*جناب الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف جاری میڈیا ٹرائل، جھوٹے مقدمات اور سیاسی انتقام کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے: رابطہ کمیٹی ایم کیو ایم*

*اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ حق ایک بار پھر سرخرو ہوا، مگر سوال یہ ہے کہ بے گناہ کارکنان کے ضائع شدہ سالوں، خاندانوں کے دکھ اور مہاجر قوم پر ڈھائے گئے مظالم کا حساب کون دے گا؟*

لندن ۔۔۔ 15 جون 2026ء

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے ایم کیو ایم کے خلاف جاری میڈیا ٹرائل، جھوٹے اور سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات، کارکنان کی طویل قید، جبری گمشدگیوں اور قائدِ تحریک جناب الطاف حسین پر عائد غیر آئینی و غیر قانونی پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ نے بار بار ثابت کیا ہے کہ ایم کیو ایم کے خلاف قائم کیے جانے والے بڑے بڑے مقدمات، الزامات اور پروپیگنڈے بالآخر عدالتوں میں جھوٹے، کمزور، بے بنیاد یا سیاسی انتقام پر مبنی ثابت ہوئے، لیکن اس دوران ایم کیو ایم کے کارکنان، ان کے اہلِ خانہ اور پوری قوم نے ناقابلِ بیان اذیتیں برداشت کیں۔

رابطہ کمیٹی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ ہر مشکل وقت میں حق کو فتح نصیب ہوئی اور ایم کیو ایم کے کارکنان عدالتوں سے سرخرو ہوئے، لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب تک سچ سامنے آتا ہے، اس وقت تک بے گناہ کارکنان اپنی زندگی کے کئی قیمتی سال جیلوں میں گزار چکے ہوتے ہیں، ان کے گھر اجڑ چکے ہوتے ہیں، مائیں اپنے بیٹوں کے انتظار میں بوڑھی ہو چکی ہوتی ہیں، بچے والد کی شفقت سے محروم ہو چکے ہوتے ہیں اور خاندان معاشی، سماجی اور نفسیاتی طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہوتے ہیں۔

رابطہ کمیٹی نے کہا کہ جناب الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف الزامات اور جھوٹے بیانیوں کی تاریخ کوئی نئی نہیں۔ کبھی جناح پور کا جھوٹا الزام لگایا گیا، کبھی میجر کلیم کیس کو بنیاد بنا کر ایم کیو ایم کے خلاف ریاستی آپریشن کا جواز پیدا کیا گیا، کبھی حکیم محمد سعید قتل کیس میں ایم کیو ایم کے کارکنان کو ملوث کیا گیا، اور اب بلدیہ فیکٹری آتشزدگی جیسے دلخراش سانحے کو بھی برسوں تک ایم کیو ایم کے خلاف سیاسی بیانیہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ان تمام معاملات میں ایم کیو ایم، اس کے قائد، ذمہ داران اور کارکنان کو پہلے میڈیا ٹرائل کے ذریعے مجرم بنا کر پیش کیا گیا، پھر گرفتاریاں، تشدد، مقدمات، قید و بند اور سیاسی انتقام کا سلسلہ شروع کیا گیا، اور برسوں بعد عدالتوں سے حقائق سامنے آئے۔

رابطہ کمیٹی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے خلاف ہر دور میں ایک منظم میڈیا ٹرائل کیا گیا۔ ٹیلی ویژن اسکرینوں، اخباری سرخیوں، تجزیوں اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے ایم کیو ایم کے کارکنان کو عدالتوں کے فیصلوں سے پہلے ہی مجرم بنا کر پیش کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ جب عدالتیں ان مقدمات میں کارکنان کو بری کرتی ہیں، جب الزامات ثابت نہیں ہوتے، جب شواہد کمزور یا ناقابلِ قبول قرار پاتے ہیں، تو پھر ان برسوں کا حساب کون دے گا؟ ان خاندانوں کو کون جواب دے گا جنہوں نے اپنے پیاروں کو برسوں جیلوں میں دیکھا؟ ان ماؤں کے آنسو کون واپس لائے گا جنہوں نے اپنے بیٹوں کی بے گناہی پر یقین رکھتے ہوئے زندگی گزار دی؟

رابطہ کمیٹی نے کہا کہ بلدیہ فیکٹری سانحہ ایک المناک انسانی سانحہ تھا جس میں سینکڑوں مزدوروں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ ایم کیو ایم متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں شریک ہے اور ہمیشہ یہ مؤقف رکھتی ہے کہ اصل ذمہ داران کا تعین شفاف، غیر جانبدار اور قانونی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ لیکن افسوس کہ اس سانحے کو بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور ایم کیو ایم کو ایک بار پھر میڈیا ٹرائل اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ آج جب عدالتی فیصلوں کے بعد کئی سوالات دوبارہ اٹھ رہے ہیں تو ریاست، تفتیشی اداروں، پراسیکیوشن اور میڈیا کو بھی اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔

رابطہ کمیٹی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے خلاف سیاسی انتقام کا سب سے بڑا نشانہ قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کو بنایا گیا۔ ان کی تقاریر، بیانات، تصاویر، سیاسی سرگرمیوں اور عوام سے رابطے پر عائد پابندیاں نہ صرف غیر جمہوری بلکہ آزادیٔ اظہار، سیاسی آزادی، حقِ اور بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہیں۔ کسی سیاسی رہنما کی آواز کو دبانا، کسی جماعت کو اس کے قائد سے کاٹنا اور لاکھوں عوام کو ان کے سیاسی حق سے محروم کرنا آئین، جمہوریت اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔

رابطہ کمیٹی نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم اور قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کے خلاف سیاسی انتقام، جھوٹے مقدمات، میڈیا ٹرائل، غیر آئینی پابندیوں، جبری گمشدگیوں، گرفتاریوں اور کارکنان پر مظالم کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔ ایم کیو ایم یہ سمجھتی ہے کہ حق کو زیادہ دیر دبایا نہیں جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ حق کے ساتھ ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جھوٹ، جبر اور پروپیگنڈا وقتی طور پر غالب آ سکتے ہیں، مگر آخرکار فتح سچ، حق اور مظلوموں کی ہوتی ہے۔

قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کی تقاریر، بیانات، تصاویر اور سیاسی سرگرمیوں پر عائد تمام غیر آئینی و غیر قانونی پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔

ایم کیو ایم کو اس کی آزادانہ، پرامن، جمہوری اور سیاسی سرگرمیوں کا حق دیا جائے۔

ایم کیو ایم کے تمام اسیر کارکنان کے مقدمات کا فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔

جبری طور پر لاپتہ کیے گئے ایم کیو ایم کارکنان کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے یا انہیں قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

جھوٹے مقدمات، جبری اعترافات، سیاسی انتقام اور میڈیا ٹرائل کے ذریعے کارکنان کی زندگیاں تباہ کرنے والے عناصر کا احتساب کیا جائے۔

جن کارکنان نے برسوں بے گناہی کے باوجود قید کاٹی، ان کے خاندانوں کی بحالی، مالی معاونت اور عزتِ نفس کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

میڈیا ادارے عدالتی فیصلوں سے پہلے کسی بھی سیاسی کارکن یا جماعت کو مجرم ثابت کرنے کے غیر ذمہ دارانہ رویے سے گریز کریں۔

رابطہ کمیٹی نے کہا کہ ایم کیو ایم کسی سے انتقام نہیں چاہتی، مگر انصاف، سچائی اور آئین کی بالادستی کا مطالبہ ضرور کرتی ہے۔ اگر پاکستان کو حقیقی جمہوری ریاست بنانا ہے تو سیاسی جماعتوں کو دبانے، رہنماؤں کی آواز بند کرنے، کارکنان کو لاپتہ کرنے، جھوٹے مقدمات بنانے اور میڈیا ٹرائل کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کو کچلنے کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا۔

رابطہ کمیٹی نے مزید کہا کہ مہاجر قوم نے کئی دہائیوں سے ظلم، ناانصافی، امتیازی سلوک، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، گرفتاریوں، میڈیا ٹرائل اور سیاسی پابندیوں کا سامنا کیا ہے، لیکن اس کے باوجود اس قوم نے اپنے قائد، اپنی تحریک اور اپنے حقِ نمائندگی سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ ایم کیو ایم صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ محروم و مظلوم عوام کے شعور، شناخت، حقِ نمائندگی اور جدوجہد کا نام ہے۔

رابطہ کمیٹی نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ بہت جلد وہ دن آئے گا جب قائدِ تحریک جناب الطاف حسین پر عائد تمام پابندیاں ختم ہوں گی، ایم کیو ایم کی سیاسی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہوں گی، اسیر کارکنان رہائی پائیں گے، جبری طور پر لاپتہ کارکنان اپنے گھروں کو واپس آئیں گے اور مہاجر قوم سمیت پاکستان کے تمام مظلوم عوام کو انصاف ملے گا۔

اللہ تعالیٰ حق کو سرخرو فرماتا ہے، اور تاریخ نے ہر بار ثابت کیا ہے کہ جھوٹے مقدمات، پروپیگنڈا اور سیاسی انتقام وقتی ہوتے ہیں، مگر سچ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔

⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️