(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
زخموں سے حکمت تک – کس طرح شفقت اللہ مشتاق کی غزل مکمل روحانی سفر کی عکاسی کرتی ہے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
شفقت اللہ مشتاق کا یہ کلام محض غزل نہیں، ایک روحانی سفرنامہ ہے، ایک خود نوشت ہے جو درد سے شروع ہوتا ہے اور کمال پر ختم ہوتا ہے۔ یہ وہ غزل ہے جس میں عشق کا زخم، خود آگہی کی تپش، کائنات میں جلوۂ یار کی جستجو، بے پناہ کرم کا ادراک، غموں سے راستہ سازی، غیبی امداد کا یقین، اور آخر کار آزمائشوں سے پختگی کا اعلان — سب کچھ موجود ہے۔ یہ ایک مکمل فلسفہ حیات ہے جو کلاسیکی روایت میں ڈھلا ہے مگر اس کی روح بالکل عصری ہے۔

مرے سینے پہ جب سے تم نے اک گھاؤ لگایا ہے
کبھی خود کو سلایا ہے کبھی خود کو جگایا ہے
یہ شعر عشق کے اس دوہرے اثر کو بیان کرتا ہے جو ایک جانب زخم دیتا ہے تو دوسری جانب بیداری عطا کرتا ہے۔ “گھاؤ لگایا ہے” سے مراد وہ داغ ہے جو محبوب نے ڈالا — یہاں محبوب کا تصور ظاہر میں کسی بھی ہستی سے ہو سکتا ہے، لیکن باطن میں یہ اس ذاتِ حقیقی کا استعارہ ہے جو بندے کو پہلے زخم دے کر پھر اس زخم کے ذریعے اسے اپنی طرف کھینچتی ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ جب سے یہ زخم لگا، میرا تعلق اپنی ذات سے ہی بدل گیا۔ “کبھی خود کو سلایا ہے کبھی خود کو جگایا ہے” — یہ ایک عجیب کیفیت ہے۔ کبھی اس زخم کے نشتر سے بچنے کے لیے میں خود کو غفلت کی نیند سلاتا ہوں، کبھی اس حقیقت سے باخبر رہنے کے لیے خود کو بیدار کرتا ہوں۔ یہ خود سے جنگ اور مصالحت کا مستقل عمل ہے۔ نفسیاتی طور پر یہ اس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جہاں انسان اپنے اندر موجود دو ہستیوں — ایک جو درد سے بھاگتی ہے اور ایک جو درد میں ہی اپنی بقا پاتی ہے — کے درمیان پھنسا رہتا ہے۔
یہ شعر غزل کا نقطۂ عروج بھی ہے اور اس کی بنیاد بھی۔ یہاں سے سفر شروع ہوتا ہے۔
بنا کر بھیس غالب کا میں غالب آ گیا سب پر
مگر خود کو تمھارے سامنے مغلوب پایا ہے
یہ شعر شاعر کے علمی اور فنی کمالات کے ساتھ ساتھ اس کے عجز کا بے مثال اظہار ہے۔ “بھیس غالب کا” — یعنی شاعر نے اتنی مہارت حاصل کر لی، اتنا فہم اور فن سمیٹ لیا کہ گویا خود غالبؔ کا روپ دھار لیا۔ “غالب آ گیا سب پر” — وہ بحث و نظر میں، فن و حکمت میں، منطق و استدلال میں سب پر چھا گیا۔ اس نے وہ مقام حاصل کر لیا جہاں کوئی اس کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتا۔
لیکن پھر وہ ایک لفظ “مگر” کے ساتھ پوری فتح کو شکست میں بدل دیتا ہے۔ “خود کو تمھارے سامنے مغلوب پایا ہے” — جب وہ ذاتِ حقیقی سامنے آتی ہے، جس کے لیے یہ ساری کاوشیں تھیں، تو سارے کمالات بے معنی ہو جاتے ہیں۔ غالبؔ کا بھیس بھی کام نہیں آتا۔ یہ شعر عشق کی ایک حقیقت بیان کرتا ہے: عشق علم سے بلند ہے، عشق منطق سے ماورا ہے۔ تم کتنے ہی غالبؔ کیوں نہ بن جاؤ، ایک نظرِ عشق تمھیں مغلوب کر دیتی ہے۔
یہ ایک صوفیانہ کیفیت ہے جہاں سالک اپنے تمام کسب و ریاضت کے بعد آخر میں محسوس کرتا ہے کہ اصل میں تو وہ کچھ بھی نہیں، سب اس کا کرم ہے۔
زمین و آسماں کی وسعتوں میں چار سو میں نے
جہاں دیکھا ، جدھر دیکھا ترا ہی نقش پایا ہے
یہ شعر وحدت الوجود کے اسرار میں سے ایک در وا کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میں نے زمین کی وسعتوں میں بھی، آسمان کی بلندیوں میں بھی، چاروں سمتوں میں — ہر طرف، ہر جگہ، صرف تیرا ہی نقش پایا۔ “چار سو” یعنی ہر سمت، ہر جانب، مکمل احاطہ۔ یہ کوئی مجازی عشق کا دعویٰ نہیں، یہ حقیقت کا ادراک ہے۔
جب عشق اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو عاشق کو کائنات کی ہر شے میں محبوب کا جلوہ نظر آنے لگتا ہے۔ یہ کیفیت رومیؔ، ابن عربیؔ، اور غالبؔ کے کلام میں بھی ملتی ہے۔ شاعر نے اس ادراک کو نہایت سادہ مگر گہرے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ “نقش” کا لفظ یہاں بہت معنی خیز ہے — یعنی محبوب کا نشان، اس کی نشانی، اس کی جھلک۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کثرت میں وحدت نظر آنے لگتی ہے، اور ہر شے اپنے خالق کی طرف اشارہ کرتی نظر آتی ہے۔
یہ شعر محض غزل کا حصہ نہیں، بلکہ ایک عرفانی تصدیق نامہ ہے۔
سمجھ آیا نہیں اس کا یہ اندازِ کرم مجھ کو
مجھے ہر بار گر جانے سے پہلے ہی بچایا ہے
یہ شعر عجز اور حیرت کا نہایت خوبصورت نمونہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میں اس کے کرم کا انداز سمجھ نہیں پاتا۔ کیسا کرم ہے کہ میں جب بھی گرنے والا ہوتا ہوں، اس سے پہلے ہی مجھے بچا لیا جاتا ہے۔
یہاں “گر جانے” سے مراد ظاہری گراوٹ بھی ہو سکتی ہے اور باطنی — نفس کے دام، غفلت کے اندھے کنویں، یا کسی بڑی خطا کا ارتکاب۔ اور “پہلے ہی بچایا” یعنی میں نے گرنا بھی نہیں پایا کہ مجھے تھام لیا گیا۔ یہ اس کرم کی ماورائے فہم نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔
انسان جب اپنی زندگی پر نظر ڈالتا ہے تو اسے بہت سے ایسے مقامات ملتے ہیں جہاں وہ گرا ہوتا، برباد ہوتا، تباہ ہوتا — مگر کوئی نہ کوئی چیز، کوئی نہ کوئی سبب، کوئی نہ کوئی لمحہ اسے بچا لیتا ہے۔ یہ شعر اسی احساس کا نام ہے۔ “سمجھ نہ آنا” دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ یہ کرم میرے فہم سے بالا تر ہے، میں اس کی حکمت کو نہیں سمجھ سکتا، میں صرف شکر گزار ہو سکتا ہوں۔
جو دل ٹوٹا تو جینے کا قرینہ ہی بدل ڈالا
موں کو اوڑھ کر میں نے نیا رستہ بنایا ہے
یہ شعر نفسیاتی پختگی اور وجودی تبدیلی کا شاندار اظہار ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب دل ٹوٹا — جو عام فہم میں سب سے بڑا سانحہ ہوتا ہے — تو میں نے اسے انجام نہیں، آغاز قرار دیا۔ میں نے جینے کا سارا انداز ہی بدل ڈالا۔
“غموں کو اوڑھ کر” یعنی غموں کو بوجھ نہیں بنایا، انہیں اپنی پہچان، اپنا لباس، اپنی طاقت بنا لیا۔ غموں کو چھپایا نہیں، انہیں سمیٹ کر ان سے راستہ بنا لیا۔ یہ وہی مقام ہے جہاں انسان اپنے زخموں سے اپنی پہچان بناتا ہے۔
یہ شعر ان تمام لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو کسی بڑے دکھ سے گزرے ہیں۔ شاعر کہتا ہے: دل ٹوٹنا خاتمہ نہیں، یہ ایک نیا اندازِ زیست سکھاتا ہے۔ غم تمھارا دشمن نہیں، اگر تم انہیں سہی انداز میں اوڑھ لو تو وہ تمھارا راستہ بن سکتے ہیں۔ یہ شعر نہایت مثبت اور بااختیار بنانے والا ہے۔

نظر آتا نہیں ، دیوار میں ہوتا ہے دروازہ
مرے مولا نے مشکل میں مجھے رستہ دکھایا ہے
یہ عرفانی اور صوفیانہ شعروں میں سے ایک ہے جو حقیقت کی گہرائی تک لے جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ظاہر میں تو صرف دیوار نظر آتی ہے، کوئی راستہ نظر نہیں آتا — مگر اس دیوار میں دروازہ موجود ہے، بس نظر نہیں آتا۔ اور وہ دروازہ مجھے میرے مولا نے مشکل کی اس گھڑی میں دکھایا۔
یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی عقل و بصارت سے مایوس ہو جاتا ہے، اور پھر غیبی امداد اسے راستہ دکھاتی ہے۔ یہ شعر حضرت موسیٰؑ اور خضرؑ کے واقعے کی یاد دلاتا ہے جہاں ظاہر میں تباہی تھی مگر باطن میں رحمت۔
“مشکل میں رستہ دکھانا” — یہ ہر اس شخص کا تجربہ ہے جس نے زندگی میں کسی نہ کسی موڑ پر محسوس کیا ہو کہ جب سب دروازے بند ہو گئے، تو کوئی ایسا دروازہ کھلا جس کا گمان بھی نہ تھا۔ یہ شعر توکل، یقین، اور تسلیم کا حسین ترین اظہار ہے۔
میں اب پورا اترتا ہوں کسی بھی آزمائش میں
مجھے اس زندگی نے شفقت اتنا آزمایا ہے
یہ غزل کا اختتامیہ ہے اور پورے سفر کا نچوڑ۔ شاعر کہتا ہے کہ اب میں زندگی کی کسی بھی آزمائش میں پورا اترتا ہوں — مکمل، بے کم و کاست، ثابت قدم۔ اور یہ مرتبہ مجھے اس لیے ملا کہ اس زندگی نے مجھے “شفقت” سے اتنا آزمایا ہے۔
یہاں “شفقت” کا لفظ نہایت اہم ہے۔ عام طور پر آزمائش کو سختی سمجھا جاتا ہے، لیکن شاعر اسے شفقت قرار دیتا ہے۔ یعنی وہ تمام مشکل حالات، وہ سبھی پرکھیں، وہ سبھی دکھ — یہ دراصل اس کی شفقت تھیں، اس کی مہربانی تھی۔ انہوں نے مجھے توڑا نہیں، بنایا۔ انہوں نے مجھے کمزور نہیں کیا، مجھے پختہ کیا۔
یہ شعر اس مقامِ کامل کو ظاہر کرتا ہے جہاں انسان اپنی تمام تر آزمائشوں کو شکر کے ساتھ یاد کرتا ہے، اور محسوس کرتا ہے کہ وہ سب اس کی بقا کے لیے تھیں، اس کی تکمیل کے لیے تھیں۔
شفقت اللہ مشتاقؔ کی یہ غزل محض جذبات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک مکمل روحانی سفر ہے۔ اس کے سات شعروں میں شاعر نے ایک ایسا راستہ طے کیا ہے جو زخم سے شروع ہوتا ہے، خود آگہی سے گزرتا ہے، کائنات میں جلوۂ یار کی جستجو کرتا ہے، کرم کے ادراک تک پہنچتا ہے، غموں سے راستہ بناتا ہے، غیبی امداد کا یقین پاتا ہے، اور آخر کار آزمائشوں سے پختگی کے مقام پر جا پہنچتا ہے۔
اس غزل کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بیک وقت ذاتی بھی ہے اور عالم گیر بھی۔ شاعر نے اپنے ذاتی تجربات کو اس طرح ڈھالا ہے کہ ہر قاری اپنا سفر اس میں دیکھ سکتا ہے۔ زبان میں سادگی ہے مگر معانی میں گہرائی ہے۔ وزن بحر میں روانی ہے مگر ہر لفظ سوچا سمجھا ہے۔
کلاسیکی روایت میں غالبؔ، میرؔ، اور اقبالؔ کے بعد جو غزل آئی، اس میں کبھی معنویت کی کمی ہوتی ہے تو کبھی جذبات کی شدت میں کمی آ جاتی ہے — لیکن اس غزل میں دونوں چیزیں اپنی مکمل شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ جدید اردو غزل کا وہ قیمتی اضافہ ہے جو آنے والے وقتوں میں بھی پڑھی اور سراہی جائے گی۔
شفقت اللہ مشتاق صاحب کا تعلق پنجاب، پاکستان سے ہے اور وہ بطور ڈپٹی کمشنر سرکاری خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ بات اپنے آپ میں بہت اہم ہے کہ ایک اعلیٰ سرکاری افسر، جس کی ذمہ داریوں میں انتظامی امور، عوامی مسائل، اور روزمرہ کی پیچیدگیاں شامل ہیں، وہ اس معیار کا ادب تخلیق کرے۔ یہ ان کی شخصیت کے دو پہلوؤں کو ظاہر کرتا ہے: ایک طرف وہ سخت گیر انتظامی افسر ہیں، دوسری طرف ایک حساس، گہرا، اور عارفانہ مزاج رکھنے والا شاعر۔
ان کا ادبی ذوق ان کے کلام سے عیاں ہے۔ وہ اردو شاعری کی روایت سے بخوبی آگاہ ہیں، غالبؔ سے لے کر جدید شعرا تک ان کا مطالعہ وسیع ہے۔ “بنا کر بھیس غالب کا” جیسا شعر صرف وہی کہہ سکتا ہے جس نے غالبؔ کو سمجھا ہو، غالبؔ کے انداز کو جذب کیا ہو، اور پھر اس سے بھی آگے نکل کر اپنی بات کہی ہو۔
سوشل میڈیا پر ان کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ وہ جدید ذرائع ابلاغ کو ادب کے فروغ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ایک ڈپٹی کمشنر کا ادبی حلقوں میں متحرک رہنا، اپنا کلام عوام تک پہنچانا، اور نئے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا — یہ سب ان کی شخصیت کے مثبت پہلو ہیں۔
شفقت اللہ مشتاقؔ نے یہ ثابت کیا ہے کہ سرکاری عہدے اور ادبی حساسیت میں کوئی تضاد نہیں۔ بلکہ ایک بہتر منتظم وہی ہو سکتا ہے جو انسانی جذبات کی گہرائیوں کو سمجھتا ہو — اور شاعری اس سمجھ کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
یہ غزل محض پڑھنے کی چیز نہیں، اس پر غور کرنے کی چیز ہے۔ ہر بار پڑھنے پر کوئی نہ کوئی نئی تہہ کھلتی ہے۔ اس میں درد ہے مگر یاس نہیں، عشق ہے مگر بے راہ روی نہیں، عرفان ہے مگر پیچیدگی نہیں۔ شفقت اللہ مشتاقؔ نے اپنے نام کے ساتھ انصاف کیا ہے — ان کا کلام واقعی “شفقت” سے لبریز ہے، اور “مشتاق” کی مشتاقی اس میں ہر جگہ جلوہ گر ہے۔
یہ کلام اردو غزل کے اس خزانے میں ایک بیش بہا اضافہ ہے جو درد سے کمال تک کا سفر کراتا ہے۔ اللہ انہیں سلامت رکھے، اور اس معیار کا کلام لکھنے کی توفیق ہمیشہ عطا فرمائے۔ آمین!
میاں افتخار احمد 03216681663
مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔