جاپان کا بڑا معاشی فیصلہ، پیٹرو ڈالر نظام کو چیلنج

جاپان کا فیصلہ جس نے عالمی معیشت کے استحکام کو ہلا کر رکھ دیا

میاں افتخار احمد

جاپان نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جسے عالمی معیشت پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے اور یہ فیصلہ شاید کسی بڑی جنگ سے بھی زیادہ گہرا اثر ڈالے گا۔ جاپان جو کبھی امریکہ کا سب سے قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا اب وہ اپنی توانائی کی بقا کے لیے ایک ایسے راستے پر نکل پڑا ہے جس نے واشنگٹن میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ راستہ پیٹرو ڈالر کے خلاف براہ راست حملہ ہے اور اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ پیٹرو ڈالر وہ نظام ہے جو 1970 کی دہائی میں اس وقت وجود میں آیا جب سعودی عرب نے امریکہ کے ساتھ معاہدہ کیا کہ وہ اپنا تیل صرف امریکی ڈالر میں بیچے گا اور بدلے میں امریکہ اسے فوجی تحفظ فراہم کرے گا۔ اس معاہدے نے امریکی ڈالر کو عالمی تجارت کی سب سے اہم کرنسی بنا دیا اور امریکی معیشت کو دنیا بھر میں بالادستی عطا کی۔ اب جاپان نے اس نظام کو چیلنج کرتے ہوئے ایران سے تیل خریدنے کے لیے چینی کرنسی یووان استعمال کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ جاپان عام طور پر امریکی پالیسیوں کی حمایت کرتا رہا ہے لیکن اب اس نے اپنے قومی مفاد کو اتحاد سے بالاتر رکھا ہے۔ ایران نے اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کے جہازوں پر ٹول ٹیکس لگانا شروع کر دیا ہے اور اس ٹیکس کی ادائیگی صرف ایرانی ریال، چینی یووان یا ڈیجیٹل کرنسی میں قبول کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو جہاز چینی کرنسی میں ادائیگی کرتے ہیں ان پر ٹول لاگو نہیں ہوتا یا کم لاگو ہوتا ہے جبکہ ڈالر استعمال کرنے والوں کو بھاری ٹول ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس اقدام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ تیل بردار جہاز جو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں وہ بغیر کسی اضافی ٹول ٹیکس کے گزر سکیں گے بشرطیکہ وہ چینی کرنسی استعمال کریں۔ ایران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اب ڈالر کے غلبے کو قبول نہیں کرے گا اور اس نے یہ قدم اٹھا کر عالمی طاقت کے توازن کو بدلنے کی کوشش کی ہے۔ جاپان کا یہ قدم ظاہر کرتا ہے کہ اب دنیا صرف ایک سپر پاور پر انحصار کرنے کے بجائے متبادل راستے تلاش کر رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور ٹرمپ خود پاگلوں کی طرح بیانات دے رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا۔ جب تک ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے وہ اس ٹولبوث کو چلاتا رہے گا اور عالمی تیل کی سپلائی کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ وہی حکمت عملی ہے جو ایران نے کئی دہائیوں سے استعمال کی ہے لیکن اب اس میں نیا پن یہ ہے کہ اس نے ڈالر کو نشانہ بنایا ہے۔ پیٹرو ڈالر کا جنم عربوں کی وجہ سے ہوا تھا اور اب عرب اور خلیجی ممالک بھی اپنی سرمایہ کاری پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔ یہ ممالک جو اپنے ڈالرز کا بڑا حصہ امریکی سٹاک مارکیٹ اور خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے منصوبوں میں لگاتے تھے اب وہ اپنی سرمایہ کاری کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالیہ کشیدگی اور میزائل حملوں کے بعد ان ممالک نے محسوس کیا ہے کہ امریکہ ہمیشہ ان کی حفاظت نہیں کر سکتا اس لیے وہ چین اور روس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ جاپان نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کے لیے قومی مفاد اور توانائی کی سکیورٹی کسی بھی اتحاد سے بالاتر ہے اور اپنے روایتی حریف چین کی کرنسی استعمال کرنا اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ٹوکیو اب امریکہ کو ایک ناقابل بھروسہ ساتھی سمجھنے لگا ہے۔ یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں بلکہ ایک تاریخی موڑ ہے جس کے اثرات آنے والی دہائیوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایشیا کے دیگر ممالک بھی جاپان کے نقش قدم پر چلیں گے؟ جنوبی کوریا پہلے ہی اسی طرح کی حکمت عملی پر غور کر رہا ہے اور انڈیا بھی اپنی کرنسی میں تیل کی خریداری کے لیے روس کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پھر امریکہ کی وہ سپر پاور جسے دنیا دہشت سے دیکھتی تھی وہ رفتہ رفتہ فارغ ہو جائے گی۔ کیونکہ جنگ کے اندر جو چیزیں نظر آتی ہیں وہ صرف فوجی ہار جیت نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھی وہاں سے مار پڑتی ہے جہاں سے کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔ ایران نے یہ مار انہیں اسی جگہ سے دی ہے جہاں وہ سب سے کمزور تھے یعنی ان کی معیشت کی بنیاد پر حملہ کر کے۔ جب تک پیٹرو ڈالر قائم تھا امریکہ دنیا سے بغیر محنت کے ٹیکس وصول کرتا تھا کیونکہ ہر ملک کو تیل خریدنے کے لیے ڈالر چاہیے تھے اور اس کے بدلے میں وہ اپنی مصنوعات امریکہ کو سستی دینے پر مجبور تھے۔ اب یہ نظام ٹوٹ رہا ہے تو امریکہ کو دوہری مار پڑے گی ایک تو اس کی کرنسی کی قدر گرے گی اور دوسرا اسے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑے گا۔ جاپان کا یہ قدم اس لیے بھی اہم ہے کہ اس نے یہ ثابت کر دیا کہ امریکہ کا کوئی اتحادی اس قدر وفادار نہیں کہ وہ اپنی معیشت کو تباہ ہونے دے۔ جاپان نے دیکھا کہ امریکی پالیسیاں اس کے مفاد کے خلاف جا رہی ہیں اور اس نے فوری طور پر متبادل تلاش کر لیا۔ یہی وہ سبق ہے جو دوسرے ممالک بھی سیکھ رہے ہیں کہ امریکہ پر اندھا بھروسہ کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول اور وہاں ٹول ٹیکس کا نفاذ عالمی تجارت کے لیے ایک نیا چیلنج ہے لیکن یہ ان ممالک کے لیے ایک موقع بھی ہے جو امریکی غلبے سے تنگ آ چکے ہیں۔ چین اس صورتحال کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا ہے کیونکہ اس کی کرنسی اب عالمی سطح پر قبولیت حاصل کر رہی ہے اور ایران کے ساتھ اس کے معاہدے اسے مشرق وسطیٰ میں ایک نیا دروازہ دے رہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اگلے پانچ سالوں میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ڈالر کا عالمی ذخائر میں حصہ 57 فیصد سے گر کر 40 فیصد سے بھی نیچے چلا جائے گا۔ یہ تبدیلی اتنی تیز ہو سکتی ہے کہ امریکہ کے پاس ردعمل ظاہر کرنے کا وقت بھی نہیں ہوگا۔ جاپان نے جو کیا وہ صرف ایک تجارتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی بیان ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا ایک نئے نظام کی طرف بڑھے جہاں کوئی ایک ملک دوسروں کی معیشت کو یرغمال نہ بنا سکے۔ ایران نے اس تبدیلی کو بروقت پہچان لیا اور اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا جس سے وہ خطے میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر سکے گا۔ امریکہ کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ان ممالک کو دوبارہ اپنے ساتھ لانے کی کوشش کرے لیکن جب تک وہ اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی نہیں لاتا تب تک یہ ممکن نہیں۔ جاپان جیسا وفادار اتحادی بھی جب اس سے منہ موڑ لے تو سمجھ لیجیے کہ نظام میں دراڑیں بہت گہری ہو چکی ہیں۔ آنے والے سال عالمی معیشت کے لیے بہت اہم ہوں گے اور ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے یہ تبدیلیاں ہماری زندگیوں کو متاثر کرتی ہیں کیونکہ جب ڈالر کمزور ہوگا تو مہنگائی بڑھے گی اور اس کا اثر ہر شخص پر پڑے گا۔ جاپان نے یہ قدم اٹھا کر ایک نئی مثال قائم کی ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کی پیروی کون کرتا ہے۔