ہنہ اوڑک میں مسلح افراد کا حملہ، جھڑپوں میں 4 افراد جاں بحق، 11 مغوی
مظاہرین کا ایئرپورٹ روڈ سمیت بین الاقوامی شاہراہ بند کرنے کا اعلان، وزیر داخلہ کے مذاکرات ناکام
کوئٹہ کے مشہور سیاحتی مقام ہنہ اوڑک میں مسلح افراد نے مقامی آبادی پر دھاوا بول دیا۔ حملے کے بعد مقامی قبائل نے بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے مسلح افراد کا مقابلہ کیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ رات ہونے والی خونریز جھڑپوں کے نتیجے میں 4 مقامی افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسلح افراد 11 افراد کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔
واقعے کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا جو تاحال جاری ہے۔
شاہراہ بند، مذاکرات ناکام
واقعے کے خلاف ہنہ اوڑک کے مقامی قبائل، سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین نے احتجاجاً ایئرپورٹ روڈ سمیت کوئٹہ کی مرکزی بین الاقوامی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ملزمان کی گرفتاری، مغویوں کی بازیابی اور علاقے میں پائیدار امن قائم نہیں کیا جاتا، شاہراہ نہیں کھولی جائے گی۔
دریں اثنا، وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے گزشتہ رات مظاہرین سے مذاکرات کیے جو بے نتیجہ رہے۔
پیر 6 جولائی 2026ء کو دوپہر ایک بجے تک موصولہ اطلاعات کے مطابق علاقے میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور تمام اہم راستے بند ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
علاقہ مکینوں اور بلوچستان کی مختلف سیاسی و سماجی جماعتوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
