5جی کا معاشی اور بصری چیلنج: کیا پاکستان کے شہر ٹاوروں کے جنگل بن جائیں گے؟

 

پاکستان میں موبائل ٹیکنالوجی کا سفر 1990 کی دہائی کے اوائل میں 2G کے آغاز سے ہوا اور آج ہم 5G کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ یہ سفر تکنیکی اعتبار سے تو بہت تیز تھا، مگر اس کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے سوالات بھی جنم لے رہے ہیں جن کا تعلق صرف رفتار اور کوریج سے نہیں، بلکہ معاشیات، شہری منصوبہ بندی، اور بصری جمالیات سے ہے۔ میں نے ایک عام شہری،  مبصر اور کالم نگار کی حیثیت سے کئی پوائنٹس اٹھائے ہیں، اور انہی سوالات کی روشنی میں یہ کالم تحریر کر رہا ہوں۔ یہ آرٹیکل  ایک تجسس کو بیان کرتا ہے:

کیا 5جی کی آمد پاکستان کے شہروں کو ٹاوروں کا جنگل بنا دے گی، اور کیا یہ معاشی طور پر بھی ممکن ہے؟

اس کے ساتھ ساتھ، ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ حکومت، ریگولیٹر، اور کمپنیاں اس چیلنج سے کیسے نمٹ رہی ہیں۔موبائل نیٹ ورک کی ہر نسل کا اپنا ایک تکنیکی اور معاشی پس منظر ہے۔ دنیا میں 2جی 1991 میں فن لینڈ میں آیا، 3جی 2001 میں جاپان میں، 4جی 2009 میں سویڈن اور ناروے میں، اور 5جی 2019 میں امریکہ، جنوبی کوریا اور یورپ میں۔ پاکستان میں 2جی 1992 کے قریب آیا، جبکہ 3جی اور 4جی کا باقاعدہ آغاز 23 اپریل 2014 کو نیلامی کے بعد ہوا، اور مئی 2014 سے یہ سروسز تجارتی طور پر دستیاب ہوئیں۔ 5جی کا آغاز جون 2026 میں ہوا، جب PTA نے سپیکٹرم نیلام کیا اور چاروں آپریٹرز نے بڑے شہروں میں سروس شروع کی۔ یہ تاریخی پس منظر ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ نئی ٹیکنالوجی کو اپنایا، لیکن اس کے نفاذ کے معاشی اور معاشرتی مضمرات پر کبھی گہری نظر نہیں ڈالی گئی۔

جب ہم 3جی اور 4جی کے استعمال کی بات کرتے ہیں تو فروری 2026 کے PTA کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں 4جی صارفین کی تعداد تقریباً 154.10 ملین تھی، جبکہ 3جی صارفین صرف 3.37 ملین رہ گئے تھے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ 4جی کا رجحان کس طرح تیزی سے بڑھا اور 3جی کو پیچھے چھوڑ گیا۔ جاز نے تو مکمل طور پر 3جی سروس بند کر دی، جبکہ دیگر آپریٹرز بھی اپنے 3جی صارفین کو 4جی میں منتقل کر رہے ہیں۔ صوبہ وار تقسیم کی بات کریں تو پنجاب اور سندھ میں 4جی کوریج اور صارفین کی تعداد سب سے زیادہ ہے، خیبر پختونخوا میں گھریلو انٹرنیٹ کی رسائی 77 فیصد ہے، جبکہ بلوچستان میں یونیورسل سروس فنڈ کے ذریعے کوریج بڑھائی جا رہی ہے۔ یہ تفاوت ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی رسائی صرف آمدنی سے نہیں، بلکہ جغرافیہ اور بنیادی ڈھانچے سے بھی جڑی ہے۔آمدنی کے لحاظ سے موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال کا تجزیہ کریں تو ایک تحقیق کے مطابق، پاکستان میں سب سے غریب 20 فیصد طبقہ اپنی کل آمدنی کا 45.8 فیصد موبائل سروسز پر خرچ کرتا ہے، جبکہ سب سے امیر 20 فیصد طبقہ صرف 5.1 فیصد خرچ کرتا ہے۔ یہ اعداد و شمار حیران کن ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ موبائل سروسز غریب طبقے کے لیے کس قدر اہم اور مہنگی ہیں۔ اسی طرح، شہری اور دیہی علاقوں میں بھی تفاوت ہے، جہاں شہریوں میں 81 فیصد کو انٹرنیٹ تک رسائی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 62 فیصد ہے۔ صنفی تفاوت بھی نمایاں ہے، جہاں 69 فیصد مردوں کے پاس موبائل فون ہے جبکہ خواتین میں یہ شرح صرف 31 فیصد ہے۔ ان اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ 5G جیسی جدید ٹیکنالوجی کا فائدہ صرف ایک مخصوص طبقے کو ہی مل سکے گا، جب تک کہ حکومت سبسڈیز یا دیگر اقدامات نہ کرے۔

اب آتے ہیں 5جی کے بنیادی ڈھانچے کی طرف۔ 2جی، 3G، 4G، اور 5G ٹاورز کی رینج اور فاصلے کا تعین استعمال ہونے والی فریکوئنسی سے ہوتا ہے۔ 2G 900 MHz اور 1800 MHz پر کام کرتا ہے، جس کی رینج 50 سے 70 کلومیٹر تک ہو سکتی ہے۔ 3G 2100 MHz پر کام کرتا ہے، جس کی رینج کم ہوتی ہے اور شہری علاقوں میں ٹاورز کا فاصلہ چند سو میٹر سے ایک دو کلومیٹر تک ہوتا ہے۔ 4G 1800 MHz، 2100 MHz، 2300 MHz، اور 2600 MHz پر کام کرتا ہے، جس کی رینج 2G سے کم ہوتی ہے اور شہری علاقوں میں ٹاورز کا فاصلہ 500 میٹر سے 1.5 کلومیٹر تک ہوتا ہے۔ 5G 3300 MHz، 3500 MHz اور اس سے زیادہ فریکوئنسیوں پر کام کرتا ہے، جس کی رینج نسبتاً بہت کم ہوتی ہے اور شہری علاقوں میں ٹاورز کا فاصلہ 300 سے 500 میٹر تک ہو سکتا ہے۔ اگر 700 MHz جیسی کم فریکوئنسی استعمال کی جائے تو رینج زیادہ ہو سکتی ہے، لیکن پاکستان میں ابتدائی طور پر 3500 MHz بینڈ کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 5G کے لیے 4G کے مقابلے میں 3 سے 4 گنا زیادہ ٹاورز درکار ہوں گے۔اگر ہم حساب لگائیں تو 10 مربع کلومیٹر کے رقبے میں، اگر ٹاور کی رینج 1.5 کلومیٹر ہو (بہترین صورت) تو صرف 2 ٹاورز درکار ہوں گے، اگر رینج 0.8 کلومیٹر ہو (اوسط صورت) تو 5 ٹاورز درکار ہوں گے، اور اگر رینج 0.3 کلومیٹر ہو (شہری گنجان آباد علاقے) تو 36 سے 50 ٹاورز درکار ہوں گے۔ یہ حساب ظاہر کرتا ہے کہ گنجان شہری علاقوں میں 5G کے لیے بہت زیادہ تعداد میں ٹاورز لگانے پڑیں گے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے شہر ان ٹاورز کو برداشت کر سکتے ہیں؟

کیا یہ شہر عمارتوں کے شہر رہیں گے یا ٹاوروں کے شہر بن جائیں گے؟

یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں 5جی کے لیے نئے بڑے ٹاورز نہیں لگائے جا رہے، بلکہ موجودہ ڈھانچے جیسے بجلی کے کھمبے، اسٹریٹ لائٹس، چمنیاں، پانی کی ٹینکیاں، اور عمارتوں کی چھتوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان آلات کو خاص طور پر ڈیزائن کیا جاتا ہے تاکہ وہ ماحول میں گھل مل جائیں اور نظر نہ آئیں۔ اسے اینٹینا چھپانے کا فن کہتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں ابھی تک یہ رواج عام نہیں ہے۔ یہاں پر زیادہ تر 5جی ٹاورز بھی اسی طرح نظر آ رہے ہیں جیسے 2G، 3G، اور 4G کے ٹاورز نظر آتے تھے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ٹیلی کام کمپنیوں اور ٹاور کمپنیوں کا ماڈل ابھی تک ترقی یافتہ نہیں ہے۔ 2025 تک، صرف 20 فیصد ٹاورز ٹاور کمپنیوں کی ملکیت تھے، جبکہ 80 فیصد اب بھی موبائل کمپنیوں کے پاس تھے۔ اس کے برعکس، عالمی سطح پر ٹاور کمپنیوں کا رجحان دو دہائیوں سے ہے، جہاں ایک ٹاور کو کئی کمپنیاں کرائے پر لے کر استعمال کرتی ہیں، جس سے اخراجات کم ہوتے ہیں اور شہر کا منظر بہتر ہوتا ہے۔

پاکستان میں حالیہ دنوں میں کچھ تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ جاز نے اپنے 10,500 ٹاورز انگرو کارپوریشن کو فروخت کر دیے ہیں تاکہ انہیں ایک نیوٹرل انفراسٹرکچر فراہم کنندہ کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ یہ ایک مثبت اقدام ہے، لیکن اگر ایک ٹاور ہی ساری کمپنیاں استعمال کریں تب بھی 5G کی کم رینج کی وجہ سے ہر 300-500 میٹر پر ایک ٹاور لگے گا۔ یعنی ٹاورز کی تعداد تو ویسے ہی بہت زیادہ ہوگی، چاہے وہ شیئر کیے جائیں یا نہ۔ اور یہ ٹاورز اگر چھپائے نہ گئے تو شہر کا منظر تباہ کر دیں گے۔یہ مسئلہ صرف بصری نہیں، معاشی بھی ہے۔ 5G کے لیے پرانے اینٹینا کو نئے سے بدلنا ایک بہت بڑا مالی چیلنج ہے۔ پاکستان میں ہر کمپنی کو سالانہ انفراسٹرکچر پر 150 سے 200 ملین ڈالر خرچ کرنے پڑ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، فائبرائزیشن کی لاگت 10,000 سے 20,000 ڈالر فی سائٹ ہے، اور پاکستان میں صرف 15 فیصد سائٹس فائبر سے منسلک ہیں۔ کل تعیناتی کی لاگت کا تخمینہ 3 سے 8 بلین ڈالر ہے۔ یہ سب اس وقت جب کہ پاکستان میں فی صارف اوسط ماہانہ آمدنی (ARPU) صرف 1.10 ڈالر ہے، جبکہ عالمی اوسط 8.20 ڈالر ہے۔ یعنی کمپنیاں اتنے بڑے سرمایے کو وصول کرنے کے لیے صارفین سے زیادہ وصول نہیں کر سکتیں، اور نہ ہی حکومت ٹیکسز میں کمی کر رہی ہے۔ اس لیے کمپنیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ شرائط میں 5جی کی تعیناتی ”کسی کاروباری سمجھ“ کے مطابق نہیں ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ان شرائط میں بھی کمپنیاں شہری علاقوں میں منافع کما سکیں گی؟ شہری علاقوں میں زیادہ آبادی کثافت، زیادہ انٹرپرائز صارفین، اور بہتر انفراسٹرکچر کی وجہ سے امکانات زیادہ ہیں، لیکن کم ARPU اور بھاری سرمایہ کاری کی وجہ سے منافع مشکل ہے۔ کمپنیاں نئے کاروباری ماڈلز جیسے پرائیویٹ 5جی نیٹ ورک، IoT کنیکٹیویٹی، اور ایج کمپیوٹنگ کے ذریعے منافع کمانے کی کوشش کریں گی، لیکن یہ طویل مدتی حکمت عملیاں ہیں۔دیہی علاقوں میں 5G کی رسائی کا معاملہ اور بھی پیچیدہ ہے۔ اگرچہ PTA نے منصوبہ بنایا ہے کہ 5G کو مرحلہ وار شہری علاقوں سے دیہی علاقوں تک لے جایا جائے گا، لیکن اس کے لیے 700 MHz جیسی کم فریکوئنسی کا استعمال، اسپیکٹرم شیئرنگ، اور یونیورسل سروس فنڈ کے منصوبے ضروری ہیں۔ تاہم، فائبر کی کمی، رائٹ آف وے کے مسائل، اور بجلی کی عدم دستیابی جیسی رکاوٹیں ہیں۔ کمپنیوں کے لیے دیہی علاقوں میں منافع کمانا تقریباً ناممکن ہے، اس لیے حکومت کو سبسڈیز دینا ہوں گی یا کمپنیوں کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ وہاں بھی سروس فراہم کریں۔

اب آتے ہیں اس اہم سوال کی طرف کہ کیا پاکستان میں 5جی ٹاورز کو چھپانے کے لیے کوئی قانونی پابندی ہے؟

PTA کے 5جی لائسنس کے معاہدے میں اینٹینا چھپانے کی کوئی شق شامل نہیں ہے۔ لائسنس کی شرائط کا مرکز اسپیکٹرم کی تقسیم، نیٹ ورک کی تعیناتی کی تعداد (سالانہ 1000 نئی سائٹس، جن میں 200 نئی جگہوں پر)، کوریج کا آغاز، سروس کا معیار (کم از کم 50 Mbps ڈاؤن لوڈ سپیڈ)، اور فائبرائزیشن پر ہے۔ جمالیات یا آلات چھپانے کا کوئی ذکر نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کمپنیاں قانونی طور پر پابند نہیں ہیں کہ وہ اپنے آلات کو چھپا کر رکھیں۔یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے: ٹیلی کام ترمیمی بل 2026۔ یہ بل دراصل ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے فائبر آپٹک نیٹ ورک اور دیگر انفراسٹرکچر بچھانے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے لایا گیا تھا۔ اس کا مقصد رائٹ آف وے کے قوانین کو آسان بنانا ہے تاکہ 5جی جیسی جدید ٹیکنالوجی کے لیے درکار بنیادی ڈھانچہ (فائبر کیبلز) جلدی سے بچھایا جا سکے۔ اس بل میں ایک شق (Section 27B) پر شدید تنازعہ کھڑا ہوا، جس میں تجویز دی گئی تھی کہ رکاوٹ ڈالنے والوں پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس پر خدشات پیدا ہوئے کہ یہ شق کمپنیوں کو نجی املاک تک بغیر رضامندی کے رسائی کی اجازت دے سکتی ہے۔اس تنازعے کے بعد، حکومت نے واضح موقف اختیار کیا کہ کسی بھی نجی جائیداد یا عمارت پر ٹیلی کام کا کوئی بھی سامان (ٹاور یا اینٹینا) مالک کی تحریری رضامندی کے بغیر نصب نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی وزیر قانون، اعظم نذیر تارڑ، نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ وہ نجی املاک پر قبضہ کرے یا بغیر اجازت ٹاور نصب کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بل میں مزید وضاحتیں شامل کی جائیں گی تاکہ پراپرٹی کے حقوق کو قانونی طور پر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ لیکن اس بل میں اینٹینا چھپانے کی کوئی شق شامل نہیں ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ اس بل کا تعلق جائیداد تک رسائی سے ہے، نہ کہ جمالیات سے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے:

جب حکومت کو معلوم ہے کہ 5جی ٹاورز شہر کا منظر بگاڑ سکتے ہیں تو وہ اس وقت اسے بل میں شامل کیوں نہیں کرتی؟

اس کی چند بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ حکومت کے لیے اولین ترجیح یہ ہے کہ وہ فائبر کی تعیناتی اور ٹاورز کی تنصیب کے لیے قانونی راستہ ہموار کرے۔ جب تک یہ بنیادی قانونی مسئلہ حل نہیں ہوتا، اس میں جمالیات سے متعلق اضافی شقیں شامل کرنا پیچیدگی پیدا کر سکتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ٹیلی کام کمپنیاں پہلے ہی 5جی کی تعیناتی کی بھاری لاگت پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں، اور اس پر مزید مہنگی ”چھپانے والی“ ٹیکنالوجی لازمی قرار دینا ان کے لیے ایک اضافی بوجھ ہوگا۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ بل ”ناقص تحریر“ ہے اور قومی اسمبلی میں ”بنیادی جانچ پڑتال“ کے بغیر پاس کر دیا گیا، اس لیے اس میں شامل شقوں پر مکمل غور و فکر نہیں کیا گیا، اور چھپانے جیسے غیر بنیادی پہلو کو نظر انداز کر دیا گیا۔

لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں کبھی بھی اینٹینا چھپانے کا قانون نہیں بنے گا؟

نہیں، اس کا یہ مطلب نہیں۔ مستقبل میں، مقامی حکومتیں (بلدیات) شہروں کی خوبصورتی کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹاورز کی تنصیب کے لیے اپنے ضابطے (bylaws) بنا سکتی ہیں، جن میں آلات چھپانے کی شرط شامل ہو سکتی ہے۔ نیز، جیسے جیسے ٹیکنالوجی پھیلے گی اور شہری مناظر پر اثرات واضح ہوں گے، پارلیمان مستقبل میں اس پہلو کو ریگولیٹ کرنے کے لیے علیحدہ قانون یا ترمیم لا سکتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر قانون نہیں ہے تو کیا شہر ٹاوروں کا شہر بن جائیں گے؟ اس کا جواب دو حصوں میں ہے۔ فوری طور پر، چونکہ کوئی قانونی پابندی نہیں ہے، اس لیے کمپنیاں آسانی سے اور سستے طریقے سے ٹاورز لگائیں گی، اور شہر کا منظر متاثر ہو سکتا ہے۔ لیکن طویل مدتی میں، جیسے جیسے عوام میں شعور بڑھے گا اور حکومت پر دباؤ پڑے گا، اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ اقدامات ضرور ہوں گے۔ اس کے علاوہ، بین الاقوامی کمپنیاں جو پاکستان میں کام کر رہی ہیں، وہ اپنے عالمی معیارات کے مطابق آلات چھپانے کی ٹیکنالوجی استعمال کر سکتی ہیں، جس سے دوسری کمپنیوں پر بھی اس کا دباؤ پڑے گا۔یہاں ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ 5جی کی کوریج میں خلا (coverage gaps) کو کیسے پورا کیا جائے گا۔ 5جی کی کم رینج کی وجہ سے، 4جی کے موجودہ ٹاورز کے درمیان میں کوریج نہ ملنے والے علاقے بنیں گے۔ اس کے لیے PTA نے ایک مرحلہ وار پالیسی بنائی ہے، جس میں سالانہ کم از کم 1000 نئی سائٹس لگانا لازمی ہے، اور ان میں سے 20 فیصد نئی جگہوں پر ہوں گی۔ اس کے علاوہ، انفراسٹرکچر اور سپیکٹرم شیئرنگ کی پالیسیاں بھی ہیں تاکہ کمپنیاں ایک دوسرے کے ٹاورز استعمال کر سکیں اور لاگت کم ہو۔ لیکن یہ سب طویل مدتی منصوبے ہیں اور ان پر عملدرآمد میں کئی سال لگیں گے۔

میں یہ کہنا چاہوں گا کہ 5جی ایک حقیقت ہے اور یہ پاکستان میں آ چکی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ جو چیلنجز آ رہے ہیں، وہ صرف تکنیکی نہیں، بلکہ معاشی، معاشرتی، اور بصری بھی ہیں۔ ٹاورز کی بہتات، ان کی جگہ کا تعین، ان کو چھپانے کا مسئلہ، لاگت اور منافع کا تناسب، دیہی اور شہری علاقوں میں تفاوت، اور قانونی فریم ورک کی کمی —–یہ سب ایسے پہلو ہیں جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت، ریگولیٹر، اور کمپنیاں مل کر ان مسائل کو حل نہیں کرتیں، تو پاکستان کے شہر عمارتوں کے شہر نہیں رہیں گے، بلکہ ٹاوروں کے جنگل بن جائیں گے۔ اور یہ جنگل نہ صرف بصری طور پر ناگوار ہوگا، بلکہ معاشی طور پر بھی ایک بوجھ بن سکتا ہے۔مجھے امید ہے کہ یہ آرٹیکل  ان تمام پہلوؤں کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگا جو 5جی کی تعیناتی سے وابستہ ہیں۔ یہ صرف ایک تکنیکی ترقی نہیں، بلکہ ایک سماجی، معاشی، اور قانونی چیلنج ہے جس کا سامنا ہمیں اجتماعی طور پر کرنا ہے۔ اگر ہم دانشمندی سے فیصلے کریں تو 5جی پاکستان کے لیے ایک موقع بن سکتی ہے، ورنہ یہ ایک بڑا چیلنج بن کر رہ جائے گی۔ میرا یہ تجزیہ ایک عام شہری کے نقطہ نظر سے ہے، جو اپنے شہر کی خوبصورتی، اپنی جیب کی گنجائش، اور اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نئی ٹیکنالوجی کا استقبال کرنا چاہتا ہے، مگر اس کے ممکنہ نقصانات سے بھی آگاہ ہے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

 

اخبار کے لیے “باکس” یا “فیکٹ باکس” بنانے کے لیے 10 تکنیکی جملے درج ذیل ہیں۔ یہ جملے مختصر، جامع اور معلوماتی ہیں، جو قارئین کو اہم تکنیکی پہلوؤں سے آگاہ کریں گے:

 

  1. 2جی 900 MHz اور 1800 MHz پر کام کرتا ہے، جس کی رینج 50 سے 70 کلومیٹر تک ہوتی ہے۔

 

  1. 3جی 2100 MHz فریکوئنسی استعمال کرتا ہے، جس کی شہری علاقوں میں رینج چند سو میٹر سے ایک دو کلومیٹر تک ہوتی ہے۔

 

  1. 4گی 1800 MHz، 2100 MHz، 2300 MHz، اور 2600 MHz بینڈز پر چلتا ہے، جس کی رینج 500 میٹر سے 1.5 کلومیٹر تک ہوتی ہے۔

 

  1. 5جی 3300 MHz، 3500 MHz اور اس سے زیادہ فریکوئنسیوں پر کام کرتا ہے، جس کی رینج صرف 300 سے 500 میٹر تک ہوتی ہے۔

 

  1. 5G کے لیے 4G کے مقابلے میں 3 سے 4 گنا زیادہ ٹاورز درکار ہوتے ہیں۔

 

  1. 10 مربع کلومیٹر(3.6 X 3.6) کے (گنجان شہری علاقوں میں) رقبے میں 5جی کوریج کے لیے 36 سے 50 ٹاورز لگ سکتے ہیں ۔

 

  1. 5G کی تعیناتی کی کل لاگت کا تخمینہ 3 سے 8 بلین ڈالر ہے۔

 

  1. پاکستان میں فی صارف اوسط ماہانہ آمدنی (ARPU) صرف 1.10 ڈالر ہے، جبکہ عالمی اوسط 8.20 ڈالر ہے۔

 

  1. پاکستان میں صرف 15 فیصد سیل سائٹس فائبر سے منسلک ہیں، جبکہ 5جی کے لیے 60-80 فیصد فائبرائزیشن ضروری ہے۔

 

  1. 5جی لائسنس کی شرائط میں اینٹینا چھپانے کی کوئی شق شامل نہیں ہے، صرف نیٹ ورک کی تعیناتی اور سروس کے معیار پر توجہ دی گئی ہے۔