0

اقلیتی بچیوں کے حقوق: فیصل آباد سیمینار میں جبری تبدیلی مذہب پر تشویش

فیصل آباد میں اقلیتی بچیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سیمینار،

جبری مذہب تبدیلی اور کم عمری کی شادیوں کے خلاف آواز بلند

میاں افتخار احمد

فیصل آباد: آگاہی، قانون کے نفاذ اور اجتماعی جدوجہد پر زور، فیصل آباد میں کیتھولک ڈائیوسیز آف فیصل آباد کے زیر اہتمام بشپ ہاؤس فیصل آباد میں اقلیتی بچیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں کم عمری کی شادی، جبری مذہب تبدیلی اور اغوا جیسے سنگین مسائل پر روشنی ڈالی گئی، سیمینار کا مقصد نوجوان مسیحی لڑکیوں میں شعور اجاگر کرنا، قوانین کے مؤثر نفاذ پر زور دینا اور کم سن بچیوں کے تحفظ کے لیے اجتماعی آواز کو مضبوط بنانا تھا، اس موقع پر بشپ انڈریاس رحمت، فادر خالد راشد آسی، فادر عابد تنویر، شاہد انور ایڈووکیٹ، تسنیم داؤد ایڈووکیٹ، اکمل بھٹی ایڈووکیٹ، سسٹر سروت اقبال، زانیہ میراب اور نائلہ عنایت نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کم سن بچیوں کے حقوق کا تحفظ ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے جبکہ سیمینار میں مذہبی رہنماؤں، وکلاء، سول سوسائٹی کے نمائندوں، طالبات اور اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی
کم سن بچیوں کے حقوق، آئینی تقاضے اور مطالبات
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر انڈریاس رحمت نے کہا کہ کوئی بھی کم سن بچی نہ تو بیوی بن سکتی ہے اور نہ ہی اس کا مذہب زبردستی تبدیل کیا جا سکتا ہے، یہ عمل نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ قانون کی روح کے بھی منافی ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاستی ادارے اقلیتی بچیوں کے اغوا، جبری مذہب تبدیلی اور کم عمری کی شادیوں کے خلاف فوری قانون سازی اور مؤثر اقدامات کریں، مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ کم عمر لڑکی کی شادی قانونی اور اخلاقی طور پر ناقابل قبول ہے اور کسی بھی لڑکی کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، سیمینار میں حالیہ آئینی عدالت کے فیصلے اور پاکستان میں رائج قوانین کے تناظر میں اقلیتی بچیوں کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا جبکہ شرکاء نے آئینی عدالت کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کم سن بچیوں کے اغوا کی روک تھام کی جائے، چائلڈ میرج قوانین میں ترمیم کر کے ایسی شادیوں کو کالعدم قرار دیا جائے، جبری مذہب تبدیلی کے خاتمے کے لیے قانون سازی کی جائے اور اقلیتی بچیوں کے تحفظ کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات یقینی بنائے جائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں