نیویارک میں پاکستانی نژاد کمیونٹی رہنماؤں سمیت آٹھ افراد پر 38 ملین ڈالر کے مبینہ میڈیکیڈ فراڈ کا الزام

نیویارک: بروکلین کے دو بالغ افراد کے ڈے کیئر مراکز سے متعلق 38 ملین ڈالر کے مبینہ میڈیکیڈ فراڈ کے وفاقی مقدمے نے امریکہ اور دنیا بھر کے بڑے میڈیا اداروں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس خبر کو نیویارک پوسٹ، دی اکنامک ٹائمز، ٹائمز آف انڈیا سمیت متعدد امریکی و بین الاقوامی میڈیا اداروں، ٹی وی چینلز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا پر نمایاں طور پر رپورٹ کیا گیا ہے۔

وفاقی فردِ جرم کے مطابق پاکستانی نژاد معروف کاروباری شخصیت اور کمیونٹی رہنما پرویز صدیقی سمیت آٹھ افراد پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے 2019 سے دسمبر 2025 کے دوران APNA Adult Daycare اور Ashiana Adult Day Care کے ذریعے مبینہ طور پر ایک بڑے میڈیکیڈ فراڈ نیٹ ورک کو چلایا۔

استغاثہ کے مطابق میڈیکیڈ کے مستحق افراد کو مبینہ طور پر ماہانہ 500 ڈالر تک نقد رقم کی پیشکش کر کے ان مراکز میں رجسٹر کیا جاتا تھا، حالانکہ ان میں سے بہت سے افراد کبھی یا بہت کم وہاں جاتے تھے۔ اس کے باوجود نیویارک میڈیکیڈ پروگرام سے لاکھوں ڈالر کے جعلی کلیمز وصول کیے گئے۔

وفاقی فردِ جرم میں پرویز صدیقی، شازیہ بی بی (شازیہ وٹو)، عبدالعزیز، شیر علی، زیب النساء احمد، جسنا بیگم، سائرہ خاتون اور عطیہ شہناز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

پراسیکیوٹرز کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر جعلی حاضری ریکارڈ تیار کیے، پاکستان میں موجود بلنگ اسٹاف کی خدمات حاصل کیں اور رقوم کو مختلف شیل کمپنیوں کے ذریعے “تحائف”، “ڈیویڈنڈ”، “میڈیسن” اور “لڈو” جیسے عنوانات کے تحت منتقل کر کے اصل لین دین کو چھپانے کی کوشش کی۔ مزید یہ بھی الزام ہے کہ دسمبر 2025 میں وفاقی سرچ وارنٹ پر عمل درآمد کے بعد بعض ملزمان نے اپنے ملازمین کو موبائل فون تبدیل کرنے اور الیکٹرانک ڈیٹا حذف کرنے کی ہدایات دیں۔

تحقیقات کے مطابق بھرتی کرنے والے افراد بس اسٹاپس، سرکاری رہائشی منصوبوں اور ڈاکٹروں کے کلینکس سے کم آمدنی والے افراد کو تلاش کر کے ان کے میڈیکیڈ کارڈ استعمال کرنے کے بدلے نقد رقم دیتے تھے۔ وفاقی حکام کا یہ بھی الزام ہے کہ بعض افراد پاکستان اور مراکش سمیت دیگر ممالک میں موجود ہونے کے باوجود ان کے نام پر میڈیکیڈ کلیمز جاری رہے۔

78 سالہ پرویز صدیقی بروکلین کمیونٹی بورڈ 13 کے رکن ہیں اور اطلاعات کے مطابق نیو جرسی میں تقریباً 15 فارمیسیوں کے مالک ہیں۔ وہ American Pakistani Public Affairs Committee (APPAC) کے ذریعے ڈیموکریٹک پارٹی کی متعدد اہم شخصیات سے تعلقات رکھتے تھے اور 2022 میں نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز کے لیے فنڈ ریزنگ تقریب بھی منعقد کر چکے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے اپنی انتخابی کامیابی کے بعد APPAC کے اراکین سے ملاقات کی تھی اور تنظیم کی انتخابی مہم میں کردار کو سراہا تھا۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ APNA Community Services نامی غیر منافع بخش ادارہ، جو اس وفاقی مقدمے میں شامل نہیں، اپنی ویب سائٹ پر پرویز صدیقی کو بورڈ چیئرمین ظاہر کرتا ہے۔ اس ادارے کو امریکی سینیٹرز چک شومر اور کرسٹن گلی برانڈ کی حمایت سے 530,000 ڈالر کی وفاقی گرانٹ بھی مل چکی ہے۔

وفاقی فردِ جرم میں APNA Community Services پر کسی جرم کا الزام عائد نہیں کیا گیا، اور نہ ہی وکیل علی نجمی یا شریک بانی ایرم حنیف کو اس مقدمے میں ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جاری تحقیقات کے باعث مزید تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے، جبکہ APNA Community Services نے بھی اس معاملے پر کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا۔

اہم وضاحت

اس مقدمے میں عائد کیے گئے تمام الزامات تاحال عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔ امریکی قانون کے مطابق تمام ملزمان اس وقت تک بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں جب تک عدالت انہیں جرم کا مرتکب قرار نہ دے۔

خبر کے ذرائع
New York Post
The Economic Times
Times of India
متعدد امریکی ٹی وی اور ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارمز
سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر گردش کرنے والی رپورٹس