زیارت میں مسلح حملہ: 12 مغوی پولیس اہلکار شہید، درجن سے زائد لاپتا

کوئٹہ / زیارت   بلوچستان کے سیاحتی مقام زیارت میں گزشتہ روز مسلح دہشت گردوں نے کراس منگی ڈیم پر واقع پولیس چوکی پر بڑا حملہ کر دیا۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی مزاحمت کے بعد مسلح افراد دو درجن سے زائد پولیس افسران و اہلکاروں کو اغوا کر کے ساتھ لے گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، اغوا کیے گئے 12 پولیس اہلکاروں کو شہید کر دیا گیا ہے جبکہ درجن سے زائد تاحال لاپتا ہیں۔ زیارت ہسپتال ذرائع نے متعدد پولیس اہلکاروں کی لاشیں ہسپتال منتقل ہونے کی تصدیق کی ہے۔
یہ واقعہ ہنہ اوڑک میں پیش آنے والے سانحے کے ایک روز بعد ہوا ہے، جس میں 4 افراد شہید اور 11 کو اغوا کر لیا گیا تھا، جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔
واقعے کے خلاف زیارت کے عوام، سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین نے زیارت کراس کے مقام پر بین الاقوامی شاہراہ بند کر کے احتجاجی دھرنا دیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کو مسلح دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ دوسری جانب کوئٹہ میں ہنہ اوڑک واقعے کے خلاف احتجاجی دھرنا دوسرے روز بھی جاری ہے۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو نے تصدیق کی کہ شورش زدہ علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے۔ کارروائی کے دوران متعدد سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے جنہیں کوئٹہ ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور آئی جی پولیس بلوچستان نے ہنہ اوڑک اور آپریشن میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کی عیادت کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا دہشت گردوں کے آخری ساتھی تک آپریشن جاری رہے گا۔ میں ہنہ اوڑک اور زیارت کے غیور عوام کو ان کی دلیری پر سلام پیش کرتا ہوں۔
واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور لاپتا اہلکاروں کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔