امریکہ چین تعاون، تصادم اور عالمی قیادت کی جنگ جو عالمی نظام کو مسلسل بدلتی رہی
1949 سے 1979 — دشمنی، نظریاتی جنگ اور سفارتی برف پگھلنے کا آغاز: 1949 میں جب ماؤ زے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا تو دنیا کی سیاست ایک نئے موڑ میں داخل ہو گئی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا پہلے ہی دو بڑے بلاکس میں تقسیم ہو چکی تھی۔ ایک طرف امریکہ اور مغربی سرمایہ دارانہ نظام تھا جبکہ دوسری طرف سوویت یونین اور کمیونسٹ بلاک۔ چین میں کمیونسٹ انقلاب کی کامیابی نے امریکہ کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا کیونکہ واشنگٹن کو یہ خوف لاحق تھا کہ اگر ایشیا میں کمیونزم پھیلتا گیا تو اس کے عالمی اثرات خطرناک ہوں گے۔ اسی لیے امریکہ نے کئی سال تک بیجنگ حکومت کو تسلیم نہیں کیا اور تائیوان میں قائم چیانگ کائی شیک کی حکومت کو چین کا اصل نمائندہ قرار دیتا رہا۔ یہی وہ بنیاد تھی جس نے امریکہ اور چین کے تعلقات کو ابتدا ہی سے دشمنی، عدم اعتماد اور نظریاتی تصادم کی طرف دھکیل دیا۔1950 میں کوریا کی جنگ نے اس دشمنی کو کھلی محاذ آرائی میں بدل دیا۔ امریکہ جنوبی کوریا کے ساتھ کھڑا تھا جبکہ چین نے شمالی کوریا کی حمایت میں اپنی فوجیں میدان میں اتار دیں۔ اس جنگ نے نہ صرف لاکھوں انسانوں کی جانیں لیں بلکہ امریکہ اور چین کے درمیان نفرت کی دیوار مزید اونچی کر دی۔ واشنگٹن نے چین کو جارح ریاست قرار دیا جبکہ چین نے امریکہ کو سامراجی طاقت کہا۔ اس دوران تائیوان کا مسئلہ بھی شدت اختیار کرتا گیا۔ امریکہ نے تائیوان کے دفاع کے لیے فوجی معاہدے کیے اور بحری بیڑے تعینات کیے جبکہ چین اسے اپنی خودمختاری کے خلاف اقدام قرار دیتا رہا۔ یہی مسئلہ آنے والے کئی عشروں تک دونوں طاقتوں کے تعلقات کا سب سے خطرناک نقطہ بنا رہا۔1960 کی دہائی میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی۔ اگرچہ امریکہ اور چین ایک دوسرے کے مخالف تھے لیکن اسی دوران چین اور سوویت یونین کے تعلقات خراب ہونا شروع ہو گئے۔ دونوں کمیونسٹ طاقتوں کے درمیان سرحدی تنازعات اور نظریاتی اختلافات پیدا ہوئے۔ امریکہ نے اس صورتحال کو ایک سفارتی موقع کے طور پر دیکھا۔ واشنگٹن کو اندازہ ہو گیا کہ اگر چین کو سوویت یونین سے الگ کیا جائے تو عالمی طاقت کا توازن امریکہ کے حق میں جا سکتا ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت امریکہ نے خفیہ سفارتی رابطے شروع کیے۔ اس وقت دنیا حیران رہ گئی جب 1971 میں ہنری کسنجر نے خفیہ طور پر چین کا دورہ کیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب سرد دشمنی میں پہلی بار نرمی محسوس ہوئی۔1972 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن کا تاریخی دورۂ چین عالمی سیاست کا ایک بڑا انقلاب ثابت ہوا۔ یہ صرف ایک سفارتی ملاقات نہیں تھی بلکہ عالمی طاقت کے توازن کی نئی تشکیل تھی۔ نکسن اور ماؤ زے تنگ کی ملاقات نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ دشمنیاں ہمیشہ مستقل نہیں رہتیں بلکہ قومی مفادات نئی راہیں پیدا کر دیتے ہیں۔ امریکہ اب چین کو مکمل طور پر الگ تھلگ رکھنے کی پالیسی ترک کر رہا تھا۔ دوسری طرف چین بھی سوویت دباؤ سے نکلنے کے لیے امریکہ کے قریب آنا چاہتا تھا۔ اس ملاقات نے تجارت، سفارت کاری اور ثقافتی روابط کے دروازے کھول دیے۔1979 میں امریکہ نے باضابطہ طور پر عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کر لیا۔ یہ فیصلہ تاریخ کا اہم موڑ تھا کیونکہ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باقاعدہ سفارتی سطح پر استوار ہو گئے۔ اگرچہ امریکہ نے تائیوان کے ساتھ غیر رسمی تعلقات برقرار رکھے لیکن دنیا نے واضح طور پر دیکھ لیا کہ اب عالمی سیاست میں چین کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ اسی زمانے میں ڈینگ ژیاؤ پنگ نے چین میں معاشی اصلاحات کا آغاز کیا۔ انہوں نے کمیونسٹ سیاسی نظام کے اندر سرمایہ دارانہ معاشی ماڈل متعارف کرایا۔ یہ وہ قدم تھا جس نے آنے والے برسوں میں چین کو دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقتوں میں شامل کر دیا۔ امریکہ نے اس عمل کو خوش آمدید کہا کیونکہ اسے امید تھی کہ معاشی کھلے پن کے ذریعے چین عالمی نظام میں ضم ہو جائے گا۔یہی وہ دور تھا جب امریکہ اور چین کے تعلقات دشمنی سے مفاہمت کی طرف منتقل ہوئے۔ دونوں ممالک نے سوویت یونین کے خلاف خاموش تعاون شروع کیا۔ امریکہ نے چین کو ٹیکنالوجی، تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جبکہ چین نے اپنی معیشت کے دروازے کھولنے شروع کیے۔ مگر اس مفاہمت کے باوجود بنیادی اختلافات ختم نہیں ہوئے تھے۔ تائیوان، نظریاتی فرق اور عالمی قیادت کی جنگ پس منظر میں موجود رہی۔ یہی اختلافات مستقبل میں ایک نئی سرد جنگ کی بنیاد بننے والے تھے۔

1980 سے 2008 — معاشی شراکت داری، عالمی تجارت اور ابھرتا ہوا چینی دیو:1980 کی دہائی امریکہ اور چین کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز تھی۔ اب دونوں ممالک براہِ راست دشمنی کے بجائے تعاون، تجارت اور عالمی سیاست میں مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھ رہے تھے۔ سوویت یونین ابھی تک امریکہ کا سب سے بڑا حریف تھا اور چین بھی ماسکو سے شدید اختلافات رکھتا تھا، اسی لیے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان خاموش اسٹریٹجک تعاون قائم رہا۔ امریکہ نے چین کو عالمی معیشت میں شامل کرنے کی پالیسی اپنائی جبکہ چین نے اپنی معیشت کو تیزی سے کھولنا شروع کیا۔ ڈینگ ژیاؤ پنگ کی معاشی اصلاحات نے چین کو ایک نئی سمت دی۔ انہوں نے زرعی اصلاحات، صنعتی ترقی، بیرونی سرمایہ کاری اور خصوصی اقتصادی زونز قائم کر کے چین کو بتدریج بند معیشت سے عالمی منڈی کا حصہ بنانا شروع کیا۔ یہی وہ وقت تھا جب شینزن جیسے شہر ایک چھوٹے قصبے سے عالمی صنعتی مرکز میں تبدیل ہونے لگے۔امریکہ اور مغربی کمپنیوں نے چین میں سرمایہ کاری شروع کی کیونکہ وہاں مزدوری سستی تھی، قوانین نرم تھے اور حکومت صنعت کاری کو مکمل سرپرستی دے رہی تھی۔ امریکی کمپنیوں کے لیے چین ایک خواب بن گیا جہاں کم لاگت میں بڑے پیمانے پر پیداوار ممکن تھی۔ دوسری طرف چین نے امریکی سرمایہ، ٹیکنالوجی اور منڈیوں سے فائدہ اٹھا کر اپنی معیشت کو حیران کن رفتار سے آگے بڑھایا۔ دنیا نے پہلی بار محسوس کیا کہ چین صرف ایک کمیونسٹ ریاست نہیں بلکہ مستقبل کی ایک عظیم معاشی طاقت بننے جا رہا ہے۔لیکن اس دوران تعلقات میں ایک بڑا دھچکا 1989 میں آیا جب بیجنگ کے تیانانمن اسکوائر میں طلبہ اور نوجوانوں نے سیاسی آزادی اور جمہوری اصلاحات کے لیے احتجاج شروع کیا۔ چینی حکومت نے سخت فوجی کارروائی کرتے ہوئے احتجاج کو کچل دیا۔ دنیا بھر میں اس واقعے کی شدید مذمت ہوئی۔ امریکہ نے چین پر پابندیاں عائد کیں اور انسانی حقوق کے مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھایا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب امریکہ کو پہلی بار احساس ہوا کہ معاشی اصلاحات کا مطلب لازمی طور پر سیاسی آزادی نہیں ہوتا۔ چین نے واضح کر دیا کہ وہ معاشی طور پر کھل سکتا ہے مگر سیاسی طور پر کمیونسٹ کنٹرول برقرار رکھے گا۔1990 کی دہائی میں سوویت یونین ٹوٹ گیا اور امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور بن کر ابھرا۔ بہت سے امریکی پالیسی سازوں کو یقین تھا کہ اب چین بھی آہستہ آہستہ مغربی طرز کے سیاسی نظام کی طرف بڑھے گا۔ اسی سوچ کے تحت امریکہ نے چین کے ساتھ تجارت کو مزید وسعت دی۔ چین نے اپنی صنعتی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ کیا اور دنیا کی فیکٹری بنتا چلا گیا۔ امریکی کمپنیوں نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی، لاکھوں ملازمتیں چین منتقل ہوئیں اور چینی مصنوعات پوری دنیا کی منڈیوں میں پھیل گئیں۔ سستے چینی سامان نے عالمی مارکیٹ کو بدل کر رکھ دیا۔ امریکہ کے شہری سستی مصنوعات خریدنے لگے جبکہ چین زرمبادلہ کے ذخائر جمع کرتا گیا۔اسی دوران تائیوان کا مسئلہ دوبارہ کشیدگی کا باعث بنا۔ 1995 اور 1996 میں تائیوان میں سیاسی تبدیلیوں اور انتخابات کے دوران چین نے فوجی مشقیں کیں جبکہ امریکہ نے اپنے بحری بیڑے علاقے میں بھیجے۔ دنیا نے محسوس کیا کہ اگرچہ تجارت بڑھ رہی ہے لیکن دونوں ممالک کے درمیان اعتماد مکمل نہیں ہے۔ امریکہ چین کے بڑھتے فوجی اثر و رسوخ سے پریشان تھا جبکہ چین سمجھتا تھا کہ امریکہ اسے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 2001 میں ایک تاریخی پیش رفت ہوئی جب چین عالمی تجارتی تنظیم یعنی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شامل ہو گیا۔ یہ واقعہ چین کی معاشی تاریخ میں انقلاب ثابت ہوا۔ WTO میں شمولیت کے بعد چین کی برآمدات میں دھماکہ خیز اضافہ ہوا۔ امریکی اور یورپی کمپنیاں بڑے پیمانے پر چین منتقل ہوئیں۔ چند ہی برسوں میں چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت بننے کی راہ پر چل نکلا۔ اس دور میں “Made in China” پوری دنیا کی پہچان بن گیا۔ موبائل فون، کمپیوٹر، کپڑے، کھلونے، الیکٹرانکس، مشینری اور بے شمار مصنوعات چینی فیکٹریوں سے نکل کر عالمی منڈیوں میں پہنچنے لگیں۔امریکہ کو ابتدا میں اس معاشی تعلق سے فائدہ ہوتا دکھائی دیا۔ امریکی کمپنیوں کے منافع بڑھے، صارفین کو سستی اشیاء ملیں اور عالمی تجارت تیز ہوئی۔ مگر آہستہ آہستہ امریکہ کے اندر ایک نئی بے چینی پیدا ہونے لگی۔ امریکی صنعتوں میں ملازمتیں کم ہونے لگیں کیونکہ کارخانے چین منتقل ہو رہے تھے۔ صنعتی شہروں میں بے روزگاری بڑھنے لگی۔ امریکی سیاست دانوں نے یہ سوال اٹھانا شروع کیا کہ کیا امریکہ نے اپنے سب سے بڑے مستقبل کے حریف کو خود طاقتور بنا دیا ہے؟
2008 کا عالمی مالیاتی بحران اس بحث کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ امریکہ اور مغربی معیشتیں شدید بحران کا شکار ہوئیں جبکہ چین نسبتاً مضبوط رہا۔ بیجنگ نے بڑے معاشی پیکجز کے ذریعے اپنی معیشت کو سہارا دیا اور دنیا کو حیران کر دیا۔ اسی دوران چین نے افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شروع کر دی۔ بندرگاہیں، سڑکیں، ریل منصوبے اور توانائی کے پراجیکٹس چین کے عالمی اثر و رسوخ کو بڑھانے لگے۔ دنیا نے پہلی بار سنجیدگی سے یہ سوال اٹھانا شروع کیا کہ کیا اکیسویں صدی “امریکی صدی” کے بجائے “چینی صدی” بننے جا رہی ہے؟
یہی وہ دور تھا جب امریکہ اور چین کے تعلقات صرف تجارت تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی طاقت کی خاموش جنگ میں تبدیل ہونے لگے۔ اگرچہ دونوں ممالک معاشی طور پر ایک دوسرے پر انحصار کر رہے تھے مگر اندرونی طور پر عدم اعتماد بڑھ رہا تھا۔ امریکہ کو محسوس ہونے لگا کہ چین اب صرف ایک تجارتی شراکت دار نہیں بلکہ مستقبل کا سب سے بڑا اسٹریٹجک حریف ہے۔ دوسری طرف چین کو یقین ہونے لگا کہ اب وہ عالمی نظام میں ثانوی طاقت نہیں بلکہ ایک ابھرتی ہوئی سپر پاور ہے۔ یہی احساس آنے والے برسوں میں دونوں ممالک کو ایک نئی سرد جنگ کی طرف لے جانے والا تھا۔
2009 سے 2020 — طاقت کا ٹکراؤ، ٹیکنالوجی کی جنگ اور نئی سرد کشمکش کا آغاز: 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد دنیا کی معاشی اور سیاسی سمت بدلنے لگی۔ امریکہ اگرچہ اب بھی عالمی طاقت تھا لیکن اس کی معیشت بحران کا شکار تھی جبکہ چین نسبتاً زیادہ مستحکم اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک بن کر سامنے آیا۔ 2009 کے بعد امریکہ اور چین کے تعلقات میں ایک نیا مرحلہ شروع ہوا جس میں تعاون کے ساتھ ساتھ مسابقت اور عدم اعتماد مسلسل بڑھتا گیا۔ اب یہ تعلق صرف تجارت یا سفارت کاری تک محدود نہیں رہا تھا بلکہ عالمی قیادت، ٹیکنالوجی، فوجی طاقت اور نظریاتی اثر و رسوخ کی جنگ میں تبدیل ہونے لگا تھا۔اس دور میں چین نے اپنی معاشی طاقت کو سیاسی اور عسکری اثر و رسوخ میں تبدیل کرنا شروع کیا۔ بیجنگ نے “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” جیسے بڑے منصوبے شروع کیے جس کا مقصد ایشیا، افریقہ اور یورپ کو انفراسٹرکچر اور تجارت کے ذریعے چین کے ساتھ جوڑنا تھا۔ یہ منصوبہ دنیا کے کئی ممالک کے لیے ترقی کا ذریعہ بنا لیکن امریکہ نے اسے اپنے عالمی اثر و رسوخ کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر دیکھا۔ امریکہ کو محسوس ہوا کہ چین اب صرف ایک مینوفیکچرنگ پاور نہیں رہا بلکہ ایک ایسا ملک بن رہا ہے جو عالمی نظام کو دوبارہ ترتیب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اسی دوران بحیرہ جنوبی چین میں کشیدگی بڑھنے لگی۔ چین نے مصنوعی جزائر بنا کر وہاں فوجی تنصیبات قائم کرنا شروع کیں۔ امریکہ نے اسے بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا اور خطے میں اپنی بحری موجودگی بڑھا دی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب دونوں طاقتیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آنے لگیں، اگرچہ براہ راست جنگ نہیں ہوئی لیکن فوجی سطح پر تناؤ واضح طور پر بڑھ چکا تھا۔ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی مقابلہ شدت اختیار کرتا گیا۔ امریکہ نے چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بارے میں سیکیورٹی خدشات ظاہر کرنا شروع کیے۔ خاص طور پر Huawei جیسی کمپنی عالمی تنازع کا مرکز بن گئی۔ امریکہ نے الزام لگایا کہ چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ذریعے جاسوسی ہو سکتی ہے اور اس نے کئی چینی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں۔ چین نے ان اقدامات کو معاشی جنگ قرار دیا۔ اس طرح ٹیکنالوجی، خاص طور پر 5G، سیمی کنڈکٹرز اور ڈیٹا کنٹرول عالمی سیاست کا نیا میدان جنگ بن گیا۔ 2012 میں جب Xi Jinping چینی قیادت میں آئے تو چین کی خارجہ پالیسی زیادہ مضبوط اور جارحانہ ہو گئی۔ چین نے “چائنیز ڈریم” کا تصور پیش کیا جس کا مقصد چین کو دوبارہ عالمی طاقت کے مرکز میں لانا تھا۔ دوسری طرف امریکہ میں بھی چین کے بارے میں پالیسی تبدیل ہونے لگی۔ اوباما دور میں “Pivot to Asia” حکمت عملی سامنے آئی جس کا مقصد ایشیا میں امریکی اثر و رسوخ کو مضبوط کرنا تھا تاکہ چین کے بڑھتے اثر کو متوازن کیا جا سکے۔2016 کے بعد صورتحال مزید بدل گئی جب امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ صدر بنے۔ ٹرمپ نے چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق امریکہ نے چین کے ساتھ تجارتی معاہدوں میں نقصان اٹھایا تھا اور چینی مصنوعات نے امریکی صنعت کو کمزور کیا تھا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں 2018 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ شروع ہو گئی۔ امریکہ نے چینی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کیے اور چین نے بھی جوابی اقدامات کیے۔ یہ جنگ صرف محصولات تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی سپلائی چین متاثر ہونے لگی۔اسی دوران ٹیکنالوجی کی جنگ مزید تیز ہو گئی۔ چینی کمپنی Huawei کو امریکی مارکیٹ سے تقریباً باہر کر دیا گیا۔ سیمی کنڈکٹر چپس، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی پر سخت پابندیاں لگائی گئیں۔ چین نے جواب میں اپنی مقامی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی کوشش شروع کی۔ اس طرح دنیا دو ٹیکنالوجی بلاکس میں تقسیم ہونے لگی، ایک امریکی کیمپ اور دوسرا چینی کیمپ۔
2020 میں COVID-19 کی عالمی وبا نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئے بحران میں دھکیل دیا۔ وائرس کے آغاز اور اس کے پھیلاؤ پر امریکہ اور چین کے درمیان شدید الزامات کا تبادلہ ہوا۔ امریکہ نے چین پر شفافیت نہ برتنے کا الزام لگایا جبکہ چین نے امریکہ پر سیاست کرنے کا الزام عائد کیا۔ اس دوران عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہوئی اور سپلائی چین کا بحران پیدا ہوا۔ دنیا کو پہلی بار یہ احساس ہوا کہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں خرابی صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرتی ہے۔2020 تک پہنچتے پہنچتے یہ بات واضح ہو گئی کہ امریکہ اور چین کے تعلقات اب تعاون سے زیادہ مقابلے اور کشمکش کی طرف جا چکے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاشی طور پر انحصار کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود اعتماد تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ تائیوان کا مسئلہ دوبارہ شدت اختیار کر رہا تھا، بحیرہ جنوبی چین میں فوجی موجودگی بڑھ رہی تھی اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی سرد جنگ شروع ہو چکی تھی۔یہی وہ مقام تھا جہاں دنیا نے یہ سمجھنا شروع کیا کہ اکیسویں صدی کا سب سے بڑا عالمی تنازع روایتی جنگ نہیں بلکہ معاشی، تکنیکی اور جیوپولیٹیکل مقابلہ ہوگا۔ امریکہ اپنی عالمی برتری برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ چین ایک نئی عالمی ترتیب تشکیل دینے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ 2020 کے بعد کے حالات اسی کشمکش کی مزید شدت کی طرف اشارہ کر رہے تھے جو آنے والے برسوں میں دنیا کے مستقبل کا تعین کرنے والی تھی۔
2021 سے مئی 2026 — نئی سرد جنگ، تائیوان بحران اور مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ: 2021 کے بعد امریکہ اور چین کے تعلقات ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئے جہاں روایتی سفارت کاری کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی، دفاع، ڈیٹا، سپلائی چین اور عالمی اتحادوں کی سیاست مکمل طور پر ایک دوسرے سے جڑ گئی۔ جو کشمکش پہلے تجارت اور ٹیرف تک محدود تھی اب وہ عالمی نظام کی تشکیل نو کی جنگ بن چکی تھی۔ امریکہ نے چین کو کھل کر اپنا سب سے بڑا اسٹریٹجک حریف قرار دینا شروع کیا جبکہ چین نے بھی واضح کر دیا کہ اب وہ کسی کی بالادستی قبول نہیں کرے گا۔امریکی پالیسی میں تبدیلی کے ساتھ صدر جو بائیڈن کے دور میں چین کے خلاف اتحاد سازی کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ انڈو پیسیفک خطے میں امریکہ نے اپنے اتحادی ممالک جیسے جاپان، آسٹریلیا اور بھارت کے ساتھ دفاعی و اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط کیا۔ اس کا مقصد چین کے بڑھتے اثر کو روکنا تھا۔ دوسری طرف چین نے بھی اپنے علاقائی اور عالمی اتحادوں کو وسعت دینا شروع کیا۔ شنگھائی تعاون تنظیم، برکس اور افریقی ممالک میں سرمایہ کاری کے ذریعے بیجنگ نے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ دنیا ایک بار پھر بلاکس میں تقسیم ہونے لگی لیکن اس بار بنیاد نظریاتی کم اور تکنیکی و معاشی زیادہ تھی۔ 2022 اور 2023 کے دوران تائیوان کا مسئلہ ایک بار پھر عالمی کشیدگی کا مرکز بن گیا۔ امریکی حکام کے تائیوان کے دوروں اور فوجی تعاون کے اشاروں پر چین نے سخت ردعمل دیا اور بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں شروع کیں۔ بحیرہ جنوبی چین اور تائیوان آبنائے میں چینی فضائی اور بحری سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔ امریکہ نے بھی خطے میں اپنے جنگی جہازوں اور اتحادی افواج کی موجودگی بڑھا دی۔ یہ صورتحال اس بات کا واضح اشارہ تھی کہ تائیوان اب صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ عالمی جنگ کے خطرے کا سب سے حساس نقطہ بن چکا ہے۔اسی دوران ٹیکنالوجی کی جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی۔ امریکہ نے جدید سیمی کنڈکٹر چپس اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی برآمدات پر سخت پابندیاں لگائیں تاکہ چین کی ٹیکنالوجی ترقی کو سست کیا جا سکے۔ خاص طور پر AI، سپر کمپیوٹنگ اور جدید چپ سازی کے شعبے اس جنگ کا مرکز بن گئے۔ چین نے اس کے جواب میں اپنی مقامی چپ انڈسٹری اور AI ماڈلز کو تیزی سے ترقی دینا شروع کیا۔ اس طرح دنیا دو الگ ڈیجیٹل ایکو سسٹمز میں تقسیم ہونے لگی، ایک امریکی ٹیکنالوجی بلاک اور دوسرا چینی ٹیکنالوجی بلاک۔2023 میں ایک واقعے نے تعلقات کو مزید خراب کر دیا جب امریکہ کی فضائی حدود میں ایک چینی غبارے کے واقعے کو سیکیورٹی خطرہ قرار دیا گیا۔ اس واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی کو مزید واضح کر دیا۔ سفارتی سطح پر ملاقاتیں جاری رہیں لیکن عملی طور پر کشیدگی بڑھتی رہی۔ اسی دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں جزوی کمی آئی اور سپلائی چین کو “ڈی کپلنگ” یا “ڈی رسکنگ” کے نام سے دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش شروع ہوئی۔ 2024 اور 2025 کے دوران عالمی معیشت ایک نئے رجحان کی طرف بڑھنے لگی۔ دنیا کی بڑی کمپنیاں چین پر مکمل انحصار کم کرنے اور متبادل پیداواری مراکز تلاش کرنے لگیں۔ ویتنام، انڈیا، میکسیکو اور دیگر ممالک نئی سپلائی چین کا حصہ بننے لگے۔ چین نے اس کے جواب میں اپنی مارکیٹ کو مزید مضبوط کیا اور برکس ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو بڑھایا۔ اس دوران عالمی معیشت میں غیر یقینی کیفیت بڑھتی گئی لیکن مکمل علیحدگی ممکن نہ ہو سکی کیونکہ امریکہ اور چین اب بھی ایک دوسرے کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار تھے۔
مئی 2026 میں ہونے والی حالیہ اعلیٰ سطح ملاقات اسی پس منظر میں ہوئی جہاں دونوں ممالک نے ایک بار پھر یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ مکمل تصادم نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی فائدہ مند۔ اس ملاقات میں تائیوان، ایران کی صورتحال، عالمی توانائی بحران، مصنوعی ذہانت کی دوڑ، سیمی کنڈکٹرز کی سپلائی، بحیرہ جنوبی چین کی کشیدگی اور عالمی تجارت جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔ دونوں ممالک نے اگرچہ کچھ معاملات میں تعاون اور مکالمے پر اتفاق کیا لیکن بنیادی اختلافات برقرار رہے۔تائیوان کے معاملے پر کوئی واضح حل سامنے نہیں آیا لیکن فریقین نے یہ تسلیم کیا کہ براہ راست فوجی تصادم سے گریز ضروری ہے۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ نے اپنی برتری برقرار رکھنے کی کوشش کی جبکہ چین نے خود کفالت کی پالیسی کو مزید تیز کر دیا۔ ایران اور مشرق وسطیٰ کے معاملات میں بھی دونوں ممالک کے مفادات مختلف رہے مگر توانائی کی عالمی سپلائی کو مستحکم رکھنے پر جزوی اتفاق ہوا۔
اس پوری صورتحال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امریکہ اور چین کا تعلق اب نہ مکمل دشمنی ہے اور نہ مکمل شراکت داری بلکہ ایک “کنٹرولڈ مقابلہ” بن چکا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاشی طور پر انحصار بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو محدود کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ یہی تضاد اس تعلق کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ 2026 تک دنیا ایک نئی قسم کی سرد جنگ میں داخل ہو چکی ہے جہاں روایتی فوجی محاذ کم اور ٹیکنالوجی، ڈیٹا، معیشت اور عالمی اتحادوں کے محاذ زیادہ اہم ہو چکے ہیں۔ امریکہ اور چین کے تعلقات اب صرف دو ممالک کی کہانی نہیں رہے بلکہ پوری دنیا کے مستقبل کی سمت کا تعین کر رہے ہیں۔ آنے والے برسوں میں یہ کشمکش یا تو ایک نئے عالمی توازن پر ختم ہوگی یا پھر کسی بڑے بحران کی صورت میں دنیا کو ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل کر سکتی ہے۔