13 سالہ امبر ندیم کیس: عدالت نے عمر کے تعین کا حکم دے دیا

مبینہ اغوا، جبری مذہب تبدیلی اور کم عمری کی شادی کے مقدمے میں عدالت کا اہم اقدام، بچی کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کا حکم برقرار

 

فیصل آباد: فیصل آباد کی 13 سالہ مسیحی بچی امبر ندیم کے مبینہ اغوا، جبری مذہب تبدیلی اور کم عمری کی شادی کے مقدمے میں عدالت نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے بچی کی عمر کے سرکاری تعین کا حکم دے دیا، جبکہ اسے آئندہ سماعت تک پولیس کی حفاظتی تحویل میں رکھنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق امبر ندیم کو مبینہ طور پر 12 جون 2026 کو فیصل آباد کے ایک مقامی بازار سے محسن لیاقت نامی شخص نے اغوا کیا تھا۔ واقعے کے بعد بچی کی والدہ نادیہ ندیم کی مدعیت میں تھانہ رضا آباد میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 365-بی کے تحت مقدمہ نمبر 838/26 درج کیا گیا۔
ادارہ ’’وائس فار جسٹس‘‘ کی قانونی معاونت کے بعد پولیس نے امبر ندیم کو بازیاب کروا کر حفاظتی تحویل میں لے لیا جبکہ مبینہ ملزم کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
27 جون 2026 کو ہونے والی عدالتی سماعت کے دوران مبینہ ملزم کے اہل خانہ نے عدالت میں ایسے دستاویزات پیش کیے جن میں دعویٰ کیا گیا کہ امبر ندیم نے اسلام قبول کر لیا ہے اور محسن لیاقت سے شادی کر لی ہے۔ پیش کیے گئے نکاح نامے میں بچی کی عمر 18 سال درج کی گئی تھی۔
امبر ندیم کے والدین کی جانب سے سابق صدر بار ایسوسی ایشن ایڈووکیٹ ملک محمود حسین اعوان کی سربراہی میں ایڈووکیٹ سہیل شاہد گل، ایڈووکیٹ فیصل انور بھٹی (لاہور ہائی کورٹ)، فیصل آباد کے مقامی وکلا، سماجی کارکن اسلم، وائس فار جسٹس کے چیئرمین جوزف جانسن اور لالہ رابن ڈینیل پر مشتمل قانونی ٹیم نے عدالت میں پیش ہو کر ان دستاویزات کو سختی سے چیلنج کیا۔
والدین کے وکلا نے عدالت میں چرچ کی جانب سے جاری کردہ امبر ندیم کا پیدائش سرٹیفکیٹ اور والدین کا نکاح نامہ پیش کیا، جن کے مطابق امبر کی عمر صرف 13 سال ہے۔ وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کے تحت کم عمر بچہ یا بچی نہ تو قانونی طور پر شادی کی رضامندی دے سکتا ہے اور نہ ہی مذہب کی تبدیلی کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
دوسری جانب مبینہ ملزم کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ امبر نے اسلام قبول کر لیا ہے، اس لیے اسے اپنے مسیحی والدین کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم والدین کے قانونی نمائندوں نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے کا بنیادی مسئلہ مذہب نہیں بلکہ ایک کم سن بچی کا تحفظ اور قانون کی بالادستی ہے۔


جوڈیشل مجسٹریٹ چوہدری محمد آصف کے روبرو کارروائی کے دوران امبر ندیم نے عدالت کو بتایا کہ مبینہ ملزم کے خاندان کے افراد نے اسے ہدایت دی تھی کہ وہ عدالت میں اپنی تاریخ پیدائش 2008 بتائے۔ عدالت نے اس بیان اور پیش کیے گئے ریکارڈ میں موجود تضاد کا سخت نوٹس لیا۔
عدالت نے امبر ندیم کو پولیس کی حفاظتی تحویل میں رکھنے کا حکم برقرار رکھتے ہوئے اس کی عمر کے تعین کے لیے سرکاری کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ مقدمے کی آئندہ سماعت 30 جون 2026 کو متوقع ہے۔
اس موقع پر وائس فار جسٹس کے چیئرمین جوزف جانسن نے کہا کہ یہ معاملہ مذہب کا نہیں بلکہ بچوں کے تحفظ اور پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 پر مؤثر عمل درآمد کا امتحان ہے۔ ان کے مطابق یہ مقدمہ اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا پاکستان کے قوانین واقعی کم عمر اور کمزور بچیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔
جوزف جانسن اور لالہ رابن ڈینیل نے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی کم عمر بچیوں کو اغوا، جبری مذہب تبدیلی اور کم عمری کی شادی جیسے جرائم سے مؤثر تحفظ فراہم کیا جائے۔