(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
ایران جنگ کے دوران امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے بعد امریکی اسپیکر مائیک جانسن کا بیان، امریکی خارجہ پالیسی پر نئی بحث
امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا کوئی کام نہیں کہ وہ دنیا بھر کے ممالک کے اندر گھس کر پولیس کا کردار ادا کرے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں اور امریکی عوام میں اس جنگ کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ جانسن کے اس بیان کو واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں امریکی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
اسپیکر جانسن نے کہا کہ امریکہ کو دنیا کی ‘بدماش پولیس’ نہیں بننا چاہیے جو ہر جگہ مداخلت کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو اپنے قومی مفادات پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ دنیا بھر کے تنازعات میں الجھ کر اپنے وسائل برباد کرنے چاہئیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے جس کی زیادہ تر امریکی عوام مخالفت کرتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے معاملے میں امریکی فوجیوں کو قتل کروا کر امریکہ کی تباہی کروا دی ہے۔ ایران کے خلاف جاری جنگ میں اب تک متعدد امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں ہلاک ہونے والے پہلے چار امریکی فوجیوں کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان میں 20 سے 42 سال کے نوجوان شامل تھے۔
صدر ٹرمپ نے خود اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں مزید امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک امریکا اپنے تمام مقاصد حاصل نہیں کر لیتا۔ تاہم ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے بغیر کسی واضح حکمت عملی کے امریکہ کو ایک طویل جنگ میں الجھا دیا ہے۔
امریکی کانگریس میں بھی اس جنگ کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔ سینیٹ میں ایران کے خلاف جنگ روکنے کی قرارداد پیش کی گئی تھی تاہم اسے رپبلکن اکثریت نے مسترد کر دیا۔ ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا بے ربط غصہ اور وسیع تر تنازع کا خطرہ مول لینا کوئی قابل عمل حکمت عملی نہیں ہے۔ سابق نائب صدر کمالا ہیرس نے بھی ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں گھسیٹ رہے ہیں جسے امریکی عوام نہیں چاہتے۔
امریکی سپیکر مائیک جانسن کا یہ بیان اس لحاظ سے اہم ہے کہ وہ خود ٹرمپ انتظامیہ کے اتحادی تصور کیے جاتے ہیں اور انہوں نے ایران پر حملے کے حوالے سے کہا تھا کہ امریکہ نے یہ حملہ اس لیے کیا کیونکہ اسرائیل نے اس سے پہلے ہی حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ تاہم اب ان کا یہ بیان کہ امریکہ کو دنیا کی پولیس نہیں بننا چاہیے، واشنگٹن میں بڑھتی ہوئی پولرائزیشن اور جنگ کے خلاف عوامی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری بین الاقوامی خبریں دیکھیں۔