(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
عراقی پانیوں میں آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی، آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے توانائی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا
مارچ دو ہزار چھبیس کے پہلے ہفتے میں عراقی سمندری حدود میں تین غیر ملکی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا۔ چھ مارچ دو ہزار چھبیس کو عراقی پانیوں میں سونانگول نامیبی نامی ٹینکر بارودی کشتی کے حملے سے تباہ ہوا۔ بارہ مارچ دو ہزار چھبیس کو خور الزبیر بندرگاہ کے قریب سیف سی وشنو نامی ٹینکر پر خودکش حملے میں ایک ہندوستانی شہری ہلاک ہوا۔ اسی ہفتے دو دیگر آئل ٹینکروں کو بھی بارودی کشتیوں سے نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ان میں آگ بھڑک اٹھی۔ ان حملوں کے بعد پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں۔ برطانوی خام تیل برینٹ کی قیمت میں نو اعشاریہ تین فیصد اضافہ ہوا جو ایک سو اعشاریہ پچاس ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں آٹھ اعشاریہ آٹھ فیصد اضافہ ہوا اور یہ چورانوے اعشاریہ تہتر ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ ایشیائی منڈیوں میں ابتدائی کاروبار میں امریکی تیل تیرانوے اعشاریہ اسی ڈالر فی بیرل تک گیا۔
ان حملوں کے بعد عالمی طاقتیں شدید تشویش میں مبتلا ہو گئی ہیں۔ عالمی خام تیل کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرنے والی آبنائے ہرمز کشیدگی کے باعث مؤثر طریقے سے بند ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بندش کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے چار سو ملین بیرل تیل اسٹریٹجک ذخائر سے جاری کرنے کا اعلان کیا۔ امریکہ اس میں ایک سو بہتر ملین بیرل تیل فراہم کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث یہ اقدام قیمتوں کو کم کرنے میں ناکام رہا۔ ایران کی فوجی کمان کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کی وجہ سے تیل دو سو ڈالر فی بیرل تک جا سکتا ہے۔ یہ حملے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی جاری رہی تو تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔
امریکی صدر نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ادھر عراقی حکومت نے اپنی سمندری حدود میں غیر ملکی جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اضافی اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ خلیجی ممالک میں بھی سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ تیل کی بڑھتی قیمتوں سے غریب ممالک کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال انیس سو تہتر کی تیل کی قلت کی یاد تازہ کر رہی ہے۔ ادھر تیل بردار کمپنیوں نے خلیج فارس سے گزرنے والے اپنے جہازوں کے روٹ تبدیل کرنے شروع کر دیے ہیں۔ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن نے علاقے میں گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ چین اور بھارت سمیت بڑے تیل درآمد کرنے والے ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اوپیک نے ہنگامی اجلاس بلا کر صورتحال کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
روس نے بھی خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فرانس اور جرمنی نے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ برطانیہ نے اپنی بحری فوج کو علاقے میں الرٹ کر دیا ہے۔ ادھر تہران کی طرف سے تاحال کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔ امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ وہ علاقے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکہ اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ ادھر اسرائیل نے بھی اپنی فضائی حدود میں سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔ سعودی عرب نے تمام فریقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھیں۔ متحدہ عرب امارات نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے عالمی توانائی کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ عالمی منڈیوں میں سنہ ڈالر کی قدر میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے لیے سونے کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ اگر تیل ایک سو بیس ڈالر کے پار چلا گیا تو عالمی معیشت کساد بازاری کا شکار ہو سکتی ہے۔
یورپی یونین نے بھی توانائی کی فراہمی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کے لیے ہنگامی مشاورت شروع کر دی ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا نے بھی اپنے اسٹریٹجک تیل کے ذخائر استعمال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ادھر عوامی مارکیٹوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ضروری اشیاء کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کے امن مشن نے علاقے میں صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ عالمی رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک رابطوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ چینی صدر نے امریکی صدر سے ٹیلی فون پر صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ روس کے صدر نے بھی ترکی اور ایران کے رہنماؤں سے بات کی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے خطے کے ممالک کا دورہ شروع کر دیا ہے۔ ادھر عراق میں جاری مظاہرین نے بھی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں شروع کر دی ہیں۔ عراقی وزیر اعظم نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ بصرہ کی بندرگاہ پر ٹینکروں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔ خور عبداللہ کی بندرگاہ پر بھی حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ عالمی توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر چوبیس گھنٹے نظر رکھے ہوئے ہے۔ ادھر تیل کی بڑی کمپنیوں کے حصص میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ حملے جاری رہ سکتے ہیں۔
امریکی بحریہ نے خلیج فارس میں گشت تیز کر دیا ہے۔ برطانیہ کی رائل نیوی بھی علاقے میں موجود ہے۔ فرانس نے بھی ایک جنگی جہاز علاقے میں بھیج دیا ہے۔ ادھر چین نے بھی اپنی بحری قوت کو الرٹ کر دیا ہے۔ روس نے کہا ہے کہ وہ علاقے میں اپنی فوجی مشقیں جاری رکھے گا۔ علاقے میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی فوجی موجودگی سے نیا تنازع کھڑا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ تمام ممالک اس اجلاس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ عالمی امن کونسل نے بھی فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کریں۔ ادھر تیل کی بڑھتی قیمتوں سے پاکستان اور سری لنکا جیسے ممالک کی معیشت پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ان ممالک میں مہنگائی کی شرح پہلے ہی ریکارڈ سطح پر ہے۔ ترکی نے بھی توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ مصر میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اردن نے بھی عوام کو ریلیف دینے کے لیے سبسڈی بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ لبنان میں پہلے سے موجود توانائی کا بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ افریقی ممالک میں بھی تیل کی قلت کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یورپ میں گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ میں پیٹرول کی فی گیلن قیمت پانچ ڈالر کے قریب پہنچ گئی ہے۔ برطانیہ میں فی لیٹر پیٹرول دو پاؤنڈ سے تجاوز کر گیا ہے۔ ہندوستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔ چین نے بھی عوام کو ریلیف دینے کے لیے سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جاپان نے توانائی بچانے کی مہم شروع کر دی ہے۔ جنوبی کوریا نے بھی عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ توانائی کا کم استعمال کریں۔ آسٹریلیا میں بھی پٹرول کی قیمتوں نے ریکارڈ توڑ دیے۔ کینیڈا میں بھی مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ برازیل میں ایندھن کی قیمتوں نے عوام کو سڑکوں پر لا دیا ہے۔ ارجنٹینا میں بھی معاشی بحران گہرا گیا ہے۔ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ یورپ میں مزدور یونینوں نے ہڑتال کی دھمکی دے دی ہے۔ امریکہ میں بھی ٹرک ڈرائیوروں نے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کا یہ بحران آنے والے مہینوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ عالمی بینک اور آئی ایم ایف نے بھی خبردار کیا ہے کہ عالمی معیشت شدید دباؤ میں ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔
مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری بین الاقوامی خبریں دیکھیں۔