(میاں افتخار احمد)
آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول سخت، جہازوں پر بھاری ٹول اور سخت پابندیاں عائد
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے آبنائے ہرمز پر اپنا مکمل کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ پچھلے ایک ماہ کے دوران اس آبی گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں 90 فیصد تک کمی آئی ہے۔ عالمی شپنگ کمپنیوں نے خلیج فارس میں آنا جانا معطل کر دیا ہے۔ ایرانی بحریہ نے اب اس آبنائے کو پرمٹ کوریڈور میں تبدیل کر دیا ہے جہاں صرف اجازت نامے کے بعد ہی جہاز گزر سکتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے صرف پندرہ جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی۔ قشم اور لارک کے جزائر کے درمیان ایرانی ساحلی پانیوں سے گزرنے کے لیے تمام جہازوں کو آئی آر جی سی نیوی سے کلیئرنس لینا ضروری ہے۔
فی جہاز 20 لاکھ ڈالر ٹول، ادائیگی ڈالر میں قبول نہیں:ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر تجارتی جہاز پر 20 لاکھ ڈالر کا ٹول ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ یہ ٹیکس امریکی ڈالر میں قبول نہیں کیا جا رہا بلکہ ادائیگی صرف چینی یوآن، کرپٹو کرنسی یا بارٹر سسٹم کے تحت سامان کے بدلے وصول کی جا رہی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے منظور شدہ ایجنٹس جہازوں کی مکمل دستاویزات کارگو منزل اور مالکان کی تفصیلات کی سکریننگ کرتے ہیں۔ کلیئرنس ملنے کے بعد پاسداران کی پٹرولنگ بوٹس جہازوں کو بحفاظت تنگ ترین راستے سے گزارتی ہیں۔ چند روز قبل کم از کم ایک آپریٹر نے یہ ٹول ادا کر کے اپنا جہاز گزارا ہے۔
بھارت کے جہاز کامیابی سے گزرے، عالمی طاقتیں خاموش: بھارت نے ایران کے نئے نظام کو تسلیم کرتے ہوئے کامیابی سے اپنے تجارتی جہاز گزر لیے ہیں۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں میں دو بھارتی ایل پی جی ٹینکرز نے قشم اور لارک کے جزائر کے درمیان والے راستے سے گزر کر خلیج عمان میں داخل ہو گئے۔ بھارتی بحریہ کے جنگی جہازوں نے ان ٹینکرز کو اسکورٹ کیا۔ بھارتی وزیر اعظم نے خود ایرانی صدر سے دو مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ کیا تاکہ ان جہازوں کو راستہ مل سکے۔ دوسری جانب امریکہ کی قیادت میں بحری اتحاد کی تشکیل کی کوشش ناکام ہو گئی کیونکہ فرانس جرمنی اور برطانیہ سمیت بڑے اتحادیوں نے اس مشن میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔
سعودی عرب نے ڈالر کا معاہدہ ختم کیا، پیٹرو یوآن کا دور شروع:ماہرین اقتصادیات کے مطابق آبنائے ہرمز میں یہ تبدیلیاں پیٹرو ڈالر کے خاتمے کا آغاز ہیں۔ سنہ 1974 میں جس معاہدے کے تحت تیل کی تجارت امریکی ڈالر میں طے کی گئی تھی اسے سعودی عرب نے جون میں باضابطہ طور پر ختم کر دیا تھا۔ سعودی عرب اب امریکہ سے چار گنا زیادہ تیل چین کو برآمد کر رہا ہے۔ عالمی مالیاتی نظام میں یہ تبدیلی اس وقت ہو رہی ہے جب امریکہ کا قرضہ 39 ٹریلین ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز جب ڈالر کی بجائے یوآن یا کرپٹو میں ٹول ادا کر رہے ہیں تو وہ امریکی مالیاتی بالادستی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک رہے ہیں۔
دنیا بھر میں ایندھن کی قلت، سینٹرل بینک یرغمال:آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے براہ راست اثرات دنیا بھر میں نظر آنے لگے ہیں۔ سلووینیا میں پٹرول پمپوں پر کیو آر کوڈ سکین کر کے ایندھن لیا جا رہا ہے جبکہ جنوبی کوریا نے سرکاری گاڑیوں پر ہفتے میں ایک دن پابندی عائد کر دی ہے۔ دنیا کے چھ ممالک میں فیول راشننگ شروع ہو چکی ہے۔ امریکی فیڈ شرح سود میں کمی نہیں کر سکتا جبکہ یورپی سینٹرل بینک سود بڑھانے پر مجبور ہے۔ جاپان کی دس سالہ بانڈ ییلڈ ستائیس سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ عالمی سینٹرل بینک اس ایک آبنائے کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں جہاں اب امریکی بحری بیڑے یا بین الاقوامی قانون کی نہیں بلکہ ایک وی ایچ ایف ریڈیو کال اور ایرانی پاسداران انقلاب کی منظوری کی حکمرانی ہے۔
مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری بین الاقوامی خبریں دیکھیں۔