کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس، ہنہ اوڑک سمیت ملحقہ علاقوں میں سینیٹائزیشن آپریشن کی فوری منظوری
(سید سردار محمد خوندئی)
کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پیر کے روز امن و امان اور ہنہ اوڑک کی حالیہ صورتحال پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں امن کی بحالی کے لیے اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
سینیٹائزیشن آپریشن کی منظوری
اجلاس میں ہنہ اوڑک اور گردونواح میں دہشت گردوں کے خلاف فوری سینیٹائزیشن آپریشن شروع کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ آپریشن کا مقصد علاقے کو شرپسند عناصر سے پاک کرنا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو اور صوبائی وزیر بخت محمد کاکڑ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مظاہرین، قبائلی عمائدین، منتخب نمائندوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے فوری رابطہ کرے۔
شورش زدہ علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے جوائنٹ چیک پوسٹ کے فوری قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ چیک پوسٹ آج سے فعال ہوگی، جہاں تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر سیکیورٹی کی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہنہ اوڑک کے افسوسناک واقعے کے ذمہ دار دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اپنے منطقی انجام تک جاری رہے گی اور ریاست کی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہنہ اوڑک کے عوام اور قبائل نے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کر کے حب الوطنی اور جرات کی روشن مثال قائم کی ہے۔ دہشت گردی پورے بلوچستان اور پاکستان کا مشترکہ چیلنج ہے، جس کے خاتمے کے لیے قومی اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔
شہداء کے لواحقین کے لیے ریلیف
وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ شہداء کے لواحقین اور متاثرین کو آئندہ دو روز میں مالی معاونت اور معاوضوں کی ادائیگی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ حکومت مظاہرین کے تحفظات دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گی اور عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ امن کے قیام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔