علم، دیانت اور درویشی کا چراغ—شفقت اللہ مشتاق کی شخصیت کا سفر”
تحریر: میاں افتخار احمد
پیرمحل کی سرزمین ہمیشہ سے علم و ادب، فہم و فراست اور باصلاحیت شخصیات کی آماجگاہ رہی ہے۔ اسی خطے کی ایک درخشاں اور ہمہ جہت شخصیت شفقت اللہ مشتاق ہیں، جنہوں نے علم، دیانت، ادبی ذوق اور درویشانہ مزاج کو اپنی شخصیت میں اس طرح سمویا ہے کہ وہ بیک وقت ایک باوقار افسر بھی ہیں اور ایک حساس دل رکھنے والے ادیب بھی۔
میرا ان سے پہلا تعارف صحافتی حلقوں کے ذریعے ہوا، مگر تعلق کی اصل گہرائی اس وقت پیدا ہوئی جب خاندانی اور ذاتی سطح پر ایک آزمائش نے ہمیں قریب کر دیا۔ میرے انکل سوز صاحب، جو کہ بنیادی طور پر استاد تھے اور ان کے شاگرد ملک کے اعلیٰ عہدوں تک پہنچے ہوئے تھے، اچانک بیمار ہو کر ٹوبہ ٹیک سنگھ سے الائیڈ ہسپتال فیصل آباد منتقل ہوئے۔ اس مشکل وقت میں جب وہ حالتِ بیہوشی میں تھے، ان کے بچوں نے ان کا فون میرے حوالے کیا تاکہ آنے والے افراد اور جاننے والوں کو صورتِ حال سے آگاہ رکھا جا سکے۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے تعلق کو رسمی دائرے سے نکال کر انسانی ہمدردی اور اعتماد کے رشتے میں بدل دیا۔ انہی شاگردوں میں ایک نام شفقت اللہ مشتاق کا بھی سامنے آیا، اور یوں ہمارا تعلق مزید مضبوط ہوتا چلا گیا۔
وقت کے ساتھ ساتھ یہ تعلق محض تعارف نہیں رہا بلکہ فکری ہم آہنگی اور عملی اشتراک میں بدل گیا۔ 2014 میں جب اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے تمام کمشنرز کو سیلاب اور بارشوں کے لیے ایک مضبوط وارننگ سسٹم قائم کرنے کی ہدایت جاری کی، تو اس موقع پر کمشنر اکرم جاوید صاحب کے ساتھ اس منصوبے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اکرم جاوید نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مجھے اپنی این جی او “پناہ پاکستان” کے پلیٹ فارم سے ایک عملی منصوبہ تیار کرنے کا کہا۔ اس منصوبے میں بعد ازاں شفقت اللہ مشتاق کو بھی شامل کیا گیا۔
یہ وہ دور تھا جب ہم اکثر ان سے ملاقات کرتے، کبھی روزانہ اور کبھی وقفے وقفے سے۔ ان ملاقاتوں میں صرف انتظامی امور ہی نہیں بلکہ علم و ادب کی دنیا بھی زیر بحث آتی۔ شفقت اللہ مشتاق کے کلام اور فکری گفتگو سے ایک الگ ہی فضا قائم ہو جاتی تھی۔ رفتہ رفتہ ان کی شخصیت کے کئی پہلو مجھ پر آشکار ہوئے—ایک طرف وہ ایک باصلاحیت اور دیانتدار افسر تھے، تو دوسری طرف ایک حساس شاعر اور گہری سوچ رکھنے والے ادیب۔
ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل پیرمحل کی زمین نے ہمیشہ ایسے افراد پیدا کیے ہیں جنہوں نے اپنے علم اور کردار سے معاشرے میں روشنی پھیلائی۔ شفقت اللہ مشتاق بھی اسی روایت کا تسلسل ہیں۔ وہ نہ صرف ایک معروف دانشور، صاحبِ طرز لکھاری اور شاعر ہیں بلکہ اس وقت بورڈ آف ریونیو پنجاب میں سیکرٹری ریونیو جیسے اہم منصب پر فائز ہو کر اپنے علاقے اور ادارے کا نام روشن کر رہے ہیں۔ یہ منصب ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، دیانت اور مسلسل محنت کا واضح اعتراف ہے۔
ان کی انتظامی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو میرٹ، شفافیت اور انصاف پر غیر متزلزل یقین ہے۔ میں نے ذاتی طور پر ایک پروجیکٹ کے دوران ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے یہ مشاہدہ کیا کہ وہ ہر فیصلے میں اصول پسندی کو ترجیح دیتے ہیں اور ذاتی پسند و ناپسند کو کبھی معیار نہیں بناتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اردگرد کام کرنے والے افراد ان کی دیانت اور غیر جانبداری کے معترف ہیں۔
ادبی میدان میں ان کا انداز بھی منفرد ہے۔ ان کی شاعری محض جذبات کا اظہار نہیں بلکہ سماجی شعور، انسانی دکھ اور اخلاقی سوالات کا آئینہ ہے۔ ان کے اشعار میں معاشرے کی تلخ حقیقتیں بھی جھلکتی ہیں اور امید کی کرنیں بھی۔ وہ لفظوں کو محض خوبصورتی کے لیے نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں فکر کی گہرائی اور مشاہدے کی وسعت نمایاں ہے، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
شفقت اللہ مشتاق کی شخصیت کا سب سے دلکش پہلو ان کی درویشانہ طبیعت ہے۔ اعلیٰ سرکاری منصب پر فائز ہونے کے باوجود ان میں تکبر یا غرور نام کو بھی نہیں۔ وہ سادگی، انکساری اور خلوص کا مجسم پیکر ہیں۔ ان کے قریب رہنے والے لوگ انہیں ایک ایسے انسان کے طور پر جانتے ہیں جو دنیاوی منصب کے باوجود دل کی دنیا میں عاجزی کا چراغ روشن رکھتا ہے۔ یہی درویشی ان کی شخصیت کو ایک الگ وقار عطا کرتی ہے۔
پیرمحل سے لے کر لاہور تک، اور انتظامی دائرہ کار سے لے کر ادبی محفلوں تک، ان کی موجودگی ایک مثبت اثر چھوڑتی ہے۔ ان کی تعیناتی بطور سیکرٹری ریونیو نہ صرف ایک ذاتی کامیابی ہے بلکہ پورے علاقے کے لیے فخر کا باعث بھی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر انسان علم، محنت، دیانت اور کردار کو اپنا شعار بنا لے تو وہ ہر میدان میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔
آج جب ہم ان کی شخصیت کا جائزہ لیتے ہیں تو وہ ایک ہمہ جہت انسان کے طور پر سامنے آتے ہیں—ایک طرف افسر، دوسری طرف ادیب، ایک طرف منتظم اور دوسری طرف درویش مزاج انسان۔ یہی امتزاج انہیں منفرد بناتا ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شفقت اللہ مشتاق نہ صرف پیرمحل بلکہ پورے پنجاب کے لیے ایک قابلِ فخر سرمایہ ہیں۔ ان کی زندگی نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ علم، دیانت، محنت اور اخلاق ہی اصل کامیابی کی ضمانت ہیں۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فرائض منصبی مزید بہتر انداز میں انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے، ان کی صلاحیتوں میں مزید نکھار پیدا کرے اور انہیں ہمیشہ کامیابیوں اور عزتوں سے نوازتا رہے۔ آمین۔