مذہبی توہین اور عالمی ردعمل، بین المذاہب احترام کا چیلنج

ابراہیمی مذاہب کی مقدس ہستیوں کی توہین اور عالمی ضمیر کا امتحان

دنیا ایک بار پھر ایک ایسے واقعے کی گواہ بنی ہے جس نے نہ صرف مذہبی حساسیت کو مجروح کیا بلکہ عالمی ضمیر کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، جنوبی لبنان میں ایک تصویر منظر عام پر آئی جس میں ایک فوجی کو مصلوب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کو توڑتے ہوئے دکھایا گیا، بعد ازاں Israel Defense Forces نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے اپنے فوجی اقدار کے منافی قرار دیا اور تحقیقات کا اعلان کیا جبکہ اسرائیلی قیادت میں شامل Benjamin Netanyahu اور Gideon Saar نے بھی اس عمل کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا، بظاہر یہ ایک فرد کا عمل قرار دیا جا رہا ہے لیکن اس کے اثرات محض ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ کروڑوں انسانوں کے عقائد، احساسات اور مذہبی وابستگیوں کو متاثر کرتا ہے، خصوصاً جب معاملہ ابراہیمی مذاہب کی کسی مقدس ہستی سے متعلق ہو تو اس کی حساسیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ مذاہب محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی، روحانی اور اخلاقی نظام ہیں جن کی بنیاد احترام، تقدیس اور انسانیت کے مشترکہ اصولوں پر قائم ہے، اسلام، عیسائیت اور یہودیت تینوں مذاہب ایک ہی تاریخی اور روحانی تسلسل سے جڑے ہوئے ہیں جس کی جڑ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی توحیدی تعلیمات میں پیوست ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان مذاہب کے ماننے والے انبیاء کرام کی عزت و تکریم کو اپنے ایمان کا بنیادی جزو سمجھتے ہیں، اسلام کے نزدیک تو یہ عقیدہ اور بھی زیادہ واضح اور غیر مبہم ہے کہ ہر نبی خواہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہوں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں یا حضرت محمد ﷺ ہوں سب اللہ کے برگزیدہ بندے اور انسانیت کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہیں اور ان میں کسی ایک کی توہین دراصل پورے سلسلہ نبوت کی توہین کے مترادف سمجھی جاتی ہے، اسی بنیاد پر مسلمان اس بات کو قطعی طور پر تسلیم نہیں کرتے کہ کسی بھی نبی کی شان میں گستاخی کو اظہار رائے کی آزادی کے نام پر جائز قرار دیا جائے کیونکہ آزادی کا تصور ذمہ داری سے الگ نہیں کیا جا سکتا، جب آزادی دوسروں کے عقائد، جذبات اور مقدسات کو مجروح کرنے لگے تو وہ آزادی نہیں بلکہ انارکی اور اخلاقی زوال کی علامت بن جاتی ہے، زیر بحث واقعہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے کہ ایک ایسے خطے میں جہاں پہلے ہی جنگ، کشیدگی اور عدم استحکام اپنے عروج پر ہے وہاں کسی مذہبی علامت کو نشانہ بنانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ یہ آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے، جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی جہاں Hezbollah اور اسرائیل کے درمیان تصادم نے ہزاروں جانیں لے لی ہیں وہیں ایسے واقعات مزید نفرت اور بداعتمادی کو جنم دیتے ہیں اور بین المذاہب ہم آہنگی کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں، یہ حقیقت اپنی جگہ کہ اسرائیلی حکام نے اس عمل کی مذمت کی اور اسے انفرادی فعل قرار دیا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے

کہ ایسے واقعات بار بار کیوں سامنے آتے ہیں اور کیا یہ محض اتفاق ہیں یا ان کے پیچھے کوئی وسیع تر رویہ یا لاپروائی کارفرما ہے، تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی کسی معاشرے میں مذہبی احترام کمزور پڑتا ہے تو اس کے نتائج صرف مذہبی حلقوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا سماج عدم برداشت، شدت پسندی اور تصادم کی طرف بڑھنے لگتا ہے، موجودہ عالمی حالات میں جہاں اسلاموفوبیا، مذہبی تعصب اور تہذیبی تصادم کی باتیں عام ہو چکی ہیں وہاں اس نوعیت کے واقعات مزید خطرناک ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ نہ صرف ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کو مشتعل کرتے ہیں بلکہ مختلف مذاہب کے درمیان اعتماد کی فضا کو بھی متاثر کرتے ہیں، اسلام اس حوالے سے ایک متوازن اور واضح پیغام دیتا ہے کہ تمام انبیاء کا احترام لازم ہے اور کسی بھی مذہبی شخصیت یا علامت کی توہین ناقابل قبول ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات کو بھی اسی احترام سے دیکھتے ہیں جس طرح وہ دیگر انبیاء کرام کو دیکھتے ہیں اور ان کے نام کے ساتھ بھی علیہ السلام کہتے ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں بین المذاہب احترام کی بنیاد کتنی مضبوط ہے، اس پس منظر میں اگر کسی بھی نبی یا مذہبی علامت کو نقصان پہنچایا جاتا ہے تو مسلمان اسے محض ایک مذہب کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک اصولی اور اخلاقی مسئلہ سمجھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ ایسے افعال کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں ہو سکتے، عالمی برادری کو اس حوالے سے دوہرا معیار ترک کرنا ہوگا کیونکہ اگر کسی ایک مذہب کے مقدسات کی توہین کو آزادی اظہار کا نام دے کر نظر انداز کیا جائے اور دوسرے کے معاملے میں سخت ردعمل دیا جائے تو یہ رویہ خود انصاف کے اصولوں کے منافی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا عالمی ضابطہ اخلاق ترتیب دیا جائے جس میں تمام مذاہب کے مقدسات کا یکساں احترام یقینی بنایا جائے اور کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہ ہو کہ وہ مذہبی آزادی کے نام پر دوسروں کے عقائد کو مجروح کرے، اس کے ساتھ ساتھ ریاستوں اور اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اہلکاروں کی تربیت میں مذہبی حساسیت اور ثقافتی احترام کو شامل کریں تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے، میڈیا کا کردار بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہے کیونکہ وہ نہ صرف ایسے واقعات کو اجاگر کرتا ہے بلکہ عوامی رائے کی تشکیل میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اس لیے میڈیا کو چاہیے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف حقائق کو سامنے لائے بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے میں بھی اپنا کردار ادا کرے، آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دنیا اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں جنگیں، سیاسی مفادات اور طاقت کی کشمکش انسانیت کے بنیادی اصولوں کو پس پشت ڈال رہی ہیں ایسے میں مذہبی احترام اور باہمی رواداری ہی وہ راستہ ہے جو دنیا کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نفرت اور توہین کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ مزید مسائل کو جنم دیتی ہے جبکہ احترام، مکالمہ اور انصاف ہی وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک پرامن اور متوازن عالمی نظام قائم کیا جا سکتا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ اس واقعے کو محض ایک خبر سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ اسے ایک وارننگ کے طور پر لیا جائے کہ اگر ہم نے مذہبی احترام کے اصولوں کو مضبوط نہ کیا تو آنے والے وقت میں اس کے نتائج کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں عالمی برادری کو مل کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ نفرت کے راستے پر چلنا چاہتی ہے یا احترام اور انسانیت کے راستے کو اختیار کرنا چاہتی ہے۔