(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
امریکہ جنوبی کوریا سے تھاڈ ریڈار مشرق وسطیٰ منتقل کر رہا ہے
تھاڈ ریڈار سسٹم کی منتقلی رات کی تاریکی میں خفیہ طور پر عمل میں لائی گئی جبکہ جنوبی کوریا کی سول حکومت نے اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔ چینی میڈیا کے مطابق یہ منتقلی ایران کے حالیہ حملوں میں تھاڈ ریڈار کی تباہی کے باعث کی جا رہی ہے جس میں متعدد ریڈار تباہ ہو گئے تھے۔ اس اقدام سے جنوبی کوریا کی دفاعی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ شمالی کوریا کی جانب سے جوہری خطرہ موجود ہے۔
تین امریکی بمبار طیارے برطانیہ سے مشرق وسطیٰ روانہ
بی ففٹی ٹو ہیوی بمبار طیارے برطانیہ کے فضائی اڈے سے روانہ ہو گئے ہیں اور یہ طیارے مشرق وسطیٰ میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔ ان طیاروں کی تعیناتی کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے جوڑا جا رہا ہے۔ سابق امریکی انٹیلیجنس افسر پروفیسر جیفری سیک کے مطابق ایران پر ہلکے ایٹمی حملے کا امکان موجود ہے۔
مسجد اقصی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ
انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق صہیونی حکومت مسجد اقصی کو نقصان پہنچا کر اس کا الزام ایران اور مزاحمتی محاذ پر لگانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ مسجد اقصی کو جنگ کے آغاز سے ہی عبادت گزاروں کے لیے بند کر دیا گیا ہے جسے مسلم رہنماؤں نے سخت ناپسندیدہ اقدام قرار دیا ہے۔ اگر مسجد اقصی کو کوئی نقصان پہنچا تو پوری اسلامی دنیا میں شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکہ پر سائبر حملوں کی تیاری
ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو وہ امریکہ اور اسرائیل سے منسلک اقتصادی مراکز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ گوگل، مائیکروسافٹ، آئی بی ایم اور اوریکل جیسی بڑی امریکی کمپنیاں سائبر حملوں کی زد میں آ سکتی ہیں کیونکہ ان کی ٹیکنالوجی فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ امریکی انٹیلیجنس اداروں نے خبردار کیا ہے کہ ایران تین بڑے امریکی شہروں کی بجلی کاٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورت حال انیس سو تہتر کی جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ خطرناک ہے اور ایک چھوٹا سا واقعہ پورے خطے کو آگ لگا سکتا ہے۔
مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری بین الاقوامی خبریں دیکھیں۔