قرضوں کی زنجیریں: سونے کے پنجرے میں قید قومیں، گرے ہوئے کندھے کیوں اٹھ نہیں پاتے
میاں افتخار احمد
دنیا بھر کے ممالک پر قرضوں کا بوجھ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ قرضے مختلف ذرائع سے لیے گئے ہیں، جن میں بین الاقوامی مالیاتی ادارے، دوسرے ممالک، اور نجی بینک شامل ہیں۔ ان قرضوں کی وجہ سے کئی ممالک مشکل حالات کا شکار ہیں اور کچھ تو ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے قرضے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ دنیا بھر کے ممالک کو قرضے فراہم کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ فروری 2026 تک کے اعداد و شمار کے مطابق، کئی ممالک پر آئی ایم ایف کا بھاری قرضہ ہے۔ ارجنٹینا اس فہرست میں سرفہرست ہے جس پر تقریباً 41.8 بلین امریکی ڈالر کا قرضہ ہے۔ یہ رقم ارجنٹینا کی معیشت کے لیے ایک بہت بڑا بوجھ ہے اور اس کی واپسی کے لیے ملک کو سخت اقتصادی اصلاحات کرنا پڑ رہی ہیں۔ ارجنٹینا کی تاریخ میں کئی بار قرضوں کے بحران آئے ہیں اور وہ متعدد بار ڈیفالٹ بھی کر چکا ہے۔ موجودہ قرضہ بھی ملک کے لیے بڑا چیلنج ہے کیونکہ اس کی معیشت مسلسل مشکلات کا شکار ہے اور اس کی کرنسی کی قدر میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ یوکرین دوسرے نمبر پر ہے جس پر 10 بلین امریکی ڈالر سے زائد کا قرضہ ہے۔ یوکرین کی موجودہ صورت حال میں یہ قرضہ خاصا اہم ہے کیونکہ جنگ کی وجہ سے اس کی معیشت پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔ جنگ کی وجہ سے یوکرین کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا ہے اور اس کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایسی صورت حال میں قرضوں کی واپسی انتہائی مشکل ہو جاتی ہے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے یوکرین کو کچھ رعایتیں بھی دی ہیں۔ مصر اور پاکستان پر بھی 7 ارب ڈالر سے زائد کا قرضہ ہے۔ مصر کے لیے یہ قرضہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ وہ اپنے بڑھتے ہوئے آبادی کے دباؤ اور اقتصادی چیلنجز سے نمٹ رہا ہے۔ مصر کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اسے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستان بھی شدید اقتصادی بحران سے دوچار ہے اور اسے اپنے قرضوں کی واپسی کے لیے آئی ایم ایف کے پروگراموں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کی معیشت میں عدم استحکام ہے اور اسے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور کرنسی کو مستحکم کرنے کے لیے بین الاقوامی امداد کی ضرورت ہے۔ ایکواڈور پر تقریباً 7.2 بلین ڈالر کا قرضہ ہے۔ ایکواڈور بھی ارجنٹینا کی طرح لاطینی امریکہ کا وہ ملک ہے جو قرضوں کے بحران سے دوچار ہے اور اسے اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے سخت اصلاحات کرنا پڑ رہی ہیں۔ ان ممالک کے علاوہ بھی کئی ممالک ہیں جن پر آئی ایم ایف کا قرضہ ہے، لیکن یہ وہ ممالک ہیں جو سب سے زیادہ قرضے دار ہیں۔ ان ممالک کی معیشتیں مختلف وجوہات کی بنا پر کمزور ہیں، جیسے سیاسی عدم استحکام، قدرتی آفات، یا بین الاقوامی اقتصادی حالات میں تبدیلی۔ ان ممالک کے لیے قرضوں کی واپسی ایک طویل المدتی چیلنج ہے اور انہیں بین الاقوامی برادری کی مدد کی ضرورت ہے۔
قرض کا جی ڈی پی سے تناسب کسی ملک کی معیشت کی صحت کا اندازہ لگانے کے لیے قرض کا جی ڈی پی سے تناسب ایک اہم پیمانہ ہے۔ یہ تناسب بتاتا ہے کہ کسی ملک کی کل معیشت کے مقابلے میں اس پر کتنا قرضہ ہے۔ اگر یہ تناسب زیادہ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ ملک پر قرضوں کا بوجھ زیادہ ہے اور اس کی واپسی مشکل ہو سکتی ہے۔ 2026 کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، جاپان قرض کے جی ڈی پی سے تناسب میں سرفہرست ہے۔ جاپان پر قرض کا تناسب 207 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جاپان کی پوری معیشت سے دوگنا سے بھی زیادہ قرضہ ہے۔ جاپان کا یہ قرضہ زیادہ تر اپنے شہریوں اور بینکوں پر ہے، اس لیے اسے فوری طور پر ڈیفالٹ کا خطرہ نہیں ہے، لیکن یہ تناسب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جاپان کی معیشت پر قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔ جاپان کو اپنے قرضوں کی واپسی کے لیے بڑی مقدار میں ٹیکس اکٹھا کرنا پڑتا ہے اور اس کی وجہ سے عوامی خدمات پر خرچ کم ہو جاتا ہے۔ جاپان کی آبادی بھی بوڑھی ہو رہی ہے اور اس کی وجہ سے ٹیکس دینے والوں کی تعداد کم ہو رہی ہے، جس سے صورت حال مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ سنگاپور دوسرے نمبر پر ہے جس کا قرض کا تناسب تقریباً 162 فیصد ہے۔ سنگاپور ایک چھوٹا سا ملک ہے لیکن اس کی معیشت بہت مضبوط ہے۔ سنگاپور کا قرضہ زیادہ تر ترقیاتی منصوبوں کے لیے لیا گیا ہے اور اس کی واپسی کی صلاحیت بھی بہتر ہے۔ اس کے باوجود اتنا زیادہ تناسب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سنگاپور کو اپنے قرضوں کے انتظام پر خاص توجہ دینی ہوگی۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ تیسرے نمبر پر ہے جس کا قرض کا تناسب تقریباً 121 سے 124 فیصد کے درمیان ہے۔ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے اور اس کی کرنسی ڈالر دنیا کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی کرنسی ہے۔ اس کے باوجود امریکہ پر قرضوں کا بوجھ بھی بہت زیادہ ہے اور یہ تناسب مسلسل بڑھ رہا ہے۔ امریکہ کے قرضوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ اس کا بجٹ خسارہ ہے، جہاں حکومت اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کرتی ہے۔ امریکہ کی معیشت کی وسعت اور ڈالر کی عالمی حیثیت کی وجہ سے اسے فوری خطرہ نہیں ہے، لیکن ماہرین اقتصادیات اس بڑھتے ہوئے قرضے کو تشویش کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یونان چوتھے نمبر پر ہے جس کا قرض کا تناسب تقریباً 117 فیصد ہے۔ یونان 2010 کے بعد سے قرضوں کے بحران کا شکار ہے اور اسے کئی بار بین الاقوامی امداد لینی پڑی ہے۔ یونان کی معیشت اب بھی کمزور ہے اور اسے اپنے قرضوں کی واپسی کے لیے سخت کفایت شعاری کی پالیسیاں اپنانا پڑ رہی ہیں۔ اطالیہ کا قرض کا تناسب 117 سے 137 فیصد کے درمیان ہے۔ اطالیہ یورو زون کی تیسری بڑی معیشت ہے، لیکن اس پر قرضوں کا بوجھ بھی بہت زیادہ ہے۔ اطالیہ کی معیشت سست رفتاری سے ترقی کر رہی ہے اور اس کی بے روزگاری کی شرح بھی زیادہ ہے، جس کی وجہ سے قرضوں کی واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔ فرانس کا قرض کا تناسب 106 سے 111 فیصد کے درمیان ہے۔ فرانس بھی یورپ کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور اس پر بھی قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ ان ممالک کے علاوہ بھی کئی ممالک ہیں جن کا قرض کا تناسب 100 فیصد سے زیادہ ہے، جیسے بیلجیئم، پرتگال، اور کینیڈا۔ ان ممالک کے لیے قرضوں کا انتظام ایک بڑا چیلنج ہے اور انہیں اپنی اقتصادی پالیسیوں میں محتاط رہنا ہوگا۔

ڈیفالٹ کے قریب ممالک ڈیفالٹ سے مراد کسی ملک کا اپنے قرضوں کی ادائیگی نہ کر پانا ہے۔ جب کوئی ملک ڈیفالٹ کرتا ہے تو اس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور اس کے لیے مستقبل میں قرضہ لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ ڈیفالٹ کے قریب ممالک کی نشاندہی کرنے کے لیے ماہرین اقتصادیات کئی عوامل کو مدنظر رکھتے ہیں، جیسے زرمبادلہ کے ذخائر کا کم ہونا، کرنسی کی قدر میں کمی، قرضوں کی سود کی شرح میں اضافہ، اور سیاسی عدم استحکام۔ انہی بنیادوں پر کئی ممالک کو ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار سمجھا جا رہا ہے۔ ارجنٹینا ان ممالک میں سرفہرست ہے۔ ارجنٹینا کی تاریخ قرضوں کے ڈیفالٹ سے بھری پڑی ہے اور وہ اب بھی اس بحران سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ارجنٹینا کی معیشت میں عدم استحکام ہے، اس کی کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر بہت کم ہو گئے ہیں۔ ارجنٹینا کو آئی ایم ایف سے قرضہ مل رہا ہے لیکن اس کی شرائط بہت سخت ہیں اور عوام میں عدم اطمینان بڑھ رہا ہے۔ یوکرین بھی ڈیفالٹ کے قریب ہے۔ جنگ کی وجہ سے یوکرین کی معیشت تباہ ہو گئی ہے اور اس کی آمدنی کے ذرائع ختم ہو گئے ہیں۔ یوکرین کو بین الاقوامی امداد مل رہی ہے لیکن پھر بھی اس کے لیے قرضوں کی واپسی مشکل ہے۔ تیونس شمالی افریقہ کا وہ ملک ہے جو بھی ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار ہے۔ تیونس میں سیاسی عدم استحکام ہے اور اس کی معیشت سیاحت پر منحصر ہے جو کہ وبائی امراض اور دیگر وجوہات کی بنا پر متاثر ہوئی ہے۔ گھانا افریقہ کا وہ ملک ہے جس نے حال ہی میں ڈیفالٹ کیا ہے اور اب بھی اس کی معیشت مشکلات کا شکار ہے۔ گھانا کی کرنسی کی قدر میں کمی ہوئی ہے اور اس کی قرضوں کی واپسی کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ مصر پر بھی ڈیفالٹ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ مصر کی آبادی بہت زیادہ ہے اور اسے خوراک اور توانائی کی درآمد پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مصر کی درآمدی بل بڑھ گیا ہے اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔ کینیا بھی افریقہ کا وہ ملک ہے جو قرضوں کے بحران سے دوچار ہے۔ کینیا نے چین سمیت کئی ممالک سے قرضے لیے ہیں اور اب ان کی واپسی مشکل ہو گئی ہے۔ ایتھوپیا بھی اسی طرح کا معاملہ ہے جہاں قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے اور معیشت سست رفتاری سے ترقی کر رہی ہے۔ ایل سلواڈور وسطی امریکہ کا وہ ملک ہے جس نے بٹ کوائن کو قانونی حیثیت دی تھی، لیکن اب وہ قرضوں کے بحران کا شکار ہے۔ پاکستان کا معاملہ بھی خاصا تشویش ناک ہے۔ پاکستان کی معیشت میں عدم استحکام ہے، اس کی کرنسی کی قدر میں کمی ہو رہی ہے اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر بہت کم ہو گئے ہیں۔ پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرضہ مل رہا ہے لیکن اس کی شرائط پوری کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ ایکواڈور بھی ارجنٹینا کی طرح لاطینی امریکہ کا وہ ملک ہے جو قرضوں کے بحران سے دوچار ہے۔ نائجیریا افریقہ کی سب سے بڑی معیشت ہے، لیکن تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے اس پر بھی ڈیفالٹ کا خطرہ ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق، 53 فیصد ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں میں ڈیفالٹ کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ اس کے مقابلے میں ترقی یافتہ ممالک میں یہ خطرہ 31 فیصد ہے۔ ابھرتی ہوئی معیشتوں کے پاس وسائل کم ہیں اور وہ بین الاقوامی اقتصادی حالات میں تبدیلی کا زیادہ شکار ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، تقریباً 400 بلین ڈالر کا قرضہ ان ممالک کے ڈیفالٹ کے خطرے سے جڑا ہوا ہے۔ یہ رقم بہت بڑی ہے اور اگر یہ ممالک ڈیفالٹ کرتے ہیں تو عالمی معیشت پر اس کے برے اثرات مرتب ہوں گے۔
مستقبل کے خطرات اور امکانات ماہرین کے مطابق، 2026 اور اس کے بعد کے سال ممالک کے لیے قرضوں کے حوالے سے بہت اہم ہوں گے۔ کئی عوامل ہیں جو مستقبل میں قرضوں کے بحران کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔ انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف فنانس نے خبردار کیا ہے کہ 2026 ابھرتی ہوئی منڈیوں کے لیے خاص طور پر مشکل سال ہوگا۔ ان ممالک کو تقریباً 9 ٹریلین ڈالر سے زائد کے قرضوں کی ری فنانسنگ کی ضرورت ہوگی۔ ری فنانسنگ سے مراد نئے قرضے لے کر پرانے قرضے اتارنا ہے۔ اگر ان ممالک کو نئے قرضے نہ ملے تو وہ ڈیفالٹ کر سکتے ہیں۔ یہ رقم انتہائی زیادہ ہے اور عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔ دوسرا بڑا خطرہ بڑھتے ہوئے اخراجات کا ہے۔ طویل مدتی قرضوں پر سود کی شرح بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے حکومتوں کے لیے قرض اتارنا مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں سے عالمی سطح پر سود کی شرحیں کم تھیں، لیکن اب مرکزی بینک مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سود کی شرحوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے پرانے قرضے بھی مہنگے ہو جاتے ہیں اور نئے قرضے لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں حکومتیں مختصر مدتی قرضے لے رہی ہیں، جس سے ری فنانسنگ کا خطرہ مزید بڑھ رہا ہے۔ مختصر مدتی قرضوں کی مدت کم ہوتی ہے اور انہیں جلد واپس کرنا پڑتا ہے، جس سے حکومتوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ او ای سی ڈی کا اندازہ ہے کہ 2026 میں اس کے رکن ممالک کی حکومتوں کی قرضوں کی ادائیگی کا 78 فیصد حصہ صرف پرانے قرضوں کو نکھارنے پر خرچ ہو جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ نئے ترقیاتی منصوبوں یا عوامی بہبود پر خرچ کرنے کے لیے بہت کم رقم بچے گی۔ یہ صورت حال ان ممالک کی اقتصادی ترقی کو متاثر کرے گی اور عوام میں عدم اطمینان پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک دوہرا مسئلہ بھی ہے۔ ایک طرف بڑی معیشتیں جیسے امریکہ، فرانس، بیلجیئم وغیرہ بھی اپنے بڑھتے ہوئے قرضوں کی وجہ سے مالیاتی خسارے کا شکار ہیں۔ ان ممالک پر قرضوں کا تناسب بھی 100 فیصد سے زیادہ ہے اور وہ بھی اس مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکہ جیسی معیشت پر اگر قرضوں کا دباؤ بڑھتا ہے تو اس کے عالمی سطح پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف ترقی پذیر ممالک کے لیے صورت حال اور بھی نازک ہے کیونکہ ان کے پاس وسائل کم ہیں اور ان کی کرنسیوں پر بھی دباؤ ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی کرنسیاں ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں اور قرضوں کی واپسی بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ ان ممالک کو اکثر ڈالر میں قرضے لینے پڑتے ہیں اور جب ان کی اپنی کرنسی کمزور ہوتی ہے تو ڈالر میں قرض واپس کرنا زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔ مستقبل کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ممالک اپنے بجٹ میں کس طرح توازن رکھتے ہیں۔ انہیں اپنے اخراجات کم کرنے اور آمدنی بڑھانے کے لیے ٹیکس کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے جیسے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کس طرح مدد کرتے ہیں، یہ بھی اہم ہوگا۔ یہ ادارے مشکل حالات میں ممالک کو قرضے اور تکنیکی مدد فراہم کرتے ہیں۔ عالمی اقتصادی صورتحال بھی اہم ہے۔ اگر عالمی معیشت تیزی سے ترقی کرتی ہے تو ممالک کی آمدنی بڑھے گی اور ان کے لیے قرضے واپس کرنا آسان ہوگا۔ لیکن اگر عالمی معیشت سست رفتاری کا شکار ہوتی ہے تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جغرافیائی سیاسی حالات بھی اہم ہیں۔ جنگوں اور تنازعات کی وجہ سے معیشتیں متاثر ہوتی ہیں اور قرضوں کا بحران گہرا ہو سکتا ہے۔
نتیجہ عالمی قرضوں کا بحران ایک سنگین مسئلہ ہے جو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کے ممالک کو متاثر کر رہا ہے۔ جاپان، امریکہ اور یورپی ممالک جیسی بڑی معیشتوں پر قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔ یہ ممالک اگرچہ فوری طور پر ڈیفالٹ کے خطرے میں نہیں ہیں، لیکن ان کے قرضوں کا بڑھتا ہوا تناسب تشویشناک ہے۔ دوسری طرف ارجنٹینا، پاکستان، یوکرین اور کئی افریقی ممالک ڈیفالٹ کے قریب ہیں۔ ان ممالک کی معیشتیں کمزور ہیں اور انہیں اپنے قرضوں کی واپسی کے لیے سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ ان ممالک کی کرنسیاں کمزور ہو رہی ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں اور عوام میں عدم اطمینان بڑھ رہا ہے۔ مستقبل میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے کیونکہ سود کی شرحیں بڑھ رہی ہیں اور ری فنانسنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ابھرتی ہوئی معیشتوں کو اگلے چند سالوں میں بھاری مقدار میں قرضوں کی ری فنانسنگ کرنا ہوگی، جو کہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس کے علاوہ بڑی معیشتیں بھی اپنے قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں اور وہ عالمی معیشت کو سہارا دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ان حالات میں یہ ضروری ہے کہ ممالک اپنی اقتصادی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور قرضوں کے انتظام کو بہتر بنائیں۔ انہیں غیر ضروری اخراجات کم کرنے، ٹیکس کا نظام بہتر کرنے اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے پر توجہ دینی ہوگی۔ بین الاقوامی برادری کو بھی مشکل حالات میں ممالک کی مدد کرنی چاہیے اور ان کے لیے قرضوں کی ادائیگی کی آسان شرائط فراہم کرنی چاہئیں۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک جیسے ادارے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہیں نہ صرف قرضے فراہم کرنے چاہئیں بلکہ ممالک کو اقتصادی اصلاحات کرنے میں بھی مدد دینی چاہیے۔ عالمی اقتصادی تعاون بھی بہت ضروری ہے۔ تمام ممالک کو مل کر ایسی پالیسیاں بنانی چاہئیں جو عالمی معیشت کو مستحکم کریں اور قرضوں کے بحران کو روکیں۔ اس کے علاوہ ترقی پذیر ممالک کو بھی اپنی معیشتوں کو مضبوط بنانے اور بیرونی جھٹکوں سے بچانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہیں اپنی برآمدات بڑھانے، درآمدات کم کرنے اور مقامی صنعتوں کو فروغ دینے پر توجہ دینی ہوگی۔ انہیں اپنی کرنسی کو مستحکم کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کرنے چاہئیں۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے اور اس کے لیے سیاسی استحکام اور عوامی تعاون کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر صحیح اقدامات کیے جائیں تو قرضوں کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے اور ممالک دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ ورنہ آنے والے سالوں میں ہم مزید ممالک کو ڈیفالٹ کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں، جس کے عالمی معیشت پر بہت برے اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ اثرات صرف ان ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور فوری طور پر موثر اقدامات کیے جائیں۔