کراچی کے ساحل کے قریب واقع بودو اور بنڈل آئی لینڈز جہاں دبئی طرز کے جدید شہر کی تعمیر کی تجاویز زیر بحث ہیں 0

جزیروں سے سلطنت تک، پاکستان کا دبئی بننے کا خواب، کیا بودو اور بنڈل آئی لینڈز ہماری تقدیر بدل سکتے ہیں؟

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)

بودو اور بنڈل آئی لینڈز کا جائزہ اور دبئی ماڈل کے قوانین جو صحرا کو عالمی معاشی مرکز میں بدل گئے

جزیروں کی حقیقت – بودو اور بنڈل آئی لینڈز کا جائزہ، دبئی کا کرشمہ – وہ قوانین جنہوں نے صحرا کو جنت بنا دیا-پاکستان میں دبئی جیسا ماڈل متعارف کرانے کا خیال نیا نہیں ہے، ماضی میں بھی مختلف حکومتیں اس قسم کے منصوبوں کا اعلان کر چکی ہیں۔ اس وقت جب خلیجی ممالک سے سرمایہ کاری کے انخلا کا امکان ہے تو یہ سوچنا کہ پاکستان اس سرمائے کو اپنی طرف کھینچ سکتا ہے، بہت پُرکشش ہے۔ پاکستان کے دو اہم جزیروں بودو اور بنڈل آئی جو 35 سے 40 مربع کلومیٹر پر محیط ہیں۔ کیا ان کو دبئی بنایا جا سکتا ہے ۔ یہ کراچی کے ساحل سے متصل سندھ میں واقع دو جزیرے ہیں۔ ان جزیروں کا کل رقبہ تقریباً 12 ہزار ایکڑ یا 49 مربع کلومیٹر بنتا ہے، یہ جزیرے مینگروز کے جنگلات، نایاب سبز کچھوؤں اور نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی وجہ سے ماحولیاتی لحاظ سے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ان جزیروں پر ترقی کا خیال نیا نہیں ہے، ماضی میں کئی بار ایسے منصوبوں کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ 2006 میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں پورٹ قاسم اتھارٹی اور دبئی کی معروف تعمیراتی کمپنی اعمار پراپرٹیز کے درمیان 43 ارب ڈالر کا معاہدہ طے پایا تھا جس کا مقصد ان جزیروں پر ایک جدید شہر تعمیر کرنا تھا۔ اس منصوبے کو ڈائمنڈ بار آئی لینڈ سٹی کا نام دیا گیا تھا اور اس کی تعمیر 13 سال میں مکمل ہونے کی امید تھی۔ تاہم یہ منصوبہ مختلف تنازعات کا شکار ہو کر رک گیا۔2013 میں بہریہ ٹاؤن نے ایک امریکی سرمایہ کار تھامس کرامر کے ساتھ 20 ارب ڈالر کے منصوبے پر معاہدہ کیا جس کا مقصد دنیا کی بلند ترین عمارت اور دنیا کا سب سے بڑا شاپنگ مال تعمیر کرنا تھا۔ یہ منصوبہ بھی مختلف وجوہات کی بنا پر تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔2020 میں صدر عارف علوی نے پاکستان آئی لینڈز ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس جاری کیا جس کے تحت ان جزیروں کی ترقی کا اختیار وفاقی حکومت نے لے لیا۔ اس پر سندھ حکومت نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور بلاول بھٹو زرداری نے اسے سندھ کے جزیروں کا غیر آئینی قبضہ قرار دیا۔ان جزیروں پر سب سے بڑا مسئلہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان اختیارات کا تنازع ہے۔ پورٹ قاسم اتھارٹی اور سندھ حکومت کے درمیان ان جزیروں کی ملکیت کا جھگڑا برسوں سے چل رہا ہے۔ سندھ کابینہ نے ان جزیروں کو محفوظ جنگلات قرار دے دیا ہے جبکہ وفاقی حکومت نے پاکستان آئی لینڈز ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کر رکھی ہے۔ یہ تنازع کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آئینی طور پر دیکھا جائے تو آئین پاکستان کے آرٹیکل 172 کے تحت کوئی بھی ایسی جائیداد جس کا کوئی حق دار نہ ہو، اگر صوبے میں واقع ہو تو وہ صوبائی حکومت کے پاس ہوگی۔ سندھ ہائی کورٹ بھی اس معاملے میں صوبائی حکومت کے حق میں فیصلے دے چکی ہے۔ماحولیاتی لحاظ سے بھی یہ جزیرے انتہائی حساس ہیں، ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر پاکستان کے مطابق یہاں کا نازک ماحولیاتی نظام پہلے ہی آلودگی کے دباؤ میں ہے اور کنکریٹ کی ترقی اسے مزید شدید نقصان پہنچائے گی۔ بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظ قدرت کے مطابق یہ جزیرے اعلی ترجیحی علاقوں میں شامل ہیں اور یہاں 10 ہزار ہیکٹر مینگروز کے جنگلات ہیں۔ مقامی ماہی گیروں کا مسلک بھی ان جزیروں سے منسلک ہے اور ترقی سے ان کی روزی روٹی متاثر ہوگی۔ان تمام مشکلات کے باوجود یہ جزیرے ترقی کے بے پناہ امکانات رکھتے ہیں۔ کراچی شہر سے قربت، گہرے پانی کی موجودگی اور قدرتی خوبصورتی انہیں سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بناتی ہے۔ اگر وفاق اور صوبے کا تنازع حل ہو جائے تو یہاں ایک جدید شہر تعمیر کیا جا سکتا ہے جو پاکستان کی معیشت کو بدل سکتا ہے۔


دبئی ماڈل صرف اونچی عمارتیں کھڑی کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ قوانین اور اداروں کا ایک مکمل نظام ہے۔ آج دبئی دنیا کی تجارت، سیاحت اور مالیات کا مرکز ہے اور اس کی کامیابی کی اصل وجہ اس کا قانونی نظام ہے۔ دبئی میں دو طرح کے زونز کام کرتے ہیں، جبل علی فری زون اتھارٹی جو تجارت اور صنعت کے لیے ہے اور دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر جو فنانس اور قانون کے لیے ہے۔ ان دونوں زونز کے درمیان حال ہی میں شراکت قائم کی گئی ہے تاکہ کمپنیاں دونوں زونز میں آسانی سے کام کر سکیں۔دبئی کی کامیابی کی اصل وجہ اس کا قانونی نظام ہے، دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر میں کامن لاء فریم ورک ہے، علیحدہ عدالتیں ہیں اور ثالثی کے مراکز ہیں۔ یہ نظام بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو اعتماد دیتا ہے کہ ان کے تنازعات کو منصفانہ طریقے سے حل کیا جائے گا۔دبئی کے قانونی نظام کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں۔
پہلی خصوصیت علیحدہ عدالتی نظام ہے، دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کی اپنی علیحدہ عدالتیں ہیں جو انگریز ی کامن لاء کے تحت کام کرتی ہیں۔ ان عدالتوں میں ججز بین الاقوامی شہرت یافتہ ہوتے ہیں اور مقدمات کا فیصلہ تیزی سے کیا جاتا ہے۔
دوسری خصوصیت کرنسی کی آزادی ہے، دبئی میں ڈالر میں لین دین کی مکمل آزادی ہے اور کوئی بھی کمپنی اپنی مرضی کی کرنسی میں کاروبار کر سکتی ہے۔
تیسری خصوصیت ٹیکس میں چھوٹ ہے، دبئی کے فری زونز میں کام کرنے والی کمپنیوں کو 50 سال تک ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے۔ انکم ٹیکس، کارپوریٹ ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی سب صفر ہے۔
چوتھی خصوصیت پراپرٹی کے قوانین ہیں، دبئی میں غیر ملکی شہری بھی پراپرٹی خرید سکتے ہیں اور انہیں مکمل ملکیتی حقوق حاصل ہیں۔
پانچویں خصوصیت مزدوری کے قوانین ہیں، دبئی میں بین الاقوامی افرادی قوت کو آسانی سے ویزے دیے جاتے ہیں اور ان کے لیے علیحدہ لیبر قوانین ہیں۔
چھٹی خصوصیت سرمایہ کاری کے تحفظ کے معاہدے ہیں، متحدہ عرب امارات نے دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ دو طرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے کیے ہیں جو سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
ساتویں خصوصیت شفافیت ہے، دبئی میں کاروبار کرنے کے تمام طریقہ کار شفاف اور آن لائن ہیں۔ کمپنی رجسٹریشن سے لے کر ویزا حاصل کرنے تک تمام کام آن لائن ہوتے ہیں۔
آٹھویں خصوصیت انفراسٹرکچر ہے، دبئی نے دنیا کا بہترین انفراسٹرکچر بنایا ہے۔ جدید ترین ہوائی اڈے، بندرگاہیں، سڑکیں اور مواصلاتی نظام نے دبئی کو دنیا سے جوڑ دیا ہے۔
نویں خصوصیت سیاسی استحکام ہے، متحدہ عرب امارات گزشتہ پچاس سالوں سے سیاسی طور پر مستحکم ہے اور یہ استحکام سرمایہ کاروں کے لیے بہت اہم ہے۔
دسویں خصوصیت ویزا پالیسی ہے، دبئی نے دنیا کی سب سے لچکدار ویزا پالیسی بنا رکھی ہے۔ سرمایہ کاروں، پیشہ ور افراد اور سیاحوں کے لیے خصوصی ویزے ہیں۔
ان تمام خصوصیات نے مل کر دبئی کو دنیا کی سب سے کامیاب معیشتوں میں شامل کر دیا ہے۔ آج دبئی میں 20 فیصد سے زائد عالمی فلکیاتی سرمایہ کام کر رہی ہے اور یہاں لاکھوں غیر ملکی مقیم ہیں۔پاکستان میں اس وقت سپیشل اکنامک زونز ایکٹ 2012 موجود ہے جو زونز کے قیام اور آپریشن کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت زونز میں کام کرنے والی کمپنیوں کو کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ اور 2035 تک انکم ٹیکس میں چھوٹ جیسی سہولتیں دی گئی ہیں۔ لیکن یہ ایکٹ دبئی ماڈل کے مقابلے میں بہت محدود ہے، اس میں علیحدہ عدالتی نظام، ذاتی قوانین اور کرنسی جیسی سہولتیں شامل نہیں ہیں۔

قانونی انقلاب – پاکستان کو کن قوانین کی ضرورت ہے، وقت کی بازی – کتنے سال لگیں گے خواب شرمندہ تعبیر ہونے میں

اگرہم پاکستان کو واقعی دبئی جیسا ماڈل بنانا چاہتا ہے تو اسے درج ذیل قوانین بنانے ہوں گے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں کیونکہ ان قوانین کے لیے آئینی ترامیم اور سیاسی اتفاق رائے درکار ہوگا۔
پہلا اور سب سے اہم قانون ایک نیا خصوصی قانون ہے جو ان جزیروں کو وفاق کے براہ راست کنٹرول میں لائے اور اسے صوبائی قوانین سے استثنیٰ دے۔ یہ قانون آئین کے آرٹیکل 154 اور 157 کے تحت صوبائی خودمختاری کے خلاف جائے گا اور اسے صوبائی حکومت کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس قانون کے تحت جزیروں کو وفاقی علاقہ قرار دیا جائے گا اور یہاں صرف وفاقی قوانین نافذ ہوں گے۔
دوسرا قانون علیحدہ عدالتی نظام کے قیام سے متعلق ہے۔ اس کے لیے آئین میں ترمیم درکار ہوگی کیونکہ موجودہ آئین میں عدلیہ کا ڈھانچہ واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ نئے عدالتی نظام میں انگریز ی کامن لا لاگو ہوگا اور بین الاقوامی ثالثی کو تسلیم کیا جائے گا۔ ان عدالتوں میں بین الاقوامی ججز بھی شامل ہو سکیں گے اور مقدمات کا فیصلہ تیزی سے کیا جائے گا۔
تیسرا قانون کرنسی کے حوالے سے ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قوانین اس وقت ڈالر میں لین دین کی اجازت نہیں دیتے سوائے مخصوص کیسز کے۔ نئے قانون میں جزیروں پر ڈالر میں لین دین کی مکمل آزادی ہوگی اور بین الاقوامی کمپنیاں اپنی مرضی کی کرنسی میں کاروبار کر سکیں گی۔
چوتھا قانون مزدوری اور امیگریشن سے متعلق ہے۔ اس قانون کے تحت بین الاقوامی افرادی قوت کو آسانی سے ویزے دیے جا سکیں گے اور ان کے لیے علیحدہ لیبر قوانین بنائے جائیں گے۔ ورکرز کی خدمات حاصل کرنے، ان کی تنخواہوں اور ان کے حقوق کا تعین نئے قانون میں کیا جائے گا۔
پانچواں قانون پراپرٹی کے حوالے سے ہے۔ اس قانون کے تحت غیر ملکی شہری بھی یہاں پراپرٹی خرید سکیں گے اور انہیں مکمل ملکیتی حقوق حاصل ہوں گے۔ پراپرٹی کی خرید و فروخت، رجسٹریشن اور وراثت کے تمام طریقہ کار شفاف اور آن لائن ہوں گے۔
چھٹا قانون ٹیکس سے متعلق ہے۔ اس قانون کے تحت جزیروں پر صفر فیصد ٹیکس ہوگا۔ انکم ٹیکس، کارپوریٹ ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس سب صفر ہوں گے۔ یہ مراعات بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے بڑی کشش ہوں گی۔
ساتواں قانون سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق ہے۔ پاکستان کو دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ دو طرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے کرنا ہوں گے جو سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کریں۔ ان معاہدوں کے تحت سرمایہ کاروں کو قومیائیے اور ضبطی سے تحفظ دیا جائے گا۔
آٹھواں قانون کمپنیوں کے رجسٹریشن سے متعلق ہے۔ جزیروں پر کمپنی رجسٹریشن کا ایک علیحدہ نظام ہوگا جو آن لائن اور شفاف ہوگا۔ کمپنی رجسٹریشن سے لے کر ویزا حاصل کرنے تک تمام کام ایک ہی دن میں مکمل ہو سکیں گے۔
نواں قانون ماحولیاتی تحفظ سے متعلق ہے۔ جزیروں کی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیات کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ اس قانون کے تحت مینگروز کے جنگلات کو محفوظ رکھتے ہوئے ترقی کی جائے گی اور آلودگی پر قابو پایا جائے گا۔
دسواں قانون مقامی آبادی کے حقوق سے متعلق ہے۔ جزیروں سے منسلک ماہی گیروں اور دیگر مقامی لوگوں کو ترقی میں شامل کیا جائے گا اور انہیں معاوضہ اور روزگار فراہم کیا جائے گا۔ان قوانین کو بنانے کے لیے وسیع تر سیاسی اتفاق رائے درکار ہے کیونکہ آئینی ترامیم کے لیے دو تہائی اکثریت چاہیے۔ یہ موجودہ سیاسی صورتحال میں بہت مشکل ہے۔ اس کے علاوہ عدالتوں میں بھی ان قوانین کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
اس منصوبے پر عملدرآمد کو تین مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ہر مرحلے میں مختلف قسم کے کام ہوں گے اور مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آئیے ہم وقت کے اس سفر کا جائزہ لیتے ہیں۔
پہلا مرحلہ قانون سازی اور تنازعات کا حل ہے۔ اس میں کم از کم دو سے تین سال لگیں گے۔ وفاق اور صوبے کے درمیان تنازع حل کرنا، عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنا اور قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ اس دوران ماحولیاتی تحفظ کی تنظیمیں اور مقامی لوگ بھی مزاحمت کریں گے۔اس مرحلے میں درج ذیل کام ہوں گے۔ وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان مفاہمت کی کوششیں، آئینی ترامیم کے لیے سیاسی جماعتوں سے مشاورت، قانون کے مسودے کی تیاری اور پارلیمنٹ میں پیش کش، عدالتوں میں مقدمات کا سامنا اور ان کا حل، ماحولیاتی تحفظ کے منصوبے کی منظوری، مقامی آبادی سے معاہدہ اور انہیں منصوبے میں شامل کرنا، بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے ابتدائی معاہدے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈلز پر کام اور منصوبے کی تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائننگ۔
دوسرا مرحلہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ہے۔ اس میں پانچ سے دس سال لگیں گے۔ 49 مربع کلومیٹر رقبے پر شہر تعمیر کرنے کے لیے سڑکیں، پانی بجلی، سیوریج اور مواصلاتی نظام بنانا پڑے گا۔ سمندر کے اندر جزیرے ہونے کی وجہ سے یہ کام مزید مشکل اور مہنگا ہوگا۔اس مرحلے میں درج ذیل کام ہوں گے۔ زمین کی سطح کو ہموار کرنا اور تعمیر کے لیے تیار کرنا، سڑکوں کا جال بچھانا اور شاہراہیں تعمیر کرنا، پانی صاف کرنے کے پلانٹس اور سیوریج سسٹم کی تنصیب، بجلی پیدا کرنے کے پلانٹس اور ترسیلی نظام کی تعمیر، مواصلاتی نظام کی تنصیب اور انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی، بندرگاہوں کی تعمیر اور سمندری راستوں کی ترقی، ہوائی اڈے کی تعمیر اور فضائی رابطے قائم کرنا، رہائشی اور تجارتی عمارتوں کی تعمیر کا آغاز، ہوٹلوں اور سیاحتی مقامات کی تعمیر اور پارکس اور تفریحی مقامات کا قیام۔
تیسرا مرحلہ سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور شہر کو آباد کرنا ہے۔ اس میں مزید دس سے پندرہ سال لگیں گے۔ دبئی کو آج کی شکل آنے میں پچاس سال لگے ہیں، پاکستان کو بھی کم از کم پچیس سے تیس سال درکار ہوں گے۔اس مرحلے میں درج ذیل کام ہوں گے۔ بین الاقوامی روڈ شوز اور سرمایہ کاری کانفرنسز کا انعقاد، مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرنا، بین الاقوامی کمپنیوں کو دفاتر قائم کرنے کی دعوت، رہائشی منصوبوں کی فروخت اور لوگوں کو آباد کرنا، سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے پروموشنل مہمات، تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کا قیام، بین الاقوامی تقریبات اور کانفرنسز کا انعقاد، شہر کی برانڈنگ اور مارکیٹنگ اور مسلسل بہتری اور ترقی۔
ان تمام مراحل کو مکمل ہونے میں کم از کم پچیس سال لگیں گے۔ اس دوران معاشی حالات بدل سکتے ہیں، سیاسی صورتحال بدل سکتی ہے اور بین الاقوامی حالات بھی بدل سکتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ منصوبے کو لچکدار بنایا جائے تاکہ وہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھل سکے۔

جنگ کا سایہ – کیا موجودہ صورتحال ہمیں موقع دے گی، سرمائے کی تلاش – کیا خلیجی سرمایہ پاکستان آ سکتا ہے

مگر کیا موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال ہمیں یہ وقت فراہم کرے گی اور جنگ ہمارے اس خواب کو کیسے متاثر کر سکتی ہے۔یہ سب سے اہم سوال ہے کہ کیا موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں پاکستان کو اتنے طویل عرصے تک امن میسر رہے گا۔ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں سطحوں پر چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ داخلی سطح پر دہشت گردی کا مسئلہ ہے۔ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہے اور حالیہ دنوں میں دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ فروری 2026 میں پاکستان نے افغانستان میں طالبان کے خلاف آپریشن غضب الحق کا آغاز کیا جس میں درجنوں دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ اس آپریشن کے نتیجے میں پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں اور خدشہ ہے کہ دہشت گرد پاکستان میں انتقامی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔سیاسی عدم استحکام بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید اختلافات ہیں اور حکومتیں اپنی مدت پوری نہیں کر پاتیں۔ اس عدم استحکام کی وجہ سے طویل المدتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔معاشی بحران بھی شدید ہے۔ پاکستان اس وقت مہنگائی، بیروزگاری اور قرضوں کے بحران کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا مشکل ہوگا۔ بیرونی سطح پر افغانستان کے ساتھ کشیدگی ہے۔ پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات کشیدہ ہیں اور سرحد پر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ اس کشیدگی کی وجہ سے علاقائی امن خطرے میں ہے۔بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور لائن آف کنٹرول پر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ بھارت پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سطح پر بھی مہم چلا رہا ہے۔ایران کے ساتھ بھی بار بار تناؤ آتا رہتا ہے۔ سرحدی علاقوں میں دہشت گردی اور اسمگلنگ کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔
اس منصوبے کی کامیابی کے لیے کم از کم پچیس سال کا امن درکار ہے۔ موجودہ حالات میں یہ کہنا مشکل ہے کہ پاکستان کو اتنے طویل عرصے تک امن میسر رہے گا۔ تاہم اگر پاکستان واقعی یہ منصوبہ شروع کرتا ہے تو یہ منصوبہ خود امن کے لیے ایک محرک بن سکتا ہے کیونکہ بین الاقوامی سرمایہ کار اور عالمی طاقتیں اس منصوبے کے تحفظ میں دلچسپی لیں گی۔چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت گوادر میں بھی ترقی ہو رہی ہے اور وہاں بھی دبئی اور شینزین ماڈل اپنانے کی بات کی جا رہی ہے۔ گوادر کے منصوبے پر پہلے سے کام جاری ہے اور اس میں چین کی بھاری سرمایہ کاری ہے۔ یہ منصوبہ بھی پاکستان کے لیے ایک موقع ہے۔بین الاقوامی طاقتیں بھی پاکستان کے استحکام میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ امریکہ، چین اور خلیجی ممالک پاکستان میں امن چاہتے ہیں کیونکہ عدم استحکام سے ان کے مفادات بھی متاثر ہوتے ہیں۔
خلیجی ممالک سے سرمایہ کاری کے انخلا کا امکان واقعی موجود ہے، خاص طور پر ڈیجیٹل کرنسی اور کرپٹو میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی وجہ سے۔ پاکستان اگر صحیح پالیسیاں بنا لے تو یہ سرمایہ کاری حاصل کر سکتا ہے۔ خلیجی ممالک میں بے پناہ سرمایہ ہے۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر اور کویت کے پاس کھربوں ڈالر کا سرمایہ ہے جو بیرونی ممالک میں لگایا جا رہا ہے۔ یہ ممالک اپنی معیشتوں کو متنوع بنانا چاہتے ہیں اور تیل پر انحصار کم کرنا چاہتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں خلیجی ممالک میں ڈیجیٹل کرنسی اور کرپٹو میں دلچسپی بڑھی ہے۔ دبئی نے کرپٹو کے لیے خصوصی قوانین بنائے ہیں اور یہاں کرپٹو کمپنیاں بڑی تعداد میں کام کر رہی ہیں۔پاکستان میں بھی کرپٹو میں دلچسپی ہے اور یہاں کئی کرپٹو ایکسچینجز کام کر رہی ہیں۔ اگر پاکستان کرپٹو کے لیے دوستانہ قوانین بنا لے تو خلیجی سرمایہ پاکستان آ سکتا ہے۔لیکن پاکستان کو شدید مسابقت کا سامنا ہے۔ متحدہ عرب امارات خود نئے قوانین بنا رہا ہے تاکہ سرمایہ کاری کو روکے رکھ سکے۔ مارچ 2025 میں دبئی نے ایک نیا قانون بنایا ہے جس کے تحت فری زون کمپنیاں اب مین لینڈ میں بھی کام کر سکتی ہیں۔
سعودی عرب میں نیوم منصوبہ ہے۔ نیوم ایک 500 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے جس میں ایک جدید شہر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ 2030 تک مکمل ہونے کی امید ہے اور دنیا بھر سے سرمایہ کاری کو راغب کر رہا ہے۔قطر بھی بڑی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ 2022 کے ورلڈ کپ کے بعد قطر نے اپنی معیشت کو مزید ترقی دینے کے لیے بڑے منصوبے شروع کیے ہیں۔چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت گوادر میں بھی ترقی ہو رہی ہے اور وہاں بھی دبئی اور شینزین ماڈل اپنانے کی بات کی جا رہی ہے۔ گوادر کے منصوبے پر پہلے سے کام جاری ہے اور اس میں چین کی بھاری سرمایہ کاری ہے۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اعتماد کی کمی ہے۔ بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان کے سیاسی عدم استحکام، دہشت گردی اور بدعنوانی سے خوفزدہ ہیں۔ ان مسائل کو حل کیے بغیر بڑی سرمایہ کاری حاصل کرنا مشکل ہوگا۔دوسرا چیلنج قانونی نظام کی پیچیدگی ہے۔ پاکستان میں کاروبار کرنے کے لیے درجنوں قوانین اور ضابطوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف طویل ہے بلکہ مہنگا بھی ہے۔تیسرا چیلنج انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔ پاکستان میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے، سڑکیں ٹھیک نہیں ہیں اور پانی کی قلت ہے۔ ان مسائل کے حل کے بغیر کوئی جدید شہر تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔چوتھا چیلنج ویزا پالیسی ہے۔ پاکستان کی ویزا پالیسی بہت سخت ہے اور غیر ملکیوں کو ویزا حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔پانچواں چیلنج کرنسی کی قدر میں کمی ہے۔ پاکستانی روپیہ مسلسل گر رہا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کار اس سے خوفزدہ ہیں۔ان تمام چیلنجز کے باوجود پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔ پاکستان کی بڑی آبادی، اسٹریٹجک محل وقوع اور قدرتی وسائل سرمایہ کاروں کو راغب کر سکتے ہیں۔
بودو اور بنڈل آئی لینڈز پر دبئی جیسا ماڈل بنانا تکنیکی طور پر ممکن ہے کیونکہ رقبہ کافی ہے اور یہ جزیرے آباد نہیں ہیں۔ لیکن قانونی، سیاسی اور ماحولیاتی رکاوٹیں بہت زیادہ ہیں۔وفاق اور صوبے کا تنازع حل کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے جس کے بغیر کوئی ترقی ممکن نہیں۔ ماحولیاتی تحفظ کے خدشات کو دور کرنا ہوگا اور مقامی آبادی کو منصوبے میں شامل کرنا ہوگا۔قوانین کی تبدیلی کے لیے وسیع تر سیاسی اتفاق رائے درکار ہے کیونکہ آئینی ترامیم کے لیے دو تہائی اکثریت چاہیے۔ یہ موجودہ سیاسی صورتحال میں بہت مشکل ہے۔وقت کا مسئلہ ہے، اس منصوبے کو پچیس سال درکار ہیں جبکہ جنگ اور عدم استحکام اس میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ تاہم اگر منصوبہ شروع ہو جائے تو یہ خود استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔سرمایہ کاری کے حوالے سے مسابقت بہت شدید ہے۔ دبئی، سعودی عرب اور قطر پہلے ہی بڑے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں اور پاکستان کو ان سے مقابلہ کرنا ہوگا۔
اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان ایک معاہدہ کیا جائے جس میں صوبے کو منافع میں مناسب حصہ دیا جائے اور اس کے اختیارات کا تحفظ کیا جائے۔ سندھ حکومت کو یقین دلایا جائے کہ اس منصوبے سے صوبے کو فائدہ ہوگا اور اس کی خودمختاری متاثر نہیں ہوگی۔ ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک جامع منصوبہ بنایا جائے اور مینگروز کے جنگلات کو محفوظ رکھتے ہوئے ترقی کی جائے۔ بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیموں کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا جائے تاکہ وہ اس کی نگرانی کر سکیں۔قوانین میں تبدیلی مرحلہ وار کی جائے، پہلے سپیشل اکنامک زونز ایکٹ کو مزید وسعت دی جائے اور پھر آہستہ آہستہ مزید مراعات دی جائیں۔ ایک علیحدہ اتھارٹی قائم کی جائے جو ان قوانین پر عملدرآمد کی نگرانی کرے۔بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو اعتماد دلانے کے لیے دو طرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے کیے جائیں اور ان کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔ سرمایہ کاروں کو یقین دلایا جائے کہ ان کی سرمایہ کاری محفوظ ہے اور ان کے تنازعات کا منصفانہ حل نکالا جائے گا۔مقامی آبادی کو منصوبے میں شامل کیا جائے اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ماہی گیروں کو متبادل روزگار دیا جائے اور ان کی بستیوں کو جدید سہولیات فراہم کی جائیں۔عوامی سطح پر آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ لوگ اس منصوبے کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کی حمایت کریں۔ میڈیا کو بھی اس منصوبے کی کوریج کرنی چاہیے تاکہ عوام میں اعتماد پیدا ہو۔سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کیا جائے تاکہ حکومت تبدیل ہونے کے باوجود یہ منصوبہ جاری رہ سکے۔ تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو اس منصوبے پر دستخط کرنے چاہئیں تاکہ یہ قومی منصوبہ بن جائے۔بین الاقوامی ماہرین کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا جائے تاکہ دنیا کے بہترین طریقے اپنائے جا سکیں۔ دبئی، سنگاپور اور دیگر کامیاب شہروں کے تجربات سے سیکھا جائے۔منصوبے کو مراحل میں تقسیم کیا جائے اور ہر مرحلے کے اہداف مقرر کیے جائیں۔ پہلے مرحلے میں چھوٹے منصوبے شروع کیے جائیں تاکہ کامیابی کے امکانات بڑھ سکیں۔شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور منصوبے کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں۔ آن لائن پورٹل بنایا جائے جہاں منصوبے کی پیشرفت دیکھی جا سکے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا دبئی بننے کا خواب ناممکن تو نہیں لیکن انتہائی مشکل ضرور ہے۔ اس کے لیے سیاسی استحکام، قانونی اصلاحات، عوامی حمایت اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اگر یہ سب کچھ مل جائے تو بودو اور بنڈل آئی لینڈز واقعی پاکستان کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں