صوبائی حکومت امن قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ مولانا عبدالواسع

جمعیت علماء اسلام چمن سٹی کے زیراہتمام ایک عظیم الشان پیغام آمن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا اس کانفرنس کا مہمانی خصوصی جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر سنیٹر مولانا عبدالواسع صوبائی جنرل سیکرٹری سید آغا مولانا محمود شاہ تھے۔ اس کانفرنس کے دوران پورے چمن شہر کو جمعیت کے پرچم اور پوسٹرز سے سجایا گیا تھا کانفرنس میں انصار السلام کے نوجوانوں نے نظم و ضبط کی بہترین انتظامات کئے گئے تھے صوبائی امیر سنیٹر مولانا عبدالواسع اور دیگر مہمانوں کو جلسہ گاہ میں داخل ہونے پر تمام شرکاء کھڑے ہوکر پرتپاک استقبال کیا گیا۔اس کانفرنس کی صدارت سٹی امیر مولانا شمس اللہ نے کی نگرانی جنرل سیکرٹری سٹی چمن ڈسٹرکٹ چئیرمین حاجی آمان اللہ کر رہے تھے۔جلسے سے جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع۔ صوبائی جنرل سیکرٹری سید آغا مولانا محمود شاہ۔ مرکزی مالیات سیکرٹری مولانا صلاح الدین ایوبی ۔ مولانا داد محمد ۔ مولانا عبدالمنان ۔مفتی محمد قاسم۔ مولانا حافظ محمد یوسف۔ حافظ گل ۔ مولانا محمد میر۔ مولانا عبدالخالق خادم۔حاجی جلیل۔ حاجی عطاء اللہ خان اچکزئی ۔ عبدالوارث جانثار اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ اس کانفرنس کے سٹیج سیکرٹری اور سٹیج کمیٹی کے سربراہ عبدالقادر مسلم یار نے سر انجام دیا۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں حکومت امن و امان میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں اب مدارس کو نوٹسز کے ذریعے زیر تاب لانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے انکو معلوم ہوتا چاہیے کہ مدارس جمعیت علماء اسلام کے ریڈ لائن ہے چمن میں جاری بدامنی بیروزگاری کی وجہ سے عوام تنگ آچکے ہیں اور پاک افغان بارڈر کی بندش سے ہزاروں افراد نان شبینہ کے محتاج ہیں مقررین نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان اپنے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کریں دریں اثناء چمن کے سنئیر صحافی سید سردار محمد خوندئی کو مولانا عبدالواسع نے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ بلوچستان حکومت اور مقتدرہ اپنے لئے آئے روز نہیں مشکلات پیدا کر رہے ہیں مدارس کو چھیڑنا اس ملک اور صوبے کی بدقسمتی ہے مائنز اینڈ منرل بل سمیت قومی اسمبلی اور سینیٹ سے مدارس کے حوالے سے پاس شدہ بل پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ہمارے پاس شدید احتجاج شروع کرنے کے علاوہ دوسرا راستہ نہیں جو ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے حکومت صوبے میں جاری بدامنی عام شاہراہوں میں سفر محفوظ بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں وہاں پر ناکامی چھپانے کے لئے اب مدارس پر حملہ آور ہے جو قابل افسوس ہے لاکھوں ایکڑ زمین الاٹمنٹ کردی گئی ہے جسکی ہم بھرپور انداز سے مذمت کرتے ہوئے تمام اضلاع کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ 2 مئ تک ہمارے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں بھرپور احتجاج کے لئے تیاری کریں۔