضمیر خاموش رہے گا؟
کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے ہسپتال، تعلیمی ادارے اور وہ لوگ ہوتے ہیں جو خاموشی سے انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ جب یہی ستون عدم تحفظ کا شکار ہو جائیں تو ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے محسوس ہونے لگتے ہیں۔
اب سوال یہ نہیں کہ قصوروار کون ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم کب جاگیں گے؟ کب ہم خدمت کرنے والوں کے تحفظ کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں گے؟ کیونکہ اگر ڈاکٹر محفوظ نہیں تو ترقی صرف ایک نعرہ ہے، حقیقت نہیں۔
ٹرین اپنی منزل کے قریب پہنچ رہی تھی، مگر میرے ذہن میں ایک سوال مسلسل گونج رہا تھا:
کل جب ہمارا رب ہم سے پوچھے گا کہ ناانصافی، ظلم اور خاموشی کے اس دور میں تم نے کیا کردار ادا کیا تھا، تو کیا ہمارے پاس کوئی جواب ہوگا؟
کیا ہم کہہ سکیں گے کہ ہم نے حق کا ساتھ دیا تھا؟ ظلم کے خلاف آواز اٹھائی تھی؟
یا پھر ہماری خاموشی ہی ہمارا تعارف بن جائے گی؟
شہید ڈاکٹر مہر اللہ ترین اور ڈاکٹر ماہ نور ناصر صرف افراد نہیں، بلکہ ایک عہد، ایک جذبہ اور ایک مثال ہیں۔
اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کو مضبوط، خوددار اور باحوصلہ بنانے کے لیے ہمیں ایسے کرداروں کو رول ماڈل کے طور پر پیش کرنا ہوگا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سکھاتے ہیں کہ علم اور خدمت صرف پیشہ نہیں بلکہ انسان کی روح کی روشنی ہے، اور یہی روشنی نسلوں کو جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔
خدارا! اسے صرف اخبار کی سرخیوں تک محدود نہ رکھیں۔ اس کی حقیقت کو سمجھیں، آگاہی پھیلائیں اور شعور بیدار کریں۔
کیونکہ خاموشی بعض اوقات ظلم کا ساتھ بن جاتی ہے، جبکہ آگاہی ظلم کے خلاف پہلی ڈھال ہوتی ہے۔
خود کو اور آنے والی نسلوں کو اُن ظالموں کے ظلم سے محفوظ رکھیں جو صرف جسموں کو نہیں بلکہ دلوں اور روحوں کو بھی زخمی کر دیتے ہیں۔