پیکا ایکٹ 2025 اور آزادی صحافت: جرنلسٹس کنونشن میں اہم نکات

صحافت جرم نہیں، بلکہ معاشرے کا آئینہ ہے۔

تحریر: محمد منصور ممتاز

لاہور پریس کلب میں منعقد ہونے والا “صوبائی جرنلسٹس کنونشن” محض ایک روایتی اجتماع نہیں تھا بلکہ یہ پاکستان میں آزادیٔ صحافت، اظہارِ رائے اور میڈیا ورکرز کے معاشی حقوق کے حوالے سے ایک فیصلہ کن آواز بن کر سامنے آیا۔ اس کنونشن میں متفقہ طور پر پیکا ایکٹ 2025 کی ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک “کالا قانون” قرار دیا گیا، جو بظاہر ریاستی نظم و ضبط کے نام پر بنایا گیا مگر عملاً صحافت کے گلے پر ہاتھ ڈالنے کے مترادف محسوس ہوتا ہے۔
کنونشن میں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان اور صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ زاہد بخاری نے بطور مہمانانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ سینئر صحافیوں، مختلف صحافتی تنظیموں کے نمائندگان اور ملک کے مختلف اضلاع سے آئے میڈیا ورکرز کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کیا۔ یہ اجتماع اس حقیقت کا مظہر تھا کہ صحافتی برادری اب صرف خاموش تماشائی نہیں بلکہ ایک منظم قوت بن کر ابھر رہی ہے۔
وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اپنے خطاب میں ایک متوازن مگر حکومتی مؤقف کی عکاسی کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا ورکرز کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت کی ترجیح ہے اور اس سلسلے میں اشتہارات کے نظام کا آڈٹ بھی کیا جائے گا۔ ان کا یہ مؤقف اپنی جگہ اہم ہے، کیونکہ صحافیوں کی معاشی کمزوری واقعی آزادیٔ اظہار پر اثر انداز ہوتی ہے۔ تاہم، ان کے اس بیان نے ایک نئی بحث کو بھی جنم دیا کہ اگر پیکا جیسے قوانین نہ ہوں تو کیا قومی سلامتی کے معاملات سوشل میڈیا کی نذر ہو جائیں گے؟
یہ سوال اپنی جگہ وزن رکھتا ہے، مگر اس کا جواب قانون سازی کے سخت ہتھیار سے زیادہ مکالمے، تربیت اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ میں پوشیدہ ہے۔ خود وزیر اطلاعات نے بھی اعتراف کیا کہ حکومتوں کو صحافیوں کو “پڑھانا” نہیں چاہیے بلکہ میڈیا کو خود اپنے لیے ضابطہ اخلاق تیار کرنا ہوگا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ریاست اور میڈیا کے درمیان ایک متوازن تعلق کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے ایک اہم اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پیکا قانون سازی کے وقت اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی گئی، اور یہی کمی آج کے تصادم کی بنیاد بنی۔ یہ بیان دراصل اس بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان میں قانون سازی اکثر یکطرفہ ہوتی ہے، جس کے نتائج بعد ازاں مزاحمت اور عدم اعتماد کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ “مشاورت سے ہی قابلِ قبول راستہ نکل سکتا ہے” ایک حقیقت پسندانہ نقطہ نظر ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب، صحافتی تنظیموں کے رہنماؤں نے اپنے مؤقف میں غیر معمولی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افضل بٹ نے واضح کیا کہ صحافتی برادری خود بھی قواعد و ضوابط بنانے کی خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے ایک جامع مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، کیونکہ خود احتسابی ہی کسی بھی پیشے کی ساکھ کو مضبوط بناتی ہے۔
ارشد انصاری، صدر لاہور پریس کلب، نے پیکا ایکٹ کو “ڈریکونین لا” قرار دیتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی کہ 2016 سے لے کر اب تک ہر حکومت نے اس قانون میں اپنا حصہ ڈالا ہے، مگر 2025 کی ترامیم نے تمام صحافتی تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا ہے۔ ان کا یہ مؤقف کہ ہتکِ عزت کے قوانین کو صرف صحافیوں تک محدود کر دیا گیا ہے، ایک سنگین سوال اٹھاتا ہے کہ کیا قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے؟
کنونشن میں پیش کی گئی قرارداد اس پورے بیانیے کا نچوڑ تھی۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا کہ پیکا ایکٹ صحافیوں کو دبانے اور میڈیا کو خاموش کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ صحافیوں کے خلاف مقدمات، بیرون ملک سفر پر پابندیاں، اور عدالتی ہراسانی جیسے اقدامات ایک ایسے ماحول کو جنم دے رہے ہیں جہاں سچ بولنا ایک خطرناک عمل بنتا جا رہا ہے۔
یہ قرارداد صرف مطالبات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک وارننگ بھی ہے کہ اگر آزادیٔ اظہار کو محدود کیا گیا تو اس کے اثرات پورے جمہوری نظام پر مرتب ہوں گے۔ صحافت کو ریاست کا “چوتھا ستون” کہا جاتا ہے، اور اگر یہی ستون کمزور ہو جائے تو جمہوریت کی عمارت بھی لرزنے لگتی ہے۔
اس سارے منظرنامے میں ایک اہم پہلو میڈیا ورکرز کے معاشی حقوق کا بھی ہے۔ بقایا تنخواہوں اور واجبات کی عدم ادائیگی نہ صرف ایک پیشہ ورانہ مسئلہ ہے بلکہ یہ آزادیٔ صحافت پر براہِ راست حملہ ہے۔ جب صحافی مالی دباؤ کا شکار ہوں گے تو ان کی آزادی اور غیر جانبداری بھی متاثر ہوگی۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پیکا ایکٹ 2025 کا تنازعہ دراصل ریاست اور صحافت کے درمیان اعتماد کے فقدان کی علامت ہے۔ اس مسئلے کا حل سخت قوانین میں نہیں بلکہ شفاف مکالمے، باہمی احترام اور مشترکہ ذمہ داری کے احساس میں مضمر ہے۔
صحافت جرم نہیں، بلکہ معاشرے کا آئینہ ہے۔ اور آئینے کو توڑ دینے سے حقیقت نہیں بدلتی—صرف چہرہ اوجھل ہو جاتا ہے۔