راما سوامی، ریڈ کارڈ اور فون کال
تحریر: محمد محسن اقبال
1980ء کی دہائی میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ کرکٹ اپنے عروج پر تھی، تو دونوں ممالک صرف میدانِ کھیل میں حریف نہیں ہوتے تھے بلکہ قومی وقار، عزتِ نفس اور عوامی جذبات کے نمائندہ بن کر آمنے سامنے آتے تھے۔ دونوں ملکوں کی سرزمین پر ٹیسٹ میچوں اور ایک روزہ مقابلوں پر مشتمل سیریز کھیلی جاتی تھیں، جن میں میزبان ملک کے امپائر فرائض انجام دیتے تھے۔ 13 مارچ 1987ء کو بنگلور کے چناسوامی اسٹیڈیم میں عمران خان کی قیادت میں پاکستان کا مقابلہ بھارت سے ایک ٹیسٹ میچ میں ہوا، جس میں آر بی گپتا اور ڈبلیو کے راماسوامی امپائر تھے۔
پاکستان کے اسپنرز اقبال قاسم اور توصیف احمد نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ ان کی ہر ایل بی ڈبلیو اور کیچ کی اپیل پورے اسٹیڈیم میں گونجتی رہی، لیکن امپائر گویا بھارتی بیٹنگ کے مضبوط ستونوں سنیل گواسکر اور گنڈپا وشواناتھ کو آؤٹ قرار دینے پر آمادہ ہی نہ تھے۔ اس واضح جانبداری کے باوجود پاکستان نے صرف سولہ رنز سے کامیابی حاصل کی اور ایک میچ کی برتری کے ساتھ سیریز بھی اپنے نام کر لی۔
یہ واقعہ ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کر گیا کہ جب فیصلہ سازی کا اختیار میزبان ملک کے اہلکاروں کے ہاتھ میں ہو تو انصاف اکثر جانبداری کی نذر ہو جاتا ہے۔ ایک اور بھارتی امپائر، جو کرکٹ کی تاریخ میں “امپائر پنجابی” کے نام سے مشہور ہوا، پاکستانی بلے بازوں کو معمولی مواقع پر بھی آؤٹ قرار دینے اور اپنے ہم وطن کھلاڑیوں کو ہر ممکن رعایت دینے کے باعث بدنام ہوا۔ اس طرزِ عمل نے کھیل کی روح کو مجروح کیا، شائقین کے دلوں میں بے چینی پیدا کی اور مقابلہ کرنے والی ٹیموں اور ناظرین کے درمیان اعتماد کی بنیادوں کو متزلزل کر دیا۔ بالآخر احتجاج اس قدر بڑھا کہ کھیل کی ساکھ بحال کرنے کے لیے غیر جانبدار امپائروں کی تقرری ناگزیر قرار دی گئی۔
کئی دہائیاں گزرنے کے بعد دنیا ایک بار پھر کھیل میں مداخلت کے اسی سایۂ خوف سے دوچار ہے، مگر اس مرتبہ منظرنامہ فیفا ورلڈ کپ جیسا عالمی ایونٹ ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہونے والا یہ ٹورنامنٹ بڑی کامیابی سے آگے بڑھ رہا تھا کہ ایک حالیہ تنازع نے اس کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیا۔
راؤنڈ آف 32 کے ایک مقابلے میں امریکی فارورڈ فولارین بالاگون، جو تین گول کر کے اپنی ٹیم کے سب سے مؤثر کھلاڑی بن چکے تھے، بوسنیا و ہرزیگووینا کے دفاعی کھلاڑی تارک محرمووچ کے ٹخنے پر پاؤں آ جانے کے باعث ریڈ کارڈ دکھا دیے گئے۔ ریفری رافائل کلاوس نے اس واقعے کو قوانین کے مطابق سنگین خلاف ورزی قرار دیا، جس کے نتیجے میں بالاگون پر اگلے میچ کی خودکار پابندی عائد ہو گئی۔ اگرچہ بہت سے مبصرین نے اس فیصلے کو سخت قرار دیا اور خود بالاگون کا مؤقف تھا کہ یہ محض توازن بگڑنے کے باعث پیش آنے والا حادثہ تھا جس پر زرد کارڈ کافی تھا، تاہم کھیل کے قوانین اس معاملے میں بالکل واضح تھے۔
اس کے بعد جو کچھ ہوا، اس نے کھیل کی غیر جانبداری کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بار کھیل کے میدان میں بھی کود پڑے۔ امریکی صدر نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ یہ کوئی فاؤل نہیں بلکہ تیز رفتاری میں دو کھلاڑیوں کے درمیان ہونے والا ایک حادثاتی تصادم تھا۔ انہوں نے فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کو ٹیلی فون کر کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست کی۔ بعدازاں فیفا نے اپنے ضابطۂ نظم و ضبط کی دفعہ 27 کا حوالہ دیتے ہوئے اس پابندی پر عبوری طور پر عمل درآمد روک دیا، جس کے نتیجے میں بالاگون کو بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل کھیلنے کی اجازت دے دی گئی۔
1962ء کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ ورلڈ کپ میں ریڈ کارڈ پانے والا کوئی کھلاڑی اگلا میچ کھیلنے کے قابل قرار پایا۔ اگرچہ 1962ء میں برازیل کے عظیم کھلاڑی گارینچا کو اُس زمانے کے نسبتاً نرم ضابطوں کا فائدہ ملا تھا، لیکن اس مرتبہ معاملہ سیاسی اثر و رسوخ کی واضح مثال بن کر سامنے آیا۔
اس فیصلے پر دنیا بھر سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔ بیلجیئم کی فٹبال فیڈریشن نے حیرت اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ کھیل میں انصاف کے اصولوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی راستہ اختیار کرے گی۔ بیلجیئم کے کوچ روڈی گارسیا نے اس فیصلے کو جولائی میں کیا جانے والا یکم اپریل کا مذاق قرار دیا۔ یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے اسے ایک ایسی سرخ لکیر عبور کرنا قرار دیا جسے کبھی پار نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔
فیفا کے سابق صدر سیپ بلاٹر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ریڈ کارڈ صرف شواہد اور آزادانہ فیصلے کی بنیاد پر واپس لیا جا سکتا ہے، کسی سربراہِ مملکت کی فون کال پر نہیں۔ انہوں نے معنی خیز انداز میں سوال اٹھایا: “فیفا! تم کہاں جا رہے ہو؟
دیگر ممالک کے کوچز نے بھی اس فیصلے پر گہری تشویش ظاہر کی۔ ناروے کے اسٹالے سولباکن نے خبردار کیا کہ اس سے ورلڈ کپ کی ساکھ متاثر ہوگی، جبکہ انگلینڈ کے تھامس ٹوخل نے سوال اٹھایا کہ اگر ریڈ کارڈ بھی اس طرح ختم کیے جا سکتے ہیں تو کیا مستقبل میں زرد کارڈ بھی قابلِ گفت و شنید ہو جائیں گے؟ سابق نامور کھلاڑی ایان رائٹ اور رائے کین نے بھی اس واقعے کو کھیل کی روح کے لیے شرمناک قرار دیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ فیفا نے اپنے ہی قوانین کو کمزور کر دیا ہے۔ ریڈ کارڈ کے بعد اگلے میچ کی خودکار معطلی اس کے ضابطۂ نظم و ضبط اور ورلڈ کپ کے قواعد میں واضح طور پر درج ہے۔ مگر ایک طاقتور میزبان ملک کے صدر کی مداخلت کے بعد اس اصول سے انحراف نے فیفا پر یہ الزام عائد کر دیا کہ اس نے قوانین کو طاقتور فریق کے مفاد کے مطابق موڑ دیا۔ امریکہ بطور مشترکہ میزبان یقیناً عالمی اثر و رسوخ رکھتا ہے، لیکن جب سیاست میدانِ کھیل میں داخل ہو جائے تو کھیل کی آفاقی زبان طاقت کی بولی میں بدلنے لگتی ہے۔ تاہم قدرت کا اپنا انصاف بھی ہوتا ہے۔ تمام تر غیر معمولی رعایتوں کے باوجود امریکہ بیلجیئم کے ہاتھوں 4-1 سے شکست کھا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔
تاریخ ہمیشہ سرگوشیوں میں نصیحت کرتی ہے۔ بنگلور کے جانبدار امپائروں سے لے کر بالاگون کو دی جانے والی متنازع رعایت تک ایک حقیقت ہمیشہ قائم رہتی ہے کہ جب فیصلہ کرنے والوں کی غیر جانبداری قومی وابستگی یا سیاسی دباؤ کے باعث متاثر ہو جائے تو مقابلے کی اصل روح مرجھا جاتی ہے۔
دنیا بھر کے شائقین صرف سنسنی خیز مقابلے دیکھنے نہیں آتے بلکہ وہ یہ یقین بھی چاہتے ہیں کہ کامیابی کا فیصلہ صلاحیت کرے گی، سازش نہیں؛ میرٹ کرے گا، مداخلت نہیں۔ جیسے جیسے ورلڈ کپ اپنے فیصلہ کن مرحلے کی جانب بڑھ رہا ہے، امریکی کھلاڑی سے متعلق یہ تنازع اب بھی ایک سیاہ بادل کی طرح اس کے افق پر منڈلا رہا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کھیل اپنی اعلیٰ ترین صورت میں سیاست کی چالوں سے محفوظ ایک مقدس امانت ہونا چاہیے۔ اگر کھیل کی عالمی تنظیمیں اس امانت کی حفاظت میں ناکام رہیں تو وہ انہی دلوں کا اعتماد کھو بیٹھیں گی جو کھیل کو زندگی بخشتے ہیں۔ آخرکار حقیقی فتح نہ کسی قوم کی ہوتی ہے اور نہ کسی صدر کی، بلکہ ہمیشہ انصاف، دیانت اور عزت و وقار جیسے لازوال اصولوں کی ہوتی ہے۔