کوئٹہ خودکش دھماکے میں 27 افراد شہید اور 75 زخمی ہوگئے
مسافر ٹرین کو نشانہ بنایا گیا، وزیراعظم، وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کی جانب سے شدید مذمت
کوئٹہ : بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اتوار کے روز انتہائی مصروف اور گنجان آباد علاقے چمن پھاٹک کے مقام پر ایک مسافر ٹرین کو ہولناک خودکش بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ قریبی مکانات، دکانیں اور علاقے میں موجود شہری بھی شدید متاثر ہوئے جبکہ پھاٹک سے گزرنے کے دوران کھڑی درجنوں عوامی گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں۔
ریسکیو اور ذرائع ابلاغ کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں 27 افراد شہید جبکہ 75 زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں 20 افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
اس ہولناک حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بی ایل اے نے قبول کر لی ہے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ہنگامی دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے معصوم شہریوں کی شہادت اور زخمیوں کو “درندگی کا عمل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عناصر ملک، قوم اور صوبے کی ترقی و خوشحالی کے دشمن ہیں اور کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گرد جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچیں گے۔ دوسری جانب وزیر صحت اور سیکرٹری صحت بلوچستان نے کوئٹہ کے تمام اسپتالوں میں فوری ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
بعد ازاں کوئٹہ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، آئی جی پولیس بلوچستان طاہر محمود اور دیگر اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں آئی جی پولیس بلوچستان نے دھماکے سے متعلق ابتدائی رپورٹ اور سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں کی شہادتوں اور ایسے بزدلانہ حملوں سے نہ عوام کے حوصلے پست ہوں گے اور نہ ہی سیکیورٹی فورسز کے عزم میں کوئی کمی آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ عید کے پرامن موقع پر ایسا سفاکانہ حملہ انتہائی قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہے۔ عوام کے ردعمل نے ثابت کر دیا ہے کہ عوام اور سیکیورٹی فورسز متحد ہیں اور دہشت گرد عناصر کو چن چن کر انجام تک پہنچایا جائے گا۔