پاکستان کی “ناقابلِ گرفت” منشیات فروش خاتون اور غیر مساوی انصاف کا بحران

عاصم صدیقی (واشنگٹن ڈی سی)

کراچی — “پنکی” کے نام سے مشہور انمول کی گرفتاری نے پورے پاکستان میں شدید عوامی غصے کو جنم دیا ہے اور ایک بار پھر ملک میں کرپشن، سیاسی اثر و رسوخ، اور انصاف کے غیر مساوی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

میڈیا حلقوں میں پاکستان کی سب سے نمایاں خاتون منشیات فروش قرار دی جانے والی پنکی کا کیس اب اس نظام کی علامت بنتا جا رہا ہے جسے عوام کا ایک بڑا طبقہ شدید طور پر جانبدار اور طاقتور طبقے کے زیرِ اثر سمجھتا ہے۔ عوامی تاثر یہ ہے کہ بااثر افراد قانون سے بچ نکلتے ہیں جبکہ عام شہری معمولی جرائم پر فوری اور سخت کارروائی کا سامنا کرتے ہیں۔

پولیس رپورٹس اور مقامی میڈیا کے مطابق، پنکی مبینہ طور پر کئی برسوں سے ایک منظم منشیات نیٹ ورک چلا رہی تھی، جو ڈیجیٹل ایپس اور ڈلیوری سسٹم کے ذریعے کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے پوش علاقوں اور یونیورسٹی حلقوں میں کوکین اور دیگر منشیات فراہم کرتا تھا۔

رپورٹس کے مطابق، تقریباً 10 مقدمات اور متعدد گرفتاری وارنٹس کے باوجود، قانون نافذ کرنے والے ادارے برسوں تک اسے سزا دلوانے میں ناکام رہے۔ ناقدین کا الزام ہے کہ پولیس اور بعض سیاسی حلقوں میں موجود بااثر عناصر رشوت، اثر و رسوخ اور ادارہ جاتی ملی بھگت کے ذریعے اس کے نیٹ ورک کو تحفظ فراہم کرتے رہے۔

صورتحال اس وقت ڈرامائی رخ اختیار کر گئی جب میڈیا دباؤ اور عوامی ردِعمل کے بعد حکام کو کارروائی پر مجبور ہونا پڑا۔ کراچی کے علاقے گارڈن میں واقع ایک لگژری اپارٹمنٹ پر چھاپے کے دوران پولیس نے مبینہ طور پر بھاری مقدار میں کوکین، منشیات تیار کرنے میں استعمال ہونے والے کیمیکل مواد، اور غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا۔

تاہم اصل تنازع گرفتاری کے بعد سامنے آیا۔

ٹی وی فوٹیج اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ پنکی کو بغیر ہتھکڑی عدالت لایا گیا۔ وہ ڈیزائنر چشمہ پہنے، موبائل فون استعمال کرتے ہوئے، اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ غیر رسمی انداز میں گفتگو کرتی دکھائی دی۔ ان مناظر نے ملک بھر میں شدید ردِعمل کو جنم دیا۔

بہت سے پاکستانیوں کے لیے یہ تضاد ناقابلِ نظرانداز تھا۔

ایک ایسے ملک میں جہاں روٹی یا معمولی اشیاء چوری کے الزام میں غریب افراد کو ہتھکڑیوں میں جکڑ کر عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے، وہاں ایک مبینہ ہائی پروفائل منشیات فروش کو دی جانے والی مبینہ “وی آئی پی پروٹوکول” نے عوامی غصے اور دوہرے معیار کے الزامات کو مزید بڑھا دیا۔

شدید عوامی دباؤ کے بعد سندھ کے وزیرِ داخلہ اور کراچی پولیس کی اعلیٰ قیادت کو ردِعمل دینا پڑا۔ کئی پولیس افسران کو معطل کیا گیا جبکہ ایس او پیز کی خلاف ورزی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی تحقیقات کے احکامات جاری کیے گئے۔

تاہم لاکھوں پاکستانیوں کے نزدیک یہ معاملہ صرف ایک مجرمانہ کیس نہیں بلکہ اداروں پر عوامی اعتماد کے گہرے بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ عوام کا ایک بڑا طبقہ سمجھتا ہے کہ ملک میں انصاف، شفافیت اور میرٹ کا نظام کمزور پڑ چکا ہے۔

دنیا کے بڑے شہروں میں شمار ہونے والا کراچی آج بھی سیاسی مداخلت، کرپشن اور کمزور قانون نافذ کرنے والے ڈھانچے کے مسائل سے دوچار ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک ادارہ جاتی اصلاحات اور حقیقی احتساب نہیں ہوگا، انصاف کے نظام پر عوامی اعتماد مزید کمزور ہوتا جائے گا۔

“پنکی” کا کیس اب صرف ایک پولیس کارروائی نہیں رہا بلکہ یہ پاکستان میں طاقت، مراعات اور یکساں انصاف کے حوالے سے ایک قومی بحث کی شکل اختیار کر چکا ہے۔