(23 ہزار انبیاء کے قاتل قوم کا ایک اور شیطانی کھیل)
ملک میں 27ویں آئینی ترمیم کا بل لانے پر زور و شور سے بحث جاری ہے۔ میں اپنے دو سابقہ کالموں میں اس موضوع پر تفصیل سے لکھ چکا ہوں۔ اسی طرح میرا ایک اور کالم بھی دوستوں کی نظر میں متنازعہ رہا جس میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشمکش اور جنگ کو “دوسری عالمی سامراجی ذہنیت کا معاشی کرونا” قرار دیا گیا تھا۔ اس پر بھی میں نے اپنی استطاعت کے مطابق دلائل پیش کیے تھے۔
بعد میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ صرف آبنائے ہرمز کی بندش سے پوری دنیا متاثر ہو سکتی ہے۔ اگرچہ بعض حلقے اسے صرف 20 فیصد عالمی نقصان قرار دے رہے تھے مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ سنگین تھی۔ کورونا اور مہنگائی نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، خصوصاً ایشیائی ممالک شدید متاثر ہوئے اور آج بھی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات مختلف صورتوں میں جاری ہیں۔
دنیا نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے اس صورتحال میں متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کی تمام قومیں اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ پاکستان کے پڑوس میں جنگ ہو اور ہم متاثر نہ ہوں، یہ ممکن نہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ کے حالیہ مختلف ممالک کے دوروں سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ ہر ملک اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ، جنہیں اس وقت دنیا کے طاقتور ترین افراد میں شمار کیا جاتا ہے، نے اس پوری صورتحال کے تناظر میں 2020 میں قائم ہونے والے “ابراہام اکارڈ” کو دوبارہ موضوع بحث بنا دیا ہے۔ بظاہر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام سے منسوب اس معاہدے کے ذریعے مختلف مذاہب کو یہ تاثر دیا گیا کہ سب انبیاء پر ایمان رکھنے والے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو رہے ہیں۔
2020 میں چند مسلم ممالک نے اپنے معاشی اور ٹیکنالوجی مفادات کے پیش نظر اس معاہدے پر دستخط کیے جبکہ بعض اسلامی ممالک نے محتاط رویہ اختیار کیا۔ پاکستان نے واضح طور پر اس معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ اگرچہ پاکستان نے ایک تقریب میں شرکت کی مگر اصولی مؤقف برقرار رکھا کہ جب تک سعودی عرب جیسے مرکزی اسلامی ملک کی واضح حمایت موجود نہیں، پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔
پاکستان ہمیشہ اسرائیل کو مظلوم فلسطینی عوام کا قاتل اور ازلی دشمن قرار دیتا آیا ہے۔ اگرچہ مختلف مواقع پر پاکستان اور ایران یا یو اے ای کے درمیان اختلافات رہے مگر اس کے باوجود پاکستان خطے میں امن کیلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
حال ہی میں ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے ایک بار پھر ابراہام معاہدے پر دستخط کو ایران جنگ کے خاتمے سے جوڑتے ہوئے دنیا کے مختلف ممالک پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ ان کے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی کہ آیا گریٹر اسرائیل کے قیام کیلئے عالمی طاقتیں منظم حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔
یہودی لابی کا دنیا کی بڑی معاشی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں پر اثر و رسوخ کسی سے پوشیدہ نہیں، تاہم اب دنیا کو معاشی بحران میں دھکیل کر مخصوص مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں بھی واضح دکھائی دے رہی ہیں۔ اس کے باوجود خطے میں کچھ ایسی اقوام اور ممالک بھی موجود ہیں جو اسرائیل کے سامنے جھکنے کیلئے تیار نہیں۔
فلسطینی عوام پر ظلم و ستم اور معصوم بچوں کے قتل کے باوجود افسوسناک امر یہ ہے کہ کچھ مسلمان ممالک اور بعض لکھاری آج بھی اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اب یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اگر دنیا امن، ترقی اور معاشی استحکام چاہتی ہے تو اسے ابراہام معاہدے کو تسلیم کرنا ہوگا۔
مصنف کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو گیا تو مسلم دنیا مزید کمزور ہو سکتی ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ یہ قوتیں ہمیشہ نئے منصوبوں اور سازشوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔
عیدالاضحیٰ کے موقع پر مصنف نے تمام قارئین اور مسلمانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام حجاج کرام کی عبادات اور قربانیوں کو قبول فرمائے اور ہمیں بغض، حسد، نفرت اور منفی سوچ کو قربان کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔