(Publish from Houston Texas USA)
(رپورٹ: عاصم صدیقی، واشنگٹن ڈی سی)
HOPE 786 فنڈ ریزنگ ایونٹ پاکستان میں اسکولوں اور خاندانوں کے لیے کمیونٹی سپورٹ کو نمایاں کرتا ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں ہر سال کی طرح اس سال بھی ایک خصوصی فنڈ ریزنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستانی امریکن کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس تقریب کا مقصد فلاحی ادارے HOPE 786 کے ذریعے پاکستان میں مستحق خاندانوں اور بچوں کی تعلیم کے لیے مالی معاونت فراہم کرنا تھا۔ تقریب کے دوران تنظیم کے منتظمین سلیم خان اور راشد گل نے شرکاء کو تفصیل سے آگاہ کیا کہ عطیہ دہندگان کی جانب سے فراہم کیے گئے فنڈز کس طرح شفاف طریقے سے مستحق خاندانوں تک پہنچائے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان عطیات کو نہ صرف معاشی مشکلات کا شکار خاندانوں کی مدد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے بلکہ انہیں تعلیم اور چھوٹے کاروبار کے مواقع فراہم کر کے خود کفیل بنانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔
منتظمین کے مطابق HOPE 786 اس وقت پاکستان میں دو اسکولوں کی سرپرستی کر رہی ہے جہاں 700 سے زائد بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ ان تعلیمی اداروں میں بچوں کو معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ بہتر مستقبل کے لیے ضروری رہنمائی اور مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان اسکولوں کا مقصد ایسے بچوں کو تعلیم دینا ہے جو معاشی مشکلات کے باعث تعلیم حاصل کرن سے محروم رہ جاتے ہیں، تاکہ وہ مستقبل میں معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔
تقریب میں شریک پاکستانی امریکن کمیونٹی کے افراد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس فلاحی مشن کی حمایت جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر منتظمین نے دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں اور مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ اس انسانی خدمت کے مشن میں شامل ہوں اور زیادہ سے زیادہ تعاون کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے نہ صرف مزید بچوں کو تعلیم فراہم کی جا سکتی ہے بلکہ مستحق خاندانوں کو باعزت روزگار کے مواقع بھی مہیا کیے جا سکتے ہیں۔






یاد رہے کہ HOPE 786 جیسے فلاحی ادارے معاشرے کے ان طبقات کے لیے امید کی کرن ہیں جو مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف غربت کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں بلکہ بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی بنتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کمیونٹی اسی طرح تعاون جاری رکھے تو تعلیم اور فلاحی منصوبوں کے ذریعے ہزاروں خاندانوں کی زندگیاں بہتر بنائی جا سکتی ہیں۔ ایک چھوٹی سی مدد بھی کسی خاندان کی زندگی بدلنے اور کسی بچے کے مستقبل کو روشن بنانے کا سبب بن سکتی ہے۔
مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری بین الاقوامی خبریں دیکھیں۔