ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے سابق رکن واسع جلیل کا ایم کیو ایم میں دوبارہ شمولیت کا اعلان
ہیوسٹن، ٹیکساس (24 مئی 2026ء): متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سابق رکن اور گلشن اقبال ٹاؤن کے سابق ناظم واسع جلیل نے امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران ایم کیو ایم میں دوبارہ شمولیت کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کچھ عرصے کیلئے تحریک سے علیحدگی اختیار کرنے کے فیصلے پر ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین، رابطہ کمیٹی اور تمام تحریکی ساتھیوں سے معافی مانگی اور ایک کارکن کی حیثیت سے دوبارہ تحریک میں کام کرنے کی درخواست کی۔
ہیوسٹن کے مقامی ہوٹل میں ہونے والی اس پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر عاطف شمیم، ریحان عبادت، محفوظ حیدری، مطلوب زیدی اور یوسف سعید بھی موجود تھے جبکہ ایم کیو ایم ہیوسٹن چیپٹر کے ذمہ داران اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ امریکہ، کینیڈا اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے بھی زوم لنک کے ذریعے پریس کانفرنس میں شرکت کی۔
واسع جلیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ 1986 سے ایم کیو ایم سے وابستہ ہیں اور جامعہ کراچی میں تعلیم کے دوران 1987 میں باقاعدہ سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ قائد تحریک الطاف حسین کے نظریے اور فلسفے نے انہیں تحریک کی جانب راغب کیا۔ انہوں نے 1992 کے آپریشن، امریکہ منتقلی، پاکستان واپسی، تنظیمی ذمہ داریوں، گلشن ٹاؤن کی نظامت اور بعد ازاں لندن آمد سمیت اپنے سیاسی سفر کی تفصیلات بیان کیں۔

انہوں نے کہا کہ 2017 میں تحریک سے علیحدگی اختیار کرنا ان کی زندگی کا غلط فیصلہ تھا جس پر وہ دل سے شرمندہ ہیں۔ واسع جلیل نے کہا کہ وہ بانی قائد الطاف حسین، رابطہ کمیٹی اور تمام کارکنان سے معافی کے طلبگار ہیں اور امید کرتے ہیں کہ انہیں دوبارہ تحریک میں خدمت کا موقع دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ “ہم فرشتے نہیں، ہم سے غلطیاں ہو جاتی ہیں”۔
واسع جلیل نے ایم کیو ایم کے ان تمام سابق ذمہ داران اور کارکنان سے بھی اپیل کی جو مختلف وجوہات کی بنا پر تحریک سے الگ ہو گئے تھے کہ وہ دوبارہ ایم کیو ایم میں واپس آ جائیں کیونکہ یہ جدوجہد کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ جتنا بھی منفی پروپیگنڈا کریں، وہ تحریک کو مزید منظم کرنے کیلئے کام کرتے رہیں گے۔
انہوں نے 22 اگست 2016 کے بعد ایم کیو ایم کو نقصان پہنچانے والے عناصر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں نے تحریک کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی لیکن “ایم کیو ایم ایک ہی ہے اور وہی اصل ایم کیو ایم ہے جس کے بانی و قائد جناب الطاف حسین ہیں”۔ انہوں نے موجودہ ایم کیو ایم کو “فارم 47 والی ایم کیو ایم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔
واسع جلیل نے ریاست پاکستان، عدلیہ اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ 22 اگست 2016 کی تقریر کی بنیاد پر بانی قائد الطاف حسین اور ایم کیو ایم پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین متعدد بار اپنی تقریر پر تحریری معافی مانگ چکے ہیں لہٰذا ان کیلئے سیاسی راستے کھولے جائیں۔
انہوں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو موجودہ حالات میں مفاہمت اور ترقی کی ضرورت ہے اور سیاسی ماحول بہتر بنانے کیلئے ایم کیو ایم پر پابندیاں ختم کی جائیں۔ واسع جلیل نے کہا کہ الطاف حسین نے مڈل کلاس اور غریب طبقے کے افراد کو پارلیمنٹ تک پہنچایا اور ایم کیو ایم آج بھی کراچی کو اس کا حقیقی مقام دلا سکتی ہے۔
انہوں نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 18 سے 19 سال میں کراچی اور حیدرآباد کو شدید نقصان پہنچا جبکہ ایم کیو ایم بانی قائد کی قیادت میں شہر کو دوبارہ ترقی کی راہ پر لا سکتی ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر واسع جلیل نے یقین دہانی کروائی کہ وہ تحریک کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے اراکین نے واسع جلیل کو دوبارہ شمولیت پر خوش آمدید کہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی واپسی تحریک کیلئے نیک شگون ثابت ہوگی۔
رابطہ کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ آج سب لوگ اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ ایم کیو ایم کی جدوجہد کی کامیابی اور مسائل کا حل بانی قائد الطاف حسین کے پاس ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ تمام کارکنان جو کسی دباؤ یا جبر کے باعث وقتی طور پر تحریک سے الگ ہوئے تھے، ان کیلئے واپسی کے دروازے کھلے ہیں۔
پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم امریکہ اور ہیوسٹن کے مقامی ذمہ داران اور کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی جبکہ آن لائن ناظرین نے بھی دلچسپی سے اسے دیکھا۔ سیاسی حلقوں میں واسع جلیل کی واپسی کو ایم کیو ایم کی مرکزی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔