(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
خلیج میں عسکری کشیدگی: یو اے ای میں سرمایہ کاری اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر منفی اثرات اور عالمی اعتماد میں کمی کا خدشہ
خلیج میں عسکری کشیدگی نے عالمی سرمایہ کاری اور خطے کے ملکوں پر گہرے اثرات مرتب کر دیے ہیں امریکہ اپنے دبئی اڈے چھوڑ کر خطے سے نکل رہا ہے جبکہ ایران نے امریکی اڈوں کو نقصان پہنچا کر اپنا مقصد حاصل کیا ہے اور خطے میں امریکی اثرات کو کم کیا ہے اس صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان متحدہ عرب امارات کو پہنچا ہے جہاں عالمی سرمایہ کار اور مالدار افراد اب ملک کو محفوظ سمجھ کر نہ سرمایہ کاری کریں گے اور نہ ہی رہائش اختیار کریں گے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے اقدامات خلیج میں طاقت کے توازن اور سیکیورٹی پر اثر ڈال رہے ہیں اس کشیدگی کے باعث سرمایہ کاری میں کمی، ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کی قدر میں ممکنہ کمی اور عالمی اعتماد میں کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے عالمی طاقتیں اور بین الاقوامی سرمایہ کاری ادارے ممکنہ خطرات کو کم کرنے کی کوشش کریں گے مگر مختصر اور درمیانی مدت میں یو اے ای پر منفی اثرات مرتب ہونے کے امکانات کافی زیادہ ہیں اضافی اثرات میں خلیج کی تجارتی سرگرمیوں میں سست روی، توانائی کی ترسیل میں رکاوٹیں، کاروباری اداروں کی منصوبہ بندی میں تاخیر اور مقامی معیشت پر دباؤ شامل ہیں عالمی سرمایہ کار دیگر خلیجی ممالک کی طرف منتقل ہونے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں جس سے خطے میں سرمایہ کاری کی تقسیم تبدیل ہو سکتی ہے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں قیمتوں کی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے خطرات کے پیش نظر اپنے فنڈز کو محتاط انداز میں استعمال کریں گے مقامی کاروبار اور سرمایہ کار طویل مدتی منصوبہ بندی میں سنجیدگی سے تاخیر کریں گے اور بعض شعبوں میں سرمایہ کاری منجمد ہو سکتی ہے خلیج میں کشیدگی کے نتیجے میں بین الاقوامی سفارتکاری کی کوششیں بھی بڑھ جائیں گی تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا جا سکے اس صورتحال میں خطرات اور مواقع دونوں پیدا ہو سکتے ہیں عالمی خبر رساں ادارے اور تجزیہ کار اس کشیدگی کی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہر واقعے کے فوری اثرات کا تجزیاتی جائزہ لے رہے ہیں
مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری بین الاقوامی خبریں دیکھیں۔