پاکستان کی ثالثی اور خلیج بحران: کیا امریکہ پیچھے ہٹ رہا ہے؟

پاکستان کی ثالثی : کیا پاکستان نے امریکہ کو خلیج سے نکال دیا؟

میاں افتخار احمد

پاکستان، امریکہ، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کئی اہم پیش رفتوں کا نتیجہ ہے۔ ان میں سب سے نمایاں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ستمبر 2025 میں طے پانے والا اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ ہے، جس کے تحت 11 اپریل 2026 کو پاکستانی فضائیہ کے جدید لڑاکا طیارے اور معاون اثاثے سعودی عرب کے مشرقی سیکٹر میں واقع کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پر پہنچ گئے۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق یہ تعیناتی مشترکہ فوجی ہم آہنگی بڑھانے اور آپریشنل تیاریوں کو بہتر بنانے کے لیے کی گئی ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی تعاون کا حصہ ہے۔ اس معاہدے کی ایک شق یہ بھی ہے کہ کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکہ اور اسرائیل نے اٹھائیس فروری دو ہزار چھبیس کو ایران کے خلاف آپریشن مڈنائٹ ہیمر شروع کیا، جس میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں متحدہ عرب امارات سب سے زیادہ متاثر ہوا پہلے 48 گھنٹوں 165 بیلسٹک اور کروز میزائل کے ساتھ 600 ڈرون لانچ کیے گئے، اور کل حملوں میں سے63 فیصد نے متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنایا۔ قطر کی ایل این جی سہولیات بھی متاثر ہوئیں، جو عالمی سپلائی کا بیس فیصد ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں خلیجی ممالک نے جی سی سی کے ہنگامی اجلاس میں اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق91 کا حوالہ دیتے ہوئے اجتماعی خود دفاع کے لیے تیاری ظاہر کی اور مشترکہ فضائی دفاعی نظام فعال کر دیے۔ مختلف تھنک ٹینکس نے اس صورتحال پر گہرائی سے تجزیہ کیا ہے۔ گلف ریسرچ سینٹر کے چیئرمین عبدالعزیز ساگر کے مطابق ایرانی میزائلوں کے گرنے سے خلیجی ممالک کے لیے غیرجانبداری کا آپشن ختم ہو گیا اور وہ اب امریکہ کے ساتھ کھل کر اتحاد کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک کو اب اپنی سلامتی کے لیے دوہری حکمت عملی اپنانا ہوگی ایک طرف امریکہ کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا اور دوسری طرف چین اور روس کے ساتھ بھی دفاعی تعاون بڑھانا تاکہ کسی بھی صورت حال میں ان کا دفاعی نظام مفلوج نہ ہو۔ ڈیفنس پرائرٹیز کی جینیفر کاوناگ نے کہا کہ خلیج میں امریکی اڈے اب تحفظ کے بجائے ایران کے لیے حملے کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اڈے اتنی بڑی تعداد میں پھیلے ہوئے ہیں کہ ان کا موثر دفاع کرنا ناممکن ہو گیا ہے اور ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بیک وقت کئی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کی سحر خان نے تجزیہ کیا کہ خلیجی ممالک اب امریکہ پر مکمل انحصار چھوڑ کر اپنے دفاع کی ذمہ داری خود اٹھانا چاہتے ہیں اور چین و روس کے ساتھ تعلقات بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مثال سب سے آگے ہے جس نے امریکہ پر انحصار کم کر کے چین کے ساتھ سی پیک جیسے منصوبے شروع کیے اور سعودی عرب کے ساتھ اپنا الگ دفاعی معاہدہ کیا۔ دی نیشنل انٹرسٹ کے جوشوا یافے نے پانچ اہم نکات پیش کیے خلیجی ممالک ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے نفاذ کے لیے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے، آبنائے ہرمز تک رسائی کے لیے کثیرالجہتی سیکیورٹی معاہدے کا مطالبہ کریں گے، ابراہم معاہدوں کی توسیع پر بات چیت معطل کر دیں گے، اپنی ہائی ٹیک دفاعی خریداریاں امریکہ سے ہٹا کر یورپی کمپنیوں کی طرف کریں گے۔ انہوں نے پانچویں نکتے کے طور پر یہ بھی کہا کہ خلیجی ممالک اپنے تیل اور گیس کے معاہدوں میں ڈالر کی بجائے مقامی کرنسیوں یا یوآن کو شامل کرنا شروع کر دیں گے جس سے امریکی معیشت کو شدید دھچکا پہنچے گا۔ چائنا یو ایس فوکس میں شائع ایک تجزیے کے مطابق امریکہ کی حکمت عملی جسے ہیجیمنی اون دی چیپ کا نام دیا گیا ہے ناکام ہو چکی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت امریکہ نے اپنے علاقائی اتحادیوں خاص طور پر اسرائیل کو اپنا پراکسی بنا کر مشرق وسطیٰ میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کی کوشش کی تھی جبکہ بھاری فوجی تعیناتی سے گریز کیا گیا تھا۔ لیکن ایران کے خلاف جنگ نے ثابت کر دیا کہ یہ سستا ہیجیمنی ماڈل کام نہیں کرتا۔ ایرانی قیادت کے خاتمے کے باوجود ایرانی معاشرے میں قوم پرستی کا جذبہ مضبوط ہے اور خامنہ ای کی موت نے عوام کو متحد کر دیا ہے بجائے اس کے کہ حکومت کمزور ہو۔ کارنیگی اینڈوومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے ماروان معشر نے لکھا کہ ایران کے ساتھ جنگ نے خلیجی ممالک کی کمزوری اور بے نقابی کو ظاہر کر دیا ہے۔ نہ ابراہم معاہدے اور نہ ہی امریکی فوجی اڈے انہیں تحفظ فراہم کر سکے۔ ان کے مطابق اب خلیجی ممالک کے درمیان اتحاد ٹوٹ سکتا ہے کیونکہ سعودی عرب فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کے ساتھ معمول پر آنے کے لیے تیار نہیں جبکہ متحدہ عرب امارات نے ابراہم معاہدوں کے تحت اسرائیل سے تعلقات کو فلسطینی مسئلے سے الگ کر رکھا ہے۔ معشر نے یہ بھی کہا کہ خلیجی عوام اب اپنی حکومتوں سے سوال کریں گے کہ اگر امریکی اڈے انہیں ایران سے نہیں بچا سکے تو پھر ان اڈوں کا وجود ہی کیوں ہے اور ان پر اتنے اربوں ڈالر کیوں خرچ کیے جا رہے ہیں۔
سوشل یورپ میں جیمز کے گالبریتھ نے انتہائی اہم تجزیہ پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق نومبر 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایک نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹجی جاری کی تھی جس میں مشرق وسطیٰ سے علیحدگی اور عدم مداخلت کی پالیسی کی واضح وضاحت تھی، لیکن محض3 ماہ بعد ہی28 فروری 2026 کو ایران پر حملہ کر دیا گیا۔ گالبریتھ کے مطابق اس وسیع فرق کی 3ممکنہ وضاحتیں ہیں پہلی، امریکی حکومت اب واقعی کوئی اسٹریٹجی تیار کرنے اور اس پر عملدرآمد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی؛ دوسری، ایک خاموش بغاوت کے ذریعے کوئی اور گروپ ٹرمپ کو محض ایک علامتی سربراہ بنا کر حکومت چلا رہا ہے؛ تیسری، امریکہ آخرکار اسی نومبر 2025 کی اسٹریٹجی پر واپس آئے گا لیکن ایک تلخ شکست، معاشی نقصان اور اتحادیوں کے خاتمے کے بعد۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی اڈے جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور آبنائے ہرمز مغربی جہاز رانی کے لیے بند ہے، اور امریکہ کو خلیج سے ہمیشہ کے لیے نکال دیا گیا ہے چاہے واشنگٹن اسے تسلیم کرے یا نہ کرے۔ گالبریتھ نے یہ بھی لکھا کہ امریکہ کی اس شکست کا موازنہ ویت نام اور افغانستان سے کیا جا سکتا ہے لیکن یہ اس سے بھی بڑی شکست ہے کیونکہ اس بار امریکہ نے براہ راست جنگ لڑی اور اسے اپنے اتحادیوں کی حمایت بھی حاصل تھی پھر بھی وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ ان کے مطابق اس شکست کے بعد امریکہ کے عالمی کردار میں بنیادی تبدیلی آئے گی اور وہ اب کسی بھی خطے میں اتنی بڑی فوجی مداخلت کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔
پاکستان کی ثالثی اس صورتحال میں ایک نیا موڑ ہے۔ آٹھ اپریل 2026 کو ٹرمپ کی فوجی کارروائی کی ڈیڈ لائن سے صرف ڈیڑھ گھنٹہ پہلے پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران نے جنگ بندی اور دس اپریل سے اسلام آباد میں مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ ایرانی سفیر نے پاکستان کی ثالثی کو مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیا۔ پاکستان کے سابق سفیر مسعود خان نے کہا کہ یہ جنگ پوری عالمی معیشت کو یرغمال بنا رہی ہے اس لیے اسے مستقل طور پر ختم کرنا بہت ضروری ہے۔ تاہم اب بھی اختلافات موجود ہیں امریکہ اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی جبکہ ایران اور پاکستان کے مطابق یہ سمجھوتے کا حصہ تھا۔ ایران نے دس نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے جس میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنا، جوہری افزودگی کے حق کی پہچان، پابندیوں کا خاتمہ اور لبنان سمیت دشمنیوں کا خاتمہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ سے اپنے تمام فوجی اڈے ختم کرے اور خطے کی سلامتی کی ذمہ داری مقامی ممالک کو سونپ دے۔ پاکستان کی اس ثالثی کے پیچھے کئی اسٹریٹجک وجوہات ہیں۔ پہلی، پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کے تحت اگر سعودی عرب ایران کے ساتھ جنگ میں شامل ہوتا ہے تو پاکستان اپنی جوہری صلاحیتوں کو سعودی عرب کو فراہم کرنے پر مجبور ہو جائے گا جس سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو جائے گی اس لیے فعال ثالثی اس مخمصے سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔ دوسری، پاکستان کی معیشت خلیجی تیل پر منحصر ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں جس سے پاکستان کا ماہانہ درآمدی بل نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ تیسری، پاکستان کا تاریخی تجربہ اسے ثالثی کے لیے موزوں بناتا ہے ۔1971 میں اس نے ہنری کسنجر کو بیجنگ کا خفیہ دورہ کروایا تھا جس نے نکسن کے چین کے دورے کی راہ ہموار کی، اور 2020 میں اس نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کروائے تھے۔ چوتھی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا امریکہ کے ساتھ طویل فوجی تعاون ہے اور جنرل عاصم منیر کی ٹرمپ کے ساتھ ذاتی دوستی ہے، جبکہ ایران کے ساتھ پاکستان کی ایک ہزار کلومیٹر طویل سرحد ہے اور اس کی دو چالیس ملین آبادی کا پانچواں حصہ شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ پانچویں وجہ یہ ہے کہ پاکستان خود بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بری طرح متاثر ہوا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اس کی مغربی سرحد پر مزید بدامنی پھیلے۔
چین کا کردار بھی اہم ہے۔ 31 مارچ 2026 کو پاکستان کے نائب وزیراعظم دار نے ایمرجنسی دورہ چین کیا اور دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر پانچ نکاتی اقدام جاری کیا فوری جنگ بندی، مذاکرات کا فوری آغاز، غیر فوجی اہداف اور شپنگ لینز کا تحفظ، اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو فوقیت دینا۔ چین کی جانب سے یہ پانچ نکاتی اقدام پاکستان کی ثالثی کے لیے ایک مضبوط سیاسی حمایت تھی۔ چین نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اس ثالثی کی کامیابی کے لیے اپنے تمام سفارتی اور اقتصادی وسائل بروئے کار لائے گا۔ سچوان یونیورسٹی کے پاکستان ریسرچ سینٹر کی رپورٹ کے مطابق یہ علاقائی طاقت اور عالمی طاقت کے درمیان تعاون کی ایک مؤثر مثال ہے جس نے پاکستان کی ثالثی کی قانونی حیثیت اور اثر و رسوخ کو بہت بڑھا دیا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے تھنک ٹینکس کا کہنا ہے کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی ایک قیمتی موقع ہے لیکن یہ صرف طوفان سے پہلے کی عارضی خاموشی بھی ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ کی سفارتی طرز غیر متوقع ہے، ایران دھوکہ دہی کے بارے میں شدید چوکس رکھتا ہے خاص طور پر جب ان کے سپریم لیڈر کو حملوں میں شہید کر دیا گیا ہو، اور اسرائیل ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور مذاکرات کو ناکام بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسرائیل نے تو عوامی طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے کا پابند نہیں ہو گا جو ایران کو جوہری پروگرام جاری رکھنے کی اجازت دے۔ عرب نیوز کے مطابق اگرچہ پاکستان کی ثالثی نے جنگ بندی کرانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے لیکن گہرا عدم اعتماد، متضاد مطالبات اور جاری علاقائی کشیدگی اس نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ امریکی تھنک ٹینکس نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو پھر خطے میں ایسی جنگ چھڑ سکتی ہے جس کے نتائج کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہو گا۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اور امریکہ ایران کے درمیان ثالثی کر کے اپنی سفارتی اور فوجی اہمیت کو بین الاقوامی سطح پر منوایا ہے۔ امریکہ کی ہیجیمنی اون دی چیپ کی حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے اور اسے خلیج میں اپنی موجودگی پر نظر ثانی کرنی پڑ رہی ہے۔ خلیجی ممالک اب اپنے دفاعی اتحاد میں تنوع پیدا کرنا چاہتے ہیں اور چین، روس اور پاکستان جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات یہ طے کریں گے کہ یہ جنگ بندی مستقل امن میں بدلتی ہے یا محض ایک عارضی وقفہ ثابت ہوتی ہے۔ اگر یہ ثالثی کامیاب ہو جاتی ہے تو پاکستان اسلامی دنیا اور عالمی سطح پر اپنی آواز کو مزید بلند کر سکے گا اور مستقبل میں کسی بھی بڑے بین الاقوامی تنازع میں ثالثی کی دعوت دی جائے گی۔ لیکن اگر ناکام ہوتی ہے تو مشرق وسطیٰ ایک بار پھر ایک بڑی تباہی کی طرف بڑھ سکتا ہے جس میں پاکستان کو بھی اپنی سرحدوں پر اسی تناؤ کے اثرات برداشت کرنے پڑیں گے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک بہت بڑی سفارتی آزمائش ہے اور اس کے نتائج آنے والی دہائیوں تک پورے خطے کی جغرافیائی سیاست کا تعین کریں گے۔